غیبت اور اس کے نقصانات۔۔نبیلہ اکبر

کسی مسلمان یا غیر مسلم کے عیوب اس کی عدم موجودگی میں زبان و قلم ،حرکات و سکنات یا کسی اور طریقہ سے بیان کرنا کہ اگر وہ اسے سن لے تو اس کوملال ہو شریعت کی رو سے غیبت کہلاتا ہے۔ اگر کوئی ایسا عیب بیان کیا جائے جو اس میں نہ ہو تو یہ تہمت کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں ارشاد فرماتے ہیں,اس میں ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غیبت گناہ میں زنا سے بڑھ کر ہے۔

جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ سے معلوم ہوا کہ غیبت گناہ کبیرہ ہے۔ تو اس کے نقصانات بھی ضرور ہیں۔ ان میں سے کچھ یہاں درج کیے جاتے ہیں۔
1۔ دعا کا قبول نہ ہونا۔ فقیہ ابو للیث فرماتے ہیں جو شخص بہت زیادہ غیبت کرتا ہے اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ وہ بہت کم نادم ہوتا ہے۔ ابراہیم بن ادھم سے لوگوں نے پوچھا کہ حضرت ہم دعا کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہوتی، فرمایا تم اپنے عیبوں کو پیچھے ڈالتے ہو اور دوسروں کے عیبوں کو سامنے لاتے ہو۔

2۔اعمال حسنہ کا اعمال نامہ سے کم ہونا۔ قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے ہونگے جن کے نامہ اعمال میں نیکیاں ہوں گی وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے الٰہی ہم نے نیکیاں نہیں کیں۔۔۔خدا تعالیٰ فرمائیں گے،جن لوگوں نے تمہاری غیبت کی تھی ان کی نیکیاں ان کے نامہ اعمال سے مٹا کر تمہارے نامہ اعمال میں لکھ دی ہیں۔ حضرت حسن بصری جب یہ سنتے کہ فلاں شخص نے ان کی غیبت کی ہے تو اس کے پاس کچھ ہدیہ بھیج دیتے اور فرماتے کہ تو نے غیبت کے ذریعے سے اپنے اعمال حسنہ مجھے دے دیے اس لیے ٗمیں یہ ہدیہ بھیجتا ہوں۔ قیامت کے دن بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اپنے نامہ اعمال میں نیکیاں نہیں پائیں گے، عرض کریں گے تو ارشاد ہوگا۔تم نے دنیا میں لوگوں کی غیبتیں کیں، اس واسطے وہ نیکیاں تمہاری کتاب سے مٹا کر جس جس کی تم نے غیبت کی تھی ان کے نامہ اعمال میں درج کر دی گئی ہیں (الترغیب واترہیب)

3۔نیکیوں کا قبول نہ ہونا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔آگ سوکھی چیز میں اتنی جلدی اثر نہیں کرتی جتنی جلدی بندے کی نیکیوں میں غیبت کا اثر ہوتا ہے۔اگر سوکھی لکڑی پر آگ ڈالو تو اس میں کتنی جلدی آگ لگتی ہے اور لکڑی جل جاتی ہے،لیکن غیبت کا اثر نیکیوں میں اس سے بھی زیادہ جلدی ہوتا ہے جب کسی نے غیبت کی تو اس کی نیکیوں میں فتور پڑ جاتا ہے، عبادت قبول نہیں ہوتی،کسی نے حضرت معاذ سے پوچھا کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو تم نے رسول اللہ ﷺ سنی ہو۔حضرت معاذ بہت روئے اور ایک طویل حدیث بیان کی، اس میں یہ مضمون بھی بیان کیا، جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے معاذ جو لوگ حافظ عمل ہوتے ہیں، جو فرشتے لکھتے ہیں صبح سے شام تک ،ایک شخص کے نیک اعمال آسمان پر لے جاتے ہیں ،وہ مثل ِ آفتاب چمکتے ہیں، جب آسمان اوّل پر پہنچتے ہیں دوسرے آسمان پر لے جاتے ہیں۔ ایک فرشتہ کہتا ہے ان اعمال کو صاحب اعمال کے منہ پر ماردو، اس کے عدم مغفرت کی خبر دو، کیونکہ وہ شخص مسلمانوں کی غیبت کرتا ہے لہٰذا اس کے اعمال قبول نہیں ہوتے۔ حسن بصری فرماتے ہیں خدا کی قسم زخم کے بدن میں اثر کرنے سے زیادہ غیبت مومن کے دین میں اثر کرتی ہے۔

4۔غیبت کی وجہ سے شدید عذاب۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میدان حشر میں خدا تعالیٰ کے سامنے بارہ منزلیں ہوں گی۔ہر منزل پر ایک ایک چیز کا سوال ہوگا،اگر اس شخص نے غیبت نہ کی ہوگی، تو اس سے بڑھ جائے گا وگرنہ اسی مقام پر ہزاروں برس کھڑا کیا جائے گا۔

غیبت کا کفارہ
انسان کو لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کو روکے،اور حتی الوسعیٰ غیبت سے بچے، تاکہ غیبت صادر نہ ہو،ورنہ دنیا اور آخرت کی خرابی لازم آئے گی، لیکن شیطان غالب ہو، کسی سے کوئی غیبت ہوجائے۔۔تو جناب باری تعالیٰ میں توبہ کرے۔حضرت عمر فرماتے ہیں جو شخص گناہ کویاد کرکے دل میں خدائے پاک سے خوف کرے تو وہ گناہ اس کے نامہ اعمال سے مٹ جاتا ہے۔

غیبت سننے کی برائیاں
جس طرح غیبت کرنا حرام ہے اسی طرح سننا بھی حرام ہے جب کسی کے سامنے غیبت ہوتی ہے باوجود استطاعت منع نہ کرے تو یہ بھی گناہ ہے۔یہ ایک حکایت بطور مثال قارئین کی نظر کی جاتی ہے ایک مرتبہ حضرت ابراہیم بن ادھم کسی دعوت میں شریک ہوئے، لوگوں نے کسی کی غیبت کی تو حضرت ابراہیم بن ادھم وہاں سے فوراً اُٹھ کر چلے گئے۔

ان تمام گزارشات سے اندازہ کیجیے، کہ غیبت کتنا بڑا گناہ ہے۔ ابن عمر ؓ نے غیبت کو نفاق کہا ہے۔ امام ابو حنیفہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی۔ آخر میں بس یہ التجا ہے کہ جب کبھی کسی سے غیبت ہو جائے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لی جائے۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے!آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *