عابد میر
عابد میر بلوچستان سے محبت اور وفا کا نام ہے۔ آپ ایک ترقی پسند سائیٹ حال احوال کے ایڈیٹر ہیں جو بلوچ مسائل کی نشاندھی اور کلچر کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
رات کے بارہ بج چکے ہیں اور میں گزشتہ دو گھنٹوں کی مسلسل قرات کے بعد ڈیڑھ سو صفحات کی ایک ایسی کتاب ختم کرکے بیٹھا ہوں جس نے ماضی کے کتنے ہی زخم ادھیڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ سائبر← مزید پڑھیے
مکران، بلوچستان میں حالیہ ایمرجنسی کا مرکز رہا ہے۔ مگر مکران کا حصہ گوادر ایک عرصے تک اس تحریک سے الگ تھلگ ہی رہا۔ اس کی وجوہات تاریخی بھی ہیں، سیاسی بھی اور معروضی بھی۔ مگر فی الوقت اس کا← مزید پڑھیے
سنجیدہ اس لیے کہ اب تک جتنی غیرسنجیدگی ہم نے اس معاملے میں دکھائی ہے، اس کا نتیجہ بھگت بھی رہے ہیں اور شاید مستقبل قریب میں مزید بھگتنا پڑے۔ سو آئیے اس عالمی وبا اور اپنے گھرسے متعلق چند← مزید پڑھیے
بیلہ سے کوئی تین چار کلو میٹر کے فاصلے پر مرکزی شاہراہ پر ہی جھاؤ کراس کے نام سے ایک ایف سی چوکی آتی ہے۔ یہاں سے مغرب کی جانب جھاؤ/آواران کی طرف جانے کی راہ نکلتی ہے۔ آپ یہاں← مزید پڑھیے
کہتے ہیں نئے سال میں صرف ہندسے بدلتے ہیں باقی سب تو وہی رہتا ہے۔ لیکن اس بار سال کا ہندسہ بدلتے ہی بلوچستان میں بہت کچھ ہونے والا ہے۔ عین ممکن ہے یہ “بہت کچھ” برسوں سے منجمند اس← مزید پڑھیے
بلوچستان کی نمائندہ طلبہ تنظیموں پہ مختلف تناظر سے لکھنے کا تہیہ کیا تو بی ایس او (بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے چاروں دھڑوں کا آئین پڑھنے کا ارادہ کیا تاکہ اندازہ ہو کہ ان تنظیموں کے اغراض و مقاصد میں← مزید پڑھیے
پاکستان میں اعلان کردہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات اب محض بیس دن کی دوری پہ ہیں۔ ایسے میں سیاسی پارٹیوں اور افراد کی انتخابی مہم حتمی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اقتدار میں حصہ داری← مزید پڑھیے
یہ 2009 کی بات ہے۔ میں کوئٹہ سے شائع ہونے والے قوم پرست رجحان کے حامل روزنامہ’آساپ‘ کا ایڈیٹوریل انچارج تھا۔یہ بلوچستان میں مزاحمتی تحریک کے ابھار اور اس کے خلاف کارروائیوں کے عروج کا زمانہ تھا۔اسی برس فروری میں← مزید پڑھیے
شہروں کی اپنی ایک فضا ہوتی ہے۔ کچھ شہر اپنی مخصوص علامتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ جیسے لندن کا تذکرہ ہو گا تو دریائے ٹیمز یاد آئے گا، پیرس کے ساتھ دریائے سین منسلک ہو گا۔ کراچی کا تذکرہ← مزید پڑھیے
سامراج کی ایک نمایاں علامت عوام دشمنی ہے۔یہ کبھی بھی کسی بھی صورت عوام کا اتحاد گوارا نہیں کرتا، کہ اسی میں اس کی ہلاکت کا راز پوشیدہ ہے۔سو، بیسویں صدی کے وسط میں نصف دنیا سمیت برصغیر پہ قابض← مزید پڑھیے
چیکوسلوواکیہ کی ایک مثل ہے کہ، “ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو” Learn a new language and get a new soul. یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقا سے← مزید پڑھیے