آئیں ایک عظیم قوم بنیں۔۔حسن رضا

ہم دنیا کی چھٹی بڑی قوم ہیں، سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک طاقت ہیں، دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے، خیرات دینے والوں میں نمبر ایک ہونے کا دعوہ ہے دنیا کی نویں بڑی سائنسدانوںں کی کھیپ ہے، کپڑے کی صنعت میں ایک نام ہے ، ہم وہ قوم ہیں جنکا دعوہ ہے کہ ہم نے ایٹم بم کے پرزے گجرانوالہ کی لوکل فیکٹریوں سے بنائے ہیں، ہم وہ قوم ہیں جنکا دعوہ ہے کہ ہم نے جے ایف 17 واہ فیکٹری میں بنائے ہیں- یہ سب دعووں کے باوجود کیا وجہ ہے کے ہم نائلون کے دستانے، نائیلون کے حفاظتی لباس کے لئے دنیا کی مدد کے منتظر ہیں- کیوں ہماری فیکٹریاں جو دنیا کو مشہور برانڈ بنا کے دیتی ہیں کپڑوں کے حفاظتی ماسک نہیں بنا سکتی اور ہم ڈاکٹروں کو مرنے کے لئیے چھوڑ رہے ہیں الٹا ان پر تنقید بھی کررہے ہیں- کیوں ہمارے سائنسدان وینٹیلیٹرز نہی بنا سکتے جبکہ ہم ایٹم بم سے لے کہ جہاز بنانے تک کا دعوہ کرتے ہیں-

حسن نثار کی بہت سی باتوں سے اختلافات کے باوجود انکی ایک بات جو دل کو جھنجوڑتی ہے وہ انکا مشہور جملہ ہے کہ” ہم پاکستانی ایک قوم نہیں ہیں بلکہ لوگوں کا ایک ہجوم ہیں “ میں انکی اس بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں- قوموں کی عقل و شعور کا اندازا مشکل کی گھڑی میں انکی حرکات و ردِ عمل سے واضح ہو جاتا ہے – کرونا وائرس کی وجہ سے موجودہ صورتحال میں پاکستانیوں کے کردار کسی صورت بھی قابلِ تعریف نہیں –
اگر بات کی جائے سیاسی قیادت اور سیای چیلوں کی تو آپکو مشکل کی اس گھڑی میں ہمارے سیاستدانوں اور انکے سیاسی کارندوں کے شعور کا اندازہ انکے مختلف بیانات اور اقدامات سے ہو گا- پی ٹی آئی کی سیاسی بریگیڈ یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہے کہ نون لیگ کو آج اندازہ ہو گا کہ سڑکوں پلوں سے زیادہ اہمیت ہسپتالوں کی ہے اور انہوں نے سڑکیں پل بنا کہ ملک کہ ساتھ ظلم کیا ہے کیونکہ ہمیں ہسپتالوں کی شدید کمی ہے- نون لیگی بریگیڈ جواباً سات سال میں کے پی کے میں بنائے گئے ہسپتالوں کی تفصیل مانگتی ہے جس کا جواب دینا پی ٹی آئی کے بس کی بات نہیں الٹا پشاور بی آر ٹی گلے کی ہڈی بن جاتی ہے-

ایک تیسری بریگیڈ یہ نعرہ لگاتی بھی بظر آتی ہے کہ ایک ایف سولہ کے بدلہ دس ہزار وینٹی لیٹرز آ سکتے ہیں اور سینکڑوں ہسپتال بھی تعمیر کیے جا سکتے ہیں کیوں نہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں اور ملکی بجٹ کا پیسہ دفاعی چیزوں پر خرچ کرنے کے تعمیری چیزوں پر خرچ کیا جائے؟ غریبوں پر خرچ کیا جائے؟
خیر مشکل کی اس گھڑی میں ایسی باتیں کرنے والے اپنی اپنی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں اور کرونا جیسی وبا کو بھی اپنے ووٹرز کے ووٹ پکے کرنے میں لگے ہوئے ہیں- شہباز شریف جو بھی یہ موقعہ کھوئی ہو ساکھ بحال کرنے کے کئے اچھا لگا تو انہوں نے عوام کے خدمت کی غرض سے ملک کا رستہ پکڑا اب میرا دماغ سمجھنے سے قاصر ہے کے موجودہ حکومت انہیں قائم مقام وزیر اعلی بنائے گی یا وہ عمران خان کے ایڈوائزر بن کے ملک کی خدمت کریں گی مجھے بہرحال انکا یہ قدم ایک سیاسی پوائنٹ سکورنگ یہ لگا- اس سب صورتحال میں سب سے ذمہ دارانہ اقدامات پی پی کی سندھ حکومت کر رہی ہے اور بلاشبہ پورے ملک کی داد بھی وصول کر رہی ہے-

کرونا وباء سے لڑنے کے کئے ڈاکٹروں نے احتجاجی آواز اٹھائی جن کا مطالبہ تھا کہ ہمیں حفاظتی یونیفارم ، ماسک، دستانے دئیے جائیں جو انکا بلکل جائز مطالبہ ہے- کرونا سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد اب تک چار ہے جس میں ایک نوجوان ڈاکٹر جبکہ تین مریض شامل ہیں- حفاظتی اقدامات کے بغیر اسی شرح سے ہم جو لاشیں اٹھائیں گے اس میں پچیس فیصد ڈاکٹری عملے کی لاشیں ہونگی- کچھ لوگ اس موقعہ پر بھی فوج سے محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کہ بعد پاک فوج کے ڈاکٹروں نے ہسپتال سنبھال لئے- ایسے محبِ وطنوں سے گزارش ہے کہ فوج کہ پاس سارا حفاظتی سامان بھی اور پیسہ بھی ہے خریدنے کے کئے مزید یہ کہ تمام سی ایم ایچ ہسپتالوں میں عام عوام کے کئے دروازے بند ہیں اگر کسی کو شک ہے تو اپنا مریض ملٹری ہسپتال میں لے جا کے دکھائے اصولاً تو وہ ہسپتال بھی عوامی پیسے سے ہی بنے ہیں اور عام عوام کی رسائی بھی ہونی چاہئے جو کہ نہی ہے اور سول ہسپتالوں میں سول ڈاکٹر ہی فرائض سرانجام دے رہے ہیں-
ہمارے وزیراعظم صاحب نے کہہ دیا ہے وسائل نہیں ہیں انہوں حکومت کے دفاع کے لئے بلکہ اپوزیشن کو گالیاں نکلوانے کے لئے بیالیس ملین روپے تو وقف کر دئے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطالبات کے لئے فنڈز نہیں اور ہمیں عثمان بزدار سے بھی زیادہ امیدین نہیں باندھنی چاہئے کینکہ وہ بھی یہ سجھنے کی کوشش کر ریا ہے کہ کرونا کاٹتا کیسے ہے، صوبائی وزیر صحت پنجاب صحافیوں کو سخت سوالات پوچھنے پر بونکتے کیوں ہوں جیسے القابات دے رہی ہیں جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات کے پی کے کررونا سے مرنے والوں کو شہید کا درجہ دلوا رہے ہیں اور ہمارے علماء خضرات لوگوں کو اللہ پر ایمان رکھنے کہ نام پر احتیاطی تدابیر اپنانے سے روک رہیں ہیں اور عام عوام اپنی روزی روٹی کہ چکر میں ہے-
بحیثت قوم ہمارے اوپر چند ذمہ داریاں ہیں کیا ہم مشکل کی اس گھڑی میں یکجا نہیں ہو سکتے؟ کیا مغربی ممالک کی طرح ہم سیاست کو بلائے طاق رکھ کے عوام کی حفاظت کا انتظام نہیں کر سکتے-
ہم دنیا کی چھٹی بڑی قوم ہیں، سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک طاقت ہیں، دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے، خیرات دینے والوں میں نمبر ایک ہونے کا دعوہ ہے دنیا کی نویں بڑی سائنسدانوں کی کھیپ ہے، کپڑے کی صنعت میں ایک نام ہے ، ہم وہ قوم ہیں جنکا دعوہ ہے کہ ہم نے ایٹم بم کے پرزے گجرانوالہ کی لوکل فیکٹریوں سے بنائے ہیں، ہم وہ قوم ہیں جنکا دعوہ ہے کہ ہم نے جے ایف 17 واہ فیکٹری میں بنائے ہیں- یہ سب دعووں کے باوجود کیا وجہ ہے کے ہم نائلون کے دستانے ، نائیلون کے حفاظتی لباس کے لئی دنیا کی مدد کے منتظر ہیں- کیوں ہماری فیکٹریاں جو دنیا کو مشہور برانڈ بنا کے دیتی ہیں کپڑوں کے حفاظتی ماسک نہیں بنا سکتی اور ہم ڈاکٹروں کو مرنے کے لئیے چھوڑ رہے ہیں الٹا ان پر تنقید بھی کررہے ہیں- کیوں ہمارے سائنسدان وینٹیلیٹرز نہی بنا سکتے جبکہ ہم ایٹم بم سے لے کہ جہاز بنانے تک کا دعوہ کرتے ہیں-
یہ سب ہمارے ترجیحات کی بدولت ایسا ہے، آئیں اس قدرتی آفت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دیں بیرونی امداد کی بجائے اپنی مدد آپ کہ تحت اپنے لوگو ں کی زندگیاں بچائیں غرباء دیہاڑی داروں کے چولہوں کی فکر کریں سرمایہ داروں کو دکھاوے کی بجائے ہسپتالوں میں حفاظتی سامان دینے کی طرف راغب کریں- اپنی سوچ شعور بدلیں اپنے ٹیکس کے پیسوں کے استعمال کی ترجیحات بدلوائیں، ایک قوم بن کے ایک دوسرے کے لئے احساسات پیدا کریں اپنے مدد آپ کے تحت اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں – ہمتِ مرداں مددِ خدا
نوٹ- اپنے ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں ملنے ہاتھ ملانے سے پرہیز کریں ،کرونا مریض کی بروقت حکومت کورپورٹ دیں اپنے لوگوں کی زندگیاں بچائیں-
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *