• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہم شاعر ہیں، تیرا علاج شاعری کے ویکسین سے کریں گے(مشاعرے کی روداد)۔۔ گل بخشالوی

ہم شاعر ہیں، تیرا علاج شاعری کے ویکسین سے کریں گے(مشاعرے کی روداد)۔۔ گل بخشالوی

مشاعر ے کو ہم اردو ادب کا کہکشاں کہیں گے ،اس لئے کہ مشاعروں میں شعراءکے حسن ِ خیال اور حسن ِ کلام میں ایک الگ تہذیب جنم لیتی ہے۔ مشاعرے کو ہم شعراءکی ایک مجلس بھی کہہ سکتے ہیں جہاں شعراءکرام اپنے کلام پر دادِ تحسین حاصل کرتے ہیں ۔ مشاعرہ تہذیب کے فروغ اور اس کی ترویج واشاعت کا ایک خوبصورت اور اہم ذریعہ ہے مشاعرے کی قدیمی روایت نے اردوزبان کے وقار میں اضافہ کیا ہے ،مشاعرہ اردو ادب کی ایک روشن علامت ہے ۔ مشاعرے میں جب شاعر کو اس کے کلام پر بھر پور داد ملتی ہے تو شاعر کا شعور ،خیال اور تخیل شاداب ہو جاتا ہے ۔ میں تو مشاعرے کو اپنے لئے روحانی غذا کہتا ہوں اس لئے قدرت کی دی ہوئی اپنی خوبصورت رہائش گا ہ اور خودکو اردو ادب کی شادابی کے لئے وقف کردیا ہے ۔

کھاریاں شہر کے اردو مرکز بخشالی منزل میں سال 2021کا پہلا مشاعرہ 31 جنوری کو منعقد ہوا، گزشتہ سال فروری 2020میں ماہانہ مشاعرے کے بعد کورونا کی عالمی وبا کی وجہ  سے مشاعرے کا اہتمام نہیں کیا جا سکا ۔ دوستوں سے مشورہ کیا کہ کورونا تو جانے والا نہیں اور ہم کورونا کے خوف سے اپنی روحانی غذا سے محروم ہیں اس لئے آئیں اور کورونا کو بتائیں کہ ہم شاعر ہیں اور اب ہم تیرا علاج شاعری کی  ویکسین سے کریں گے ۔دل شاد ہو تو ایسی بیماریاں قریب نہیں آتیں ،شعراءدوستوں نے ا تفاق کیا تو محدود تعداد میں کھاریاں کے گرد  و نواح کے شعراءکو مشا عرے کے لئے دعوت دی ۔ شعراءکا احسان ہے کہ انہوں نے دعوت حسب ِ سابق قبول کی اور مشاعر ے میں تشریف لا کر ادب مرکز بخشالی منزل کو رونق بخشی۔

tripako tours pakistan

دینہ سے تشریف لائے ہوئے ہمارے بزرگ لیکن دل کے جوان شاعر صدیق سورج کی صدارت میں گجرات کے ڈاکٹر احسان گھمن مہمان خصوصی تھے ،مشاعرے کے واحد سامع بھمبر آزاد کشمیر سے تشریف لائے ہوئے اعجاز احمد ایڈووکیٹ مہمان ِ اعزاز تھے ، نظامت کے فرائض ریڈیو ایف ایم ۷۹ کے پروگرام منیجر نوجوان شاعر کلیم ضیاءنے سر انجام دیے ، اور مشاعرے کے مہتمم گل بخشالوی نے شعراءکو خوش آمدید کہا ۔شعراءکرام میں امجد میر، پروفیسر ارشد شاہین ، امین عاصم ، اشفاق شاہین ۔منصور فائز،عتیق الرحمان صفی، جاوید شاہد، یونس فہیم ، عثمان عبدالقیوم ،راشد منصور شامل تھے

شعراءکرام نے دل کھول کر اپنا کلام سنایا، مشاعرے کو گرمایا اور بھر پور داد ِ تحسین حاصل کی۔ مہمان خصوصی کے بعد مشاعرے کے مہمانِ اعزاز نے اپنے اظہا رِ خیال میں کہا کہ میں شاعر تونہیں لیکن مشاعرہ پرست ضرور ہوں، میں نے سنا تھا کہ قلم قافلہ کے زیرِ اہتمام مشاعر وں کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے تو میں کہوں گا کہ جو سنا تھا غلط نہیں تھا بڑا لطف آیا، شعراءنے ایسے کمال کا کلام سنایاکہ تھکاوٹ دور ہوگئی۔ صاحب صدر کے کلام اور اظہار ِ خیال کے بعد گل بخشالوی نے معزز شعراءکی تشریف آور ی پر ان کا شکریہ ادا کر تے ہوئے کہا کہ ان شاءاللہ ہر ماہ کے آخری ہفتے کے دن مشاعرے کا اہتمام ہو گا اس طرح نیک تمناؤں کے ساتھ مشاعرے کے اختتام پر شعراءکرام دسترخوان پر آئے اور گرم گرم حلیم کھائی اور پشاوری قہوہ  پی کر رخصت ہو گئے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *