ناصر عباس نیّر کی تحاریر

کیا ایک ادیب کی جگہ کوئی دوسرا ادیب لے سکتا ہے؟-ناصر عباس نیّر

نئے ادیب اکثر یہ گلہ کرتے ہیں کہ مشہور ، بزرگ ادیبوں نے ان کا راستہ روکا ہوا ہے۔ وہ کب جگہ خالی کریں گے ،اور انھیں ہر اہم ادبی میلے، کانفرنس،سیمینار، ادبی انعامات کی جیوری میں شامل ہونے کا←  مزید پڑھیے

غالب کی شاعری اور معنی کی افزائش پیہم/ناصر عباس نیّر

غالب کا شعری تخیل کسی ایک اسلوب کی تنگنائے میں قید ہوناپسند نہیں کرتا تھا ۔ان کی شاعری کا سب سے بڑا امتیاز،معنی کو گردش ِپیہم میں رکھنا ہے۔ اس کے لیے کوئی ایک اسلوب ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ایک←  مزید پڑھیے

تخلیق کار کا المیہ اور مفروضہ رسوائی/ناصر عباس نیر

کچھ المیے عام انسانی زندگی کے ہیں ۔کچھ کا تعلق انسانوں کی تخلیقی زندگی سے ہے۔ ان میں ایک المیہ یہ ہے کہ اکثر تخلیق کار اپنے ابتدائی،تشکیلی دنوں میں شعلہ جوالہ ہوتے ہیں۔ بے خوف ومصلحت ، وہ سب←  مزید پڑھیے

سلطان غلام باہو کے مکتوبات کا ردّنوآبادیاتی تجزیہ / ناصر عباس نیّر

سلطان غلام باہو(۱۹۱۳۔۔۔۔۲۰۰۱)، دامان، ضلع ڈیر اسماعیل خان میں مقیم صوفی بزرگ تھے۔ان کا تعلق ممتاز صوفی شاعر سلطان باہو کے خانوادے سے تھا۔ سلطان ناصر ،ان کے پوتے ہیں اور خود ایک صاحب ِ مطالعہ ادیب وشاعر ہیں۔ ۔انھوں←  مزید پڑھیے

میرا داغستان جدید(3)-ناصر عباس نیّر

’’کسی بستی کا ایک شخص بھی دکھی ہو،اور پوری بستی کے ضمیر میں خلش نہ ہو تو یہ وقت، ماتم اور ملامت کا ہے۔ اپنی ڈائری سے :میں ڈائری میں ہر بات درج نہیں کرتا۔صرف وہ بات درج کرتا ہوں،←  مزید پڑھیے

پروفیسر سرور الہدی صاحب کے مراسلے کے جواب میں۔/ناصر عباس نیّر

کل برادرم سرور الہدی صاحب نے اپنی فیس بک وال پر میرے نام ایک مراسلہ لکھا ۔ وہ اس مراسلے کو مکالمہ بنانا چاہتے ہیں: وقت کے مسئلے پر۔ میں خود کو اس قدیمی، ازلی ، پیچیدہ مسئلے پر گفتگو←  مزید پڑھیے

’’فریاد کی کوئی لے نہیں ہے‘‘: غالب انسٹی ٹیوٹ ،دہلی کا عالمی سیمینار/ناصر عباس نیّر

اس بار غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی نے غالب ہی کے ایک مصرع کو اپنے سالانہ سیمینار کا عنوان بنایا۔برادرم سرورالہدیٰ ، اس شعر کی مشکلات کا ذکر اپنی تحریر میں کرچکے ہیں۔ حالاں کہ بہ ظاہر یہ آسان شعر←  مزید پڑھیے

مصنوعی ذہانت پر پہلی قومی کانفرنس/ناصر عباس نیر

سماج ہی نہیں، ادب میں بھی ایک طبقہ نئے نظریات، نئی ٹیکنالوجی ، نئی صورتِ حال کے ضمن میں ڈر اور انکار کی حالت میں رہتا ہے۔ وہ ایک سیل کو بڑھتے دیکھتا ہے،مگر اسے سراب یا سازش یا دونوں←  مزید پڑھیے

’’ روح کے جنگل کی آگ: میرا داغستان جدید‘‘(2)-ناصر عباس نیّر

ابوطالب اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے بیٹھ کر یاد کرتا کہ اسے پتھر ایک لگا تھا، زخم دو جگہ لگے۔ وہ ماتھے پر ہاتھ پھیرتا۔ اس زخم پر کھرنڈ جم گیا تھا۔ درد بھی جاتا رہا تھا۔بس اس کی←  مزید پڑھیے

میرا داغستان جدید: رسول حمزہ توف کی روح سے معذرت کے ساتھ/ناصر عباس نیّر

ابوطالب نے کہا: جب مجھ پر ایک نیا پتھر پڑا، اور میں نے آس پاس دیکھا تو میں تنہا تھا۔ میں نے آس پاس اس لیے دیکھا کہ جب میں گھوڑے پر سوار آوار کی وادی میں گیت گاتا چل←  مزید پڑھیے

