آٹے کا سوال ہے بابا۔۔سلیم مرزا

جس چیز کی رسد کم ہو اس کی بلاوجہ طلب بڑھ جاتی ہے میری چاول خور بیگم کے دل میں اچانک آٹے سے محبت جاگ اٹھی ۔
میں نے سمجھایا بھی کہ آٹا گوندھے بغیر بھی آپ ہل سکتی ہو ۔ہمارے ہاں آٹا پہلے بھی تو گھر سے چھ چھ دن بغیر بتائے غائب رہتا ہے ،ابھی تو فقط چوتھا روز ہے،اور ویسے بھی نہار منہ رس کا چائے سے منہ دھونا کتنا شاندار لگتا ہے ۔ رس جب چائے میں ٹوٹ کر گرتا ہے تو کترینہ کے سوئمنگ پول میں کودنے جیسی فیلنگ آتی ہے ۔
جانتی ہو پہلے بھی عشاق اسی دانہ گندم کی وجہ سے جنت سے نکالے جا چکے ہیں ۔
“نہیں انہوں نے وہاں مرزیوں جیسی حرکت کی تھی ”
میں چپ ہوگیا ،حالانکہ کہہ سکتا تھا کہ مرزا اس دور کا ماہر طبیعات تھا ۔اس نے محبت اور طبیعت کو ملا کر فزکس میں ایک نئے باب کی بنیاد رکھی ۔
مگر پی ٹی آئی میں رہ کر فردوس اعوان سے بیر کون کرے ۔؟چنانچہ منہ پہ نقاب ڈالا کہ کہیں کرونا پہچان نہ لے ۔ہاتھوں پہ پلاسٹک کے دستانے چڑھائے، ان سے ویسی ہی کمینی سی فیلنگ آئی جو پلاسٹک چڑھانے سے آتی ہے ۔
اور آٹا ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا ۔
گھر سے کلومیٹر آگے فلور مل ہے ۔آٹے کی لائن اتنی طویل اور گھتم گھتاڑ تھی اگر وائرس وہاں ہوتا بھی تو معززین میں پس کر مرجاتا ۔
وہ ایک ایسی ٹرین تھی جس کا انجن کسی دوسرے شہر کے اسٹیشن پہ پہنچ چکا تھا ۔
میں نے دوتین بار اس بین الاضلاعی لائن میں گھسنے کیلئے حوصلہ مجتمع کیا ۔
بالکل ایسے ہی جیسے سردیوں میں شاور چلا کر باتھ روم کی دیوار سے لگ کر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
“جیہڑا ہن نہ جائے ، اوہو ای ہوئے ”
قریب آدہ گھنٹہ لائن کو آگے پیچھے اوپر نیچے سروے کرنے کے بعد رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی ۔
“چاء رس ہی ٹھیک ہیں ”
ایک سگریٹ پینے تک سوچا یا، شائد سگریٹ پیتے ہوئے سوچا کہ بازار میں جگاڑ ہوتے ہیں ۔
مین بازار پہنچا تو بازار کی رونق دیکھ کر دل خوش ہوگیا ۔ایمان کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ۔لوگ پٹرول سستا ہونے کی خوشی میں موٹر سائکل کی ٹنکیوں پہ بھی بچے بٹھا لائے تھے۔
آدھا گھنٹہ گھوم کے بھی آٹا نہ ملا ایک صحافی مل گیا۔
ایسے صحافی نیگٹو خبر کے چکر میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ اپنا کرونا پازیٹو نکل آتا ۔
میں نے اسے اتنی ہی دور سے سلام کیا جتنی دور سے عمران خاں اور رؤف کلاسرا کی بحث ہوئی تھی ۔
پاکستان کی یہ واحد پریس کانفرنس تھی جس میں دونوں فریقوں کو گالیاں پڑیں ۔
اس بدخبرے صحافی نےبتایا کہ ساڑھے نو بجے ایک ٹرک آٹا لیکر آتا ہے۔
پریس کارڈ دکھا کر تجھے بنا لائن میں لگے ایک توڑا لے کر دے سکتاہوں ۔مجھے پریس کی طاقت کا اندازہ تھا، ایک بار پہلے بھی اسی صحافی نے میرے سامنے لاری اڈے کے بیت الخلاء والے کو کارڈ دکھا کر پیسے نہیں دیے تھے،
ساڑھے گیارہ بجے تک ٹرک نہیں آیا تو زرد صحافی بھاگ گیا۔
میں بھی خجل خوار ہوکر خالی ہاتھ لاک ڈاؤن سے واپس لاک اپ میں پہنچا ہوں تو بیگم کا خیال ہے کہ میں آوارہ دوستوں سے مل کر آرہا ہوں ۔اور عائشہ الگ سے ناراض ہے کہ میں اکیلے موج مستی کر آیا ہوں ۔
بیگم کی تو خیر ہے ۔اب اسے کیسے مناؤں؟آ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *