گل بخشالوی کی تحاریر

فروری کو ہی یوم ِ یکجہتیءکشمیر کیوں ؟۔۔گل بخشالوی

5 فروری کا دن پاکستان کے طول و عرض میں سیاسی اور مذہبی جما عتیں مقبوضہ کشمیر میں بسنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر منا تی ہیں ۔کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف پاکستان میں احتجاجی←  مزید پڑھیے

ہم شاعر ہیں، تیرا علاج شاعری کے ویکسین سے کریں گے(مشاعرے کی روداد)۔۔ گل بخشالوی

مشاعر ے کو ہم اردو ادب کا کہکشاں کہیں گے ،اس لئے کہ مشاعروں میں شعراءکے حسن ِ خیال اور حسن ِ کلام میں ایک الگ تہذیب جنم لیتی ہے۔ مشاعرے کو ہم شعراءکی ایک مجلس بھی کہہ سکتے ہیں←  مزید پڑھیے

صحافت کی منی بدنام تو کیا نیلام ہو گئی ہے۔۔گل بخشالوی

گزشتہ دنوں جب میں پریس کلب میں شامل ہوا تو ایک دوست نے سوال کیا کہ پریس کلب کیا ہے اور اس کے بنیادی مقاصد کیا ہیں ،وہ جانتے تھے لیکن مجھ سے کہلوانا چاہتے تھے، پریس کلب کا بنیادی←  مزید پڑھیے

کہیں کوفی نہ کہلائیں۔۔گل بخشالوی

بھارت کے مسلمانو!چلوآؤ ملیں، مل کر چلیں کشمیر میں ،کشمیریوں کا حال تو پوچھیں سنا ہے کہہ رہے ہیں وہ مسلماں تم ،مسلماں ہم تو پھر یہ بے حسی کیسی؟ تمہیں کہتے ہوئے ہر روز سنتے ہیں اٹوٹ انگ ہم←  مزید پڑھیے

صدام کو توقع تھی کہ انھیں پھانسی نہیں دی جائے گی۔۔گل بخشالوی

پارلیمانی جمہوریت اور دنیائے اسلام کی عظمت کے علم بردار ذولفقار علی بھٹو نے مسلم امہ کے اتحاد اور ایک لیٹ فارم پر لانے کےلئے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ نظر انداز نہیں کر سکی ۔ 22 فروری 1974←  مزید پڑھیے

ظہیر الدین بابر:بحیثیت بادشاہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں یا بحیثیت شاعر و ادیب؟(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔گل بخشالوی

ممتاز کالم نگار( بی بی سی دہلی) مرزا اے بی بیگ لکھتے ہیں کہ انگریزی کے معروف ناول نگار ای ایم فوسٹر لکھا ہے کہ جدید سیاسی فلسلفے کے موجد میکیاویلی نے شاید بابر کے بارے میں نہیں سنا تھا←  مزید پڑھیے

ظہیر الدین بابر:بحیثیت بادشاہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں یا بحیثیت شاعر و ادیب؟(حصّہ اوّل)۔۔گل بخشالوی

سٹیفن ڈیل نے اپنی کتاب ’گارڈن آف ایٹ پیراڈائز‘ یعنی ’باغ ہشت بہشت‘ میں بابر کی نثر کو ’الہامی‘ قرار دیا ہے اور اس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اس قدر براہ راست ہے جس طرح آج 500←  مزید پڑھیے

اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مجھے چند مہینوں میں مر ہی جانا ہے۔۔گل بخشالوی

بی بی سی دہلی کے کالم نگار ریحان فضل نے پہلی مسلم خاتون وزیر ِ اعظم کی حیات و شہادت پر اپنے کالم میں لکھا ہے کہ26 دسمبر 2007 کی رات جب بے نظیر بھٹو ایک لانگ ڈرائیو کے بعد←  مزید پڑھیے

تو میری توبہ ہے زندگی سے۔۔گُل بخشالوی

یہ زلزلے شہر روشنی کے ،بدل گئے نالہ وفغاں میں نوائے غم ہے ہر اک صدا میں مہکتی شاموں کے پھول چہرے،دھویں کے بادل میں اَٹ گئے ہیں محبتوں کی امین دھرتی میں جامِ نفرت چھلک رہا ہے سہاگ کتنے←  مزید پڑھیے