شیرون مسیح کو کس نے مارا ؟محمد نواز احمد

اس موضوع پر خامہ فرسائی کا مقصد “گورنمنٹ ایم سی ماڈل ہائی سکول بورے والا ” میں 30 اگست کے دن (عید الاضحٰی سے دو روز قبل ) ہونے والے دلگیر, اندوہناک واقعہ سے متعلق حقائق سے عوام کو آگاہ کرنا ہے کیونکہ فدوی مدرسہ مذکور میں بطور معلم تعینات ہے، اس لیے میں نے یہ ضروری سمجھا ۔کیونکہ اس سانحہ کو چند دن سے مذہبی انتہا پسندی اور تعصب کا رنگ دے کر کچھ نام نہاد دانشور اور سنی سنائی خبروں اور انٹر نیٹ سے معلومات حاصل کر کے الفاظ کی بازی گری اور شعبدہ بازی دکھانے والے کالم نگار جو تاثر قومی اور بین الاقوامی سطح پر پھیلا رہے ہیں یہ یقیناً افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔شیرون مسیح ولد الیاسب مسیح کو سکول داخلہ کے حوالے سے آئے ابھی دوسرا روز تھا، حالاں کہ بورڈ کی طرف سے داخلے بند ہو گئے مگر استاد نے از راہ ہمدردی اسے جماعت میں بطور پرائیویٹ طالب علم بٹھا لیا ,پانچویں پیریڈ کی تبدیلی پر استاد کے کمرۂ جماعت میں غیر موجودگی کے دوران احمد رضا نامی  طالب علم جو میٹرک فیل تھا اور اسے بھی سکول آئے ہوئے تیسرا دن تھا ،اس کا اور مسیح  کسی معمولی بات پر جھگڑ پڑے, اسی دوران احمد رضا نے شیرون کو پیٹ میں مکّا ماراجو کسی نازک حصے پر لگا اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔

انہی لمحات میں پی ای ٹی محمد رمضان صاحب جو راؤنڈ پرتھے پہنچ گئے, انہوں نے بچے کو گراؤنڈ میں لٹا کر پانی کے چھینٹے مارے اسی اثنا میں پی ای ٹی دلدار اسلم صاحب بھی پہنچ گئے مگر ابتدائی طبی امداد کے باوجود وہ ہوش میں نہ آ سکا۔ لہٰذا شیرون کی بے ہوشی کو دیکھتے ہوئے دونوں اساتذہ نے فوراً بچوں کو ہسپتال کے لیے روانہ کیا اور خود ہیڈ ماسٹر صاحب کو اطلاع دی, انچارج ہیڈ ماسٹر سلیم طاہر صاحب نے جب کیمرے میں دیکھا کہ بچے شیرون کو بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر سکول سے گئے ہیں تو انہوں بجائے 1122 کو کال کرنے کے بلا تاخیر دونوں پی ای ٹی صاحبان ( دلدار اسلم اور محمد رمضان ) سے کہا فوراً بچوں کے ہمراہ ہسپتال پہنچیں (جو کہ چند سو گز کے فاصلے پر ہے ) لہٰذا وہ دونوں احباب ہسپتال پہنچے جہاں پہنچتے ہی ڈاکٹر صاحب نے چیک کر کے بتایا کہ شیرون تو فوت ہو چکا ہے…شیرون کے گھر اطلاع کی گئی , جس ماں نے اپنا لخت جگر حصول علم کے لیے صبح کے وقت دعاؤں سے رخصت کیا وہ چند گھنٹوں کے بعد اس کا لاشہ دیکھ کر تڑپ اُٹھی۔ شریف والدین کی دنیا لُٹ گئی, ,یہ ایسا غم ناک , دل سوز واقعہ تھا جس نے اہل بورے والا کو سوگوار کر دیا, یقیناً یہ بہت افسوس ناک سانحہ ہے ۔

پولیس نے قاتل احمد رضا کو فورًا گرفتار کر لیا, تحقیقاتی ٹیموں نے اس معاملہ کی مکمل تحقیق کی بلکہ SHO سے لے CEO,DPO,RPO اور وزیر اعلیٰ کی ٹیموں نے مکمل چھان بین کی ,طلباء کےبیانات قلمبند کیے, چشم دید گواہان نے من و عن ساری بات بتائی , کہیں بھی کوئی ایسی مذہبی منافرت کی رمق دکھائی نہیں دی اور پولیس کی تحقیق پر والدین نے بھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا……مگر۔۔ کچھ دوست غلط معلومات کی بنا پر حقائق کو جانے بغیر اس قدرتی غیر متوقع امر کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس سے معاشرتی انتشار پھیلنے کا خدشہ ہو سکتا ہے…. لہٰذا سوشل میڈیا پر بھی اسے مذہبی منافرت کا واقعہ بنا کر کچھ لوگوں نے من گھڑت قصہ بیان کیا کہ “شیرون کو کلاس میں استاد سمیت سب “چُوڑا” کہتے تھے، اس نے مسلمانوں کے گلاس میں پانی پیا تو اسے اساتذہ کے سامنے بچوں نے مار مار کر قتل کر دیا….. “خدا کی لعنت اور مار ایسا جھوٹا اور من گھڑت قصہ بنانے والے پہ,  کیا یہ لوگ اساتذہ کو ایسا سنگ دل اور بے حس سمجھتے ہیں جو کسی بھی بچے پر خواہ کوئی مذہب یا عقیدہ رکھتا ہو  اس پراپنے سامنے ظلم ہوتا برداشت کریں گے .۔

مذکورہ ادارے کی بات کروں تو 125 کے اسٹاف میں ایک مسیحی استاد اور ایک درجہ چہارم کا ملازم ہے اور اس ادارے کے قریب ہی چیچہ وطنی روڈ پر دو مسیحی بستیاں ہیں (یعقوب آباد اور ہائی سکول عظیم آباد سے ملحقہ بستی) جہاں سے ہر سال مسیحی برادری کے طلباء مدرسہ ھٰذا سے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں , امسال بھی 24 طلباء ہمارے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں……. سکول میں دو بڑے واٹر فلٹریشن پلانٹس ہیں مزید ہر کمرۂ جماعت میں ایک واٹر کولر اور ایک عدد گلاس موجود ہوتا ہے جس سے طلباء بلا تخصیص یکساں طور پر پانی پیتے ہیں…سکول میں اساتذہ اور طلباء کا مسیحی برادری سے رویہ کیسا ہے؟ اس کا ثبوت امین مسیح صاحب جو اسی سکول میں ایس ایس ٹی کے عہدہ پر ہیں ان کا وڈیو بیان بھی  اپ لوڈ کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ان بچوں کا وڈیو پیغام ہے جو چشم دید گواہ ہیں یہ دونوں بیانات ایک ٹی وی چینل کو دیے گیے تھے ,جو سب ٹی وی ناظرین سن سکتے ہیں…. مزید برآں میرے بہت ہی پیارے دوست اورنگ زیب سیموئل صاحب بھی 2015 تک مدرسہ ھذا میں 14 سکیل پر بطور ایس ای ایس ای کام کر کے گئے ہیں جو اس وقت گورنمنٹ کالج بورے والا میں کیمسٹری کے لیکچرار تعینات ہیں , وہ آج تک ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے ہیں….

  مگرسوشل میڈیا پر حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے, سب سے پہلے “ہم سب” ویب سائیٹ پر ایک تحریر غلط رنگ دے کر پیش کی گئی جو مجھے محترم Ammad Buzdar صاحب کے توسل سے پتا چلا تو میں نے انہیں اصل صورت حال بتائی…..پھر مجھے عماد بزدار صاحب نے بتایا کہ UK کے ایک Independence نامی اخبار نے بھی وہی غلط خبر شائع کی ہوئی ہے ….. اس پر مستزاد مجھے یہ بات شاق گزری ملک  کی ایک معتبر کالم نگار “زاہدہ حنا ” صاحبہ نے اسی غلط خبر کی بنیاد پر ایک کالم کو داغ دیا, محترمہ “زاھدہ حنا” صاحبہ ہمارے نہایت قابل احترام شاعر جون ایلیا کی اہلیہ ہیں , میری ان سے درد مندانہ استدعا ہے کہ آپ اس واقعہ کا درست چہرہ عوام کے سامنے لائیں آپ کو خدا نے قلم کی طاقت عطا کی ہے , حق گوئی میں ہمارا ساتھ دیں۔

 جہاں تک بچوں میں عدم برداشت کے رویے کی بات ہے تو جو لوگ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بچے تو بعض اوقات بیگ سے کاپی یا کتاب نکالتے وقت کہنی ساتھ والے سے ٹکرا جائے تو لڑ جھگڑ پڑتے ہیں اور استاد کو صلح کے ساتھ ایک آدھ اخلاقی لیکچر بھی دینا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کے رویے فروغ پاتے جا رہے ہیں جو کہ قابل تشویش امر ہے. بچے یا طالب علم تو در کنار والدین,اساتذہ,علماء حکمران و دیگر ارباب اختیار میں عدم برداشت کا مادہ پنپتا جا رہا ہے جس کی بیخ کنی ضروری ہے اور ہمیں اس معاملے میں متفکر ہو کر لائحہ عمل بنانا ہو گا ورنہ یہ عفریت ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گا۔

 

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *