• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • فیض صاحب کے دور میں کمیونسٹ ہونا بہت عظیم الشان بات لگتی تھی۔۔اسد مفتی

فیض صاحب کے دور میں کمیونسٹ ہونا بہت عظیم الشان بات لگتی تھی۔۔اسد مفتی

فیض نے اردو شاعری کو ایک نیا نصیب و نسب ہی نہیں دیا، بلکہ نئی شریعت کی بشارت بھی دی ہے۔انسانوں کے دلوں میں امن و محبت،انصاف و مساوات،،برداشت و رواداری،اشتراکیت،جمہوریت کا جو چراغ جل رہا ہے،فیض نے اس چراغ میں نوک ِ قلم سے اتنا تیل بھر دیا ہے کہ صدیوں تک جلتا رہے گا،اور اپنی روشنی چار سُو پھیلاتا رہے گا۔
جب 13فروری کو فیض صاحب کی سالگرہ کا دن آتا ہے،رات بھر سوچتا رہا کہ فروری سال میں کتنی بار آتا ہے،؟شاید ساری سوچ عناصر یں اعتدال کی کمی کی وجہ سے ہو۔کہتے ہیں غالب بھی آخری عمر میں ایسی بیماری میں مبتلا ء ہوا،آدمی ذہین تھا،اس لیے جب دریا میں ڈوبنے لگا تو دریا ملا پایاب اُسے۔۔میں ابھی زندہ ہوں،بقول غالب ہی کے۔۔”وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس دہر اے دل”۔۔دوسرا مصرعہ غیر ضروری ہے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں،فیض صاحب بھی زندہ ہیں،بس وہ ہمارے درمیان نہیں رہے،اور یہ اتنی بڑی بات ہے کہ کبھی کبھی کچھ کر گزرنے کو جی چاہتا ہے۔فیض صاحب کے گزرنے کا واقعہ ایک بار اُن کی صاحبزادی مصورہ سلیمہ ہاشمی نے بتایا۔۔
معروف موسیقار خواجہ خواجہ خورشید انور سے ابا کی دوستی گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانے سے تھی،ابا کہا کرتے تھے کہ اُس زمانے میں خواجہ صاحب کو ان سے بہتر شاعر تھے،جب ابا بیروت میں تھے تو خواجہ صاحب جو دنای سے تقریباً کنارہ کش ہوچکے تھے،مجھے کہیں ملے اورکہا:”فیض کو خط لکھوتو کہہ دینا کہ میں بیمار ہوں،لیکن اُسے ملے بغیر دنیا سے نہیں جاؤں گا”۔ابا جب گھر لوٹے تو خواجہ صاحب ریلوے ہسپتال لاہور میں داخل تھے۔ابا کے آتے ہیں میں نے ذکر کیا اور خواجہ صاحب ریلوے کا پیغام دیا تو بولے۔۔۔کل چلیں گے!
دوسرے روز ہم ہسپتال پہنچے تو دونوں ملے۔۔خواجہ صاحب بہت اچھے موڈ میں تھے،اور کوئی کمزوری بھی نظر نہیں آرہی تھی،ابا کی صحت بھی پہلے سے بہتر تھی۔دونوں گلے ملے اور اُن کی آنکھیں بھرا گئیں۔میں نے دیکھا کہ معاملہ کچھ جذباتی ہو رہا ہے تو میں نے ذرا ڈانٹ کر کہا کہ”خواجہ صاحب،سردیاں آرہی ہیں،اب آپ دونوں بابے باغ میں بیٹھ کر اپنی اپنی کتابیں لکھیں،خواجہ صاحب آپ نے صدیوں سے موسیقی پر کتاب لکھنے کا وعدہ کیا ہوا ہے،اور ابوآپ نے اپنی سوانح عمری شروع کرنی ہے”۔خواجہ صاحب مسکرا دئیے اور کہنے لگے،فیض تُوں آگیا ایں،ہُن بس میں ٹُر چلاں ہاں۔۔
ابا کی آنکھوں میں مجھے کچھ تیرتا نظر آیا،جلدی سے جواب دایا،ہاں دونوں نال چلاں گے۔
خواجہ صاحب اپنی بات کے پکے نکلے،ہفتے بھر بعد چھوڑ گئے،فیض جو دوستی نبھانے کے قائل تھے،بیس دن بعد وفات پاگئے۔
فیض صاحب کے بارے ایک بار سیف الدین سیف نے مجھے بتایا۔۔
نظریاتی اختلاف کے باوجود فیض صاحب میرے کلام کے بہت زیادہ مداح تھے،ایک دفعہ میرے ترقی پسند دوست احباب مجھے سمجھا رہے تھے کہ میں سوشلسٹ ہوجاؤں۔۔فیض صاحب جو بڑے غور سے ہماری بحث و تکرار سُن رہے تھے،اچانک بول اُٹھے۔۔رہنے دیں،بھئی کسی کوتو شاعر رہنے دیں۔اگر سیف بھی سوشلسٹ ہوگیا تو پھر ہم اچھے شعر کہاں سے سنیں گے۔
1960کی دہائی کا ذکر ہے،آرٹ کونسل لاہور کی گہما گہی اپنے عروج پرتھی،مصنف اور ڈرامہ آرٹسٹ کمال احمد رضوی جو ان دنوں آرٹ کونسل میں ایک ڈرامے کی ریہرسل کررہے تھے،اور تلاش بسیار کے باوجود کوئی کام کی ہیروئن تلاش کرنے میں ناکام ہوگئے تھے،ایک دن فیض صاحب کے گھر ماڈل ٹاؤن شور مچاتے ہوئے وارد ہوئے،اور کہا، فیض صاحب آٹھ دن کے بعد ڈرامہ شروع ہونے والا ہے،اور ابھی تک ہیروئن نہیں مل پائی،میں سخت پریشان ہوں کچھ کیجیے۔۔۔۔۔فیض صاحب حسبِ معمول سکون سے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور بولے”تو بھئی ہمیں رکھ لو”۔
سلیمہ ہاشمی اپنے شوہر کے ساتھ بہت پہلے لندن میں مقیم تھیں،فیض صاحب کا لندن آنا جانا لگا رہتا تھا،کبھی کبھار کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو سلیمہ ہی خریداری کرتی۔ایک مرتبہ فیص صاحب لندن آئے تو ان دونوں میاں بیوی کو اچانک خیال آیا کہ انہیں شیور(الیکٹرک)کی ضرورت ہے،چونکہ انہیں اسی دن واپس لوٹنا تھا،اور وہ اتوار کا دن تھا۔1960کے زمانے میں اتوار کو سب دکانیں بند رہتی تھیں۔شعیب ہاشمی نے کہ”فیض صاحب آج اتوار ہے،بہر حال ڈھونڈتے ہیں،شاید کوئی دکان کھلی مل جائے،آپ کو کیسا شیور چاہیے۔فیض بولے،ایسا شیور چاہیے جو بیٹری سے بھی چلے،اور بجلی سے بھی،جواے سی بھی ہو،اور ڈی سی بھی،بیٹری چارج کرنے والا بھی ہو،شعیب نے کہا،فیض صاحب،فیر تے بھاپ نال چلن والا لبھے گا”
پانچ دریاؤں کی زرخیز سرزمین کی عظمت کا یہ ستارہ ِ امتیاز جسے فیض احمد فیض کہتے ہیں،جب آخری بار گھر آیا تو کسی نے ان سے سوال کیا۔۔
فیض صاحب!آپ کا دنیا میں اتنا نام ہے،اتنی اتنی عزت ہے،مگر افسوس آپ کے اپنے ملک پاکستان میں آپ کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔۔۔
فیض نے فوراً جواب دیا،نہیں۔۔۔۔ہمارے خیال میں ہم سے خوش نصیب بہت م لوگ ہوں گے،لوگوں کو تو گِلہ رہتا ہے کہ اُنہیں زندگی میں ان کے لائق کوئی رتبہ نہیں ملا،ہمیں تو اپنے حصے سے کہیں زیادہ لوگوں کی محبت،خلوص،اور پیار ملا “۔اور پھر ذرا زور دے کر بولے،شاید آپ حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کو آپس میں گڈ مڈ کررہے ہیں۔
فیض صاحب کے ساتھی معروف صحافی حمید اختر مرحوم نے ایک ثقافتی پروگرام میں مجھے لندن میں بتایا کہ “ملکہ ترنم نور جہاں نے 35،40برس پہلے ہم سے کہا تھا کہ میں فیض صاحب سے بے پناہ محبت کرتی ہوں،مگر یہ فیصلہ نہیں کرپاتی کہ یہ محبت کس قسم کی ہے،اس لیے کہ کبھی تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ میرے محبوب ہیں،کبھی میں اُن کو اپنا عاشق تصور کرتی ہوں،کبھی وہ مجھے اپنے باپ کی طرح نظر آتے ہیں،کبھی شوہر،کبھی بزرگ اور کبھی برخودار”۔۔۔
فیض کی محبت میں سرشار کوئی شخص یہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ وہ انہیں کس حد تک چاہتا ہے۔
فیض بلا شبہ اپنے عہد کی آواز ہیں،اور ہم عہدِ فیض میں جی رہے ہیں،
فیض صاحب کے لیے میرا ایک شعر۔۔
یہ بھی سچ ہے کہ کڑی دھوپ میں چلنا ہے مجھے
اور وہ سایہ فگن مجھ پہ ہے،یہ بھی سچ ہے!

Avatar