گذشتہ کالم میں سرِ راہے ایک جملہ سرزد ہوا ”خوشبو ساری خیال کی ہے“ کامران شاہین کہ شاعر ابنِ شاعر ہیں، یہ جملہ سن کر اچھل پڑے۔ کہنے لگے، یہ جملہ بحر میں ہے، انتہائی موزوں مصرع ہے، اس پر← مزید پڑھیے
دین کا مرکزی محور اگر اطاعتِ خداوندی، خدمتِ انسانی اور اخلاقِ محمدیؐ ہے تو نظام الدینؒ کی طریقت ہر خاص و عام کے لیے قابلِ توجہ، قابلِ تقلید اور قابلِ عمل ہے۔ اگر دین کے مرکزی خیال میں حکومت اور← مزید پڑھیے
اگلے دن صبح ہم چار ساتھی جامع مسجد دہلی کے لیے نکل رہے تھے۔ ہوٹل کی لابی میں چار معزز افراد سکیورٹی والوں کو انٹرویو دے رہے تھے کہ کہاں تک جا رہے ہیں اور کب تک واپسی ہو گی۔← مزید پڑھیے
امسال محبوبِ الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کے عرس کے موقع پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس سفر کی روحانی روداد تو عمر بھر فکری سفر کے ساتھ ساتھ چلے گی، فی الوقت یہاں سفر کے کچھ احوال← مزید پڑھیے
پنجاب یونیورسٹی سے رائے محمد شعیب شیبی کا سوال ہے ”السلام علیکم سر! میرے ایک دوست جو ایف سی یونیورسٹی میں ہوتے ہیں، ان کا سوال ہے کہ Genuine intellectual question اور وسوسے میں کیسے فرق کریں؟ اسی سے منسلک← مزید پڑھیے
اس جہانِ رنگ و بُو میں ربِّ جہاں نے جا بجا بلکہ ہر جا اپنی آیات رقم کر رکھی ہیں۔ دیدہِ بینا وا ہو تو ان کی تلاوت ہو۔ دل و دماغ حاصل و وصول کی جمع تفریق سے فارغ← مزید پڑھیے
ایک دیرینہ قاری کا سوال موصول ہوا۔ سوال انتہائی اہم ہے۔ سوال اور اس کا جواب یا پھر جواب نما تاثرات اپنے دیگر قارئین کے ذوق و شوق کی نذر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سوال ہے ”میں اللہ کے← مزید پڑھیے
کی ضیافت کے لیے میں شیخ عبداللہ میسرا کی نعت کا اردو ترجمہ کرتا ہوں۔ انگریزی میں لکھی گئی یہ نعت اتنی کیف آور ہے کہ اردو میں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ ”آج میں آپؐ کی مقدس پیدائش کا دن← مزید پڑھیے
“میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، مجھے چاہت ہوئی کہ میں پہچانا جاؤں، پس میں نے خلق کو تخلیق کیا” یہ ایک معروف حدیثِ قدسی کے الفاظ ہیں۔ تاریخِ فکرِ انسانی میں غایتِ تخلیقِ کائنات کی بابت یہ پہلا کلام← مزید پڑھیے
کبھی کبھی گیان والوں کو دھیان والوں پر بے محابا رشک آنے لگتا ہے۔ گیان والا خلق سے بھی متعلق رہنا چاہتا ہے، اور عالمِ خلق میں اپنا نام، کام اور کسب کی تختی ثبت کرنے کی ایک معصوم تمنا← مزید پڑھیے
سچی بات تو یہ ہے کہ سچوں کی بات کرنا ان ہی کا حق ہے جو سچ کے کسی منصب پر فائز ہوں۔ ہم ایسے ناکس و ناقص اس قابل ہی نہیں کہ سچ کے قافلے کے سالار کی مدح← مزید پڑھیے