ہڈیوں والے چرچ کا قصہ۔۔محمد حسین اشرف

پرتگال میں ایک چرچ سے متعلق یہ خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ اسے مسلمانوں کی ہڈیوں سے تعمیر کیا گیا ہے اور پوپ فرانسس نے وہاں کچھ معصوم بچوں کی لاشیں لٹکائی ہیں جنہیں گلا گھونٹ کر مار دیا گیا تھا۔ یہ خبر سراسر جھوٹ ہے، اس میں ہر گز کوئی سچائی نہیں ہے۔ ہڈیوں والے اس چرچ کو سولہویں صدی میں تب تعمیر کیا گیا جب بہت سے قبرستانوں سے متعلق یہ فیصلہ ہوا کہ ان قبرستانوں کو بہت فصلیں اُگانے ایسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، بجائے اس کے کہ اسے خالی پڑا رہنے دیا جائے۔ پوپ فرانسس نے کاؤنٹر ریفرمیشن کوہوا دینے کے لیے ان ہڈیوں کو اس طرح استعمال کرنے کی کوشش کی تا کہ لوگوں کو انسانی زندگی، موت کی حقیقت اور موت کے بعد کی حالت کی طرف راغب کیا جائے۔ پوپ اپنے علاقے میں لوگوں کی دگرگوں حالت پر بہت پریشان تھے اس لیے انہوں نے اسے   اس  صورت میں تعمیر کیا کہ شاید لوگ اسے دیکھ کر حالت پکڑیں۔

یہ ہڈیاں ان انسانوں کی تھیں ،جو یا تو کسی