والدہ کے نام۔۔علینا ظفر

میں آئنہ ہوں وہ میرا خیال رکھتی ہے،

میں ٹوٹتا ہوں تو چُن کر سنبھال رکھتی ہے،

وہ میرے درد کو چُنتی ہے اپنی پوروں سے،

وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی ہے!

ماں سے محبت کا کوئی ایک دن نہیں ہوتا ، میں اِس بات سے بالکل اتفاق کرتی ہوں۔ میرے لئے میرا ہر دن ہی مدرز ڈے ہے۔آپ سب میری تحریریں پڑھتے ہیں اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں مگر آپ میں بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ قلمی صلاحیت مجھے میری والدہ سے ورثے میں ملی ہے۔میری والدہ محترمہ ثمرہ حمید صاحبہ، ماضی میں اپنی قلمی کاوش کو اپنائے ہوئے تھیں اور اب ہاؤس وائف ہیں۔ گھریلو مصروفیات اور ذمہ داریوں کی بِنا پر اب قلم سے اُن کی وابستگی نہیں رہی بلکہ بالکل معدوم ہو کر رہ گئی ہے۔ میرا مما سے اس بات پر بہت اصرار رہتا ہے کہ جس قلمی سلسلہ کو انہوں نے منقطع کر رکھا ہے وہ اسے دوبارہ جوڑ لیں لیکن وہ مجھے جواب میں اپنی ہزاروں گھریلو مصروفیات گِنوانے لگتی ہیں۔ میرے بے حد اور مسلسل اصرارکے نتیجے میں شاذونادر ہی سہی مگر کوئی نہ کوئی تحریر وہ لکھ لیتی ہیں جسے میں مکالمہ ویب سائٹ پر بھیج دیتی ہوں۔

میرے نزدیک اس دنیا میں ماں سے زیادہ انسان کے آرام و سکون کا خیال رکھنے والی کوئی اور ہستی نہیں ہے۔ جب میں لکھنے پڑھنے کا کام کر رہی ہوں تو اس وقت ان کی موجودگی میں کسی کو مجھ سے مخاطب تک ہونے کی بھی کی اجازت نہیں ہوتی، جب سو رہی ہوتی ہوں تو اکثر میرے کمرے کے پردے برابر کر دیتی ہیں یا دروازے اور کھڑکیوں کو اس انداز میں نیم وا رکھتی ہیں کہ تازہ ہوا بھی مجھ تک پہنچتی رہے اورسورج کی شعاعیں میری آنکھوں پہ دستک دے کر میری نیند میں مدخل نہ ہو سکیں۔ان کی محبت محض اپنی اولاد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ باقی رشتہ دار، عزیز و اقارب اور دیگر ملنے والوں کے بچوں سے بھی ایسا ہی پُر شفقت رویہ اپناتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اکثر ہمارے ہم عمر دوست اور بچے دوسروں سے اپنا اور ان کا تعارف بے حد محبت و احترام اور بڑی اپنایت سے کراتے ہیں تب مجھے بہت اچھا لگتا ہےاور مما پہ اور زیادہ فخر ہونے لگتا ہے۔