میرؔ کی وحشت پر ایک نوٹ/ناصر عباس نیّر

’’کھینچتا ہے دلوں کو صحرا کچھ’’ تنہائی کا ایک اپنا ، جداگانہ آہنگ ہوا کرتا ہے۔ یہ آہنگ، ان اشعار میں خاص طور پر ہے، جن میں میر نے جنون اور وحشت پر لکھا ہے۔میر کہتے ہیں: ’’آگے ہمارے عہد←  مزید پڑھیے

سعیدہ گزدر: آگ گلستاں نہ بنی/ناصر عباس نیّر

سعیدہ گزدر عرصے سے خاموش زندگی بسرکررہی تھیں۔ ان کے انتقال پر بھی ، دو چار کلمات رنج وافسوس کے سوا،اردو دنیا میں خاموشی طاری رہی ہے….. سنگین وسفاک خاموشی۔ حالاں کہ سعیدہ گزدر کا مسلک خاموشی نہیں تھا۔ان کا←  مزید پڑھیے

میں کس سے پناہ مانگوں؟-ناصر عباس نیّر

’’ملا ، آ پ گھبراکیوں رہے ہیں؟ میں آ پ کے لیے اجنبی تو نہیں ہوں۔ آ پ ہزاروں بار میرے بارے میں لوگوں کو بتا چکے ہیں،اور اس تفصیل اور اعتماد سے کہ جیسے میری ایک ایک رگ سے←  مزید پڑھیے

’’ بھیڑیاآیا’’:کیامحض ایک اخلاقی کہا نی ہے ؟-ناصر عباس نیّر

ہم سب نے بچپن میں ’’بھیڑیا آیا ،بھیڑیاآیا‘‘ کی کہانی سنی یا پڑھی ہے۔بعض جگہ بھیڑیے کی جگہ شیرہے۔ اسے ایک اخلاقی کہانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ ایک اخلاقی سبق کے علاوہ بھی بہت کچھ←  مزید پڑھیے

اسلم انصاری؛الوداع/ناصر عباس نیّر

ہاروکی موراکامی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ موت ، زندگی کی ضد نہیں ہے، بلکہ اس کا حصہ ہے‘‘۔ جو دنیا سے چلاجاتاہے، وہ ہماری زندگیوں میں پہلے سے زیادہ شامل ہوجاتا ہے۔ ہم جیتے جی ، جن←  مزید پڑھیے

ہم کن لوگوں کے لیے لکھتے ہیں؟ -ناصر عباس نیّر

ترک نوبیل انعام یافتہ اورخان پاموک ، اپنے ناول “سرخ میر انام ” میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ وہ مصور جو اپنے ناظرین ین کے ممکنہ ردّعمل کو سامنے رکھتا ہےاور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھتا ہے←  مزید پڑھیے

روشنی، تاریکی اور دانائی/ناصر عباس نیر

’’جوذہن ایک بار روشنی کا تجربہ کرتا ہے، وہ تاریکی کی طرف نہیں لوٹ سکتا‘‘۔ یہ بات الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ عام طورپر کہی جاتی ہے۔ مثلاً کہاجاتا ہے کہ جو ایک بار نروان، روحانی بلندی، اخلاقی تزکیہ ،←  مزید پڑھیے

سماجی جگہوں پر قبضے کی جنگیں/ناصر عباس نیّر

ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں جنگیں دو طرح کی رہی ہیں اور اس وقت بھی جاری ہیں۔ زمینوں اور ذہنوں پر قبضے کی جنگیں۔ زمین اور ذہن دونوں وسائل سے مالامال ہیں۔ انھیں چھیننا، ان پر قبضہ کرنا،←  مزید پڑھیے

شاعری اپنی طرز کی کوزہ گری ہے/ناصر عباس نیر

کوزہ گری فن ہے۔کمہار اور شاعر دونوں فن کار ہیں۔ کمہار کے لیے مٹی ، لفظ کی طرح ہے اور شاعر کے لیے لفظ مٹی کی مانند۔دونوں اپنے مواد کو صورت میں ڈھالنے سے پہلے، اس کا لمس محسوس کرتے←  مزید پڑھیے

شاعری نسل انسانی کی مادری زبان ہے/ناصر عباس نیّر

اٹھارویں صدی میں جارج ہمن ( Johann Georg Hamann(۱۷۳۰-۱۷۸۸)نام کے ایک جرمن فلسفی گزرے ہیں۔وہ ایما نوئیل کانٹ کے ہم عصر تھے،اور اس کے فلسفے کے نقاد بھی تھے۔وہ خدا،عیسیؑ ، عیسائیت، خیر وشر کے ساتھ حسن وسچائی کو جاننے←  مزید پڑھیے