مجھ کو تنہائی میں ملو ایسے
اپنی خوشبو سے مشکبار کرو
ہاں مجھے آسمان چھونا ہے
بادلوں پہ مجھے سوار کرو
اپنی آغوش میں چھپالو تم
میری دھڑکن کو بیقرار کرو
شب ڈھلے آج یوں ملو مجھ سے
بے خودی کو بھی شرمسار کرو

مجھ کو لازم کرو تردد کیوں
پھر مجھے خود پہ اختیار کرو!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں