Ghulam Qadir Choudhry کی تحاریر
Ghulam Qadir Choudhry
Ghulam Qadir Choudhry
​غلام قادر سیالکوٹ میں مقیم ایک نوجوان جو اپنے آپ کو لکھاری سے زیادہ ادب کے طالب علم کہتے ہیں۔ واجبی سی تعلیم، ایک چھوٹا سا کاروبار اور ادب سے ڈھیر دلچسپی۔ کالج میگزین میں بھی لکھتے رہے۔ سیالکوٹ کے مقامی جریدے میں بھی ان کے کچھ مضامین چھپ چکے ہیں۔ مثبت تنقید اور اختلاف رائے کو فریق مخالف کا حق سمجھتے ہیں۔​

دوسری ادبی بیٹھک۔۔۔غلام قادر

     لائبریری اگرچہ ایک پرسکون گوشہ ہوتی ہے، جہاں لوگ مطالعہ کرنے جاتے ہیں۔ کتابیں لینے یا دینے جاتے ہیں۔ تقریباً ہر لائبریری میں باتیں کرنا، شور کرنا ممنوع ہوتا ہے۔      لیکن پھر بھی کچھ دیوانے لائبریری میں←  مزید پڑھیے

ادب اور ادیب۔۔۔غلام قادر چوہدری

    آپ جیسے اہل علم و ادب کی موجودگی میں کوئی بات کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے۔ لیکن      کچھ تو کہیے کہ لوگ کہتے ہیں       آج غالب غزل سرا نہ ہوا۔۔۔ کے←  مزید پڑھیے

تبصرہ ء کتب/حبس از ڈاکٹر حسن منظر۔۔۔۔۔غلام قادر

” حبس ” نام ہے اس خونچکاں تحریر کا جو برسوں پر پھیلی ہوئی ناانصافی کا المیہ ہے۔ جو مغرب کے دوہرے معیار کی آئینہ دار ہے۔ جب مغربی استعمار کو یہود پر ہونے والے ہولو کاسٹ کا کفارہ ادا←  مزید پڑھیے