میری والدہ میری تمام تحریروں کا مطالعہ کرتی ہیں کسی تحریر میں جو چیز مجھے سمجھ نہ آ رہی ہویا کچھ پیچیدگی یا دشواری کا سامنا اور جہاں مجھے رہنمائی کی ضرورت ہو تو وہ فراہم کرتی ہیں۔ وہ میری تحریریں پڑھ کرحوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں مگر میں نے کبھی ان کی زبان سے کسی کے سامنے میری تحریروں کا یوں ذکر ہوتے ہوئے نہیں سنا کہ سننے والے کو یہ لگے جیسے اپنی اولاد کی بے وجہ دھاک بٹھائی جا رہی ہویا خواہ مخواہ کوئی رعب ڈالا جا رہا ہو۔بلکہ کسی نے انہیں کبھی اپنی قلمی صلاحیت کا تذکرہ کرتے بھی نہیں دیکھا۔ کیونکہ استادِ محترم فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کے ذہن میں بگاڑ پیدا مت کریں کہ وہ اپنے آپ کو کوئی توپ شے سمجھنے لگیں اور نہ ہی اس کی کسی غلطی کی سرزنش اس طرح کریں کہ وہ ہر معاملے میں باغی ہو جائے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بہت سی خواتین اپنی اولاد کی وہ خوبیاں بھی دوسروں کو بتا رہی ہوتی ہیں جن کی موجودگی سرے سے ان میں ہوتی بھی نہیں اور جو خصوصیات معمولی طور پہ بھی موجود ہوں انہیں بڑھا چڑھا کر بیان کر رہی ہوتی ہیں۔ اس وقت انہیں پتا بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ کیا کر رہی ہیں۔ جب آپ اپنی یا خود سے جڑے کسی بھی شخص بالخصوص اپنی اولاد کی خوبیوں کا بار بار ذکر کرتے ہیں یا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہوتے ہیں تو اتنا ہی قابلِ گرفت بن جاتے ہیں۔ خدا نخواستہ وقت پڑنے پر اسی کام میں اگر کوئی معمولی سی بھی غلطی سرزد ہو جائے تو اس کی معافی ملنے کے آثار مشکل ہی ہوتے ہیں بلکہ الٹا آپ کو ہی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ مما کی تمام تحریریں اب ان کے پاس محفوظ نہیں ہیں۔ ان کی بہت سی تحریریں کھو گئی ہیں لیکن ان کی ایک ڈائری میرے پاس موجود ہے جسے میں نے سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ ایک دن مجھے وہ ڈائری ملی تو اس میں ان کی مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی کچھ نظموں کی ایک فوٹو کاپی والا صفحہ ملا جسے میں نے گوہرِ نایاب سمجھ کر سنبھال کر رکھا ہے۔ آج مدرز ڈے پر اس میں سے “مسکراہٹ” کے عنوان پر ان کی ایک نظم آپ سے شیئر کر رہی ہوں جس کے بارے میں مما کہتی ہیں کہ یہ ان کی لکھی جانے والی پہلی نظم ہے۔
زرد زرد اور مرجھائے پتے
ہوا کے بے رحم جھونکوں سے ٹوٹ کر
خاک پر گر رہے ہیں
ان کے آنسو
کوئی نہیں دیکھ پاتا
یہ قیمتی موتی
اس مسکراہٹ کی یاد میں بہہ رہے ہیں
جو تازہ پتوں کے ہونٹوں پہ رقصاں ہے
یہ کتنی دلفریب مسکراہٹ ہے
جسے خزاں چھین لے
تو پھر وہ کبھی واپس نہیں آتی!

مما جس وقت میرے ساتھ ہی بیٹھ کر میری کوئی تحریر پڑھ رہی ہوتی ہیں تو مجھے ہمیشہ وہ دور یاد آ جاتاہے جب بچپن میں پڑھائی کے دوران وہ مجھے ہوم ورک کراتی تھیں تو میرے کورس کی کتاب ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی جس میں درج سبق کو مجھے آسان زبان میں سمجھاتی تھیں تاکہ میں اسے بہتر طریقے سے سمجھ سکوں۔آج وقت کا پہیہ کچھ یوں پھرا کہ کورس کی کتاب کی جگہ اب گیجیٹس(یعنی موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر وغیرہ) میرے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور میں ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انہیں ساتھ بٹھا کر دکھاتے ہوئے ان کی مرضی کے مطابق آپریٹ کررہی ہوتی ہوں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ یہ سب چلا نہیں سکتیں بلکہ بات ساری یہ ہے کہ میرے کئی بار کہنے کے باوجود بھی ان چیزوں میں عدم دلچسپی اور رجحان نہ رکھنے کے باعث یہ سب کام انہوں نے مجھے ہی سونپ رکھے ہیں۔ ایک کثیر تعداد میری والدہ سے محبت اور احترام کا رشتہ روا رکھے ہوئے ہےجو مجھ سے اُن کی تحریریں اپ لوڈ کرنے کا کہتی رہتی ہے ۔میں ان تمام لوگوں کے خلوص اور چاہتوں کا تہہِ دل سےشکریہ ادا کرتی ہوں۔ اللہ سب پر ہماری ماؤں کا سایہ سلامت رکھے، آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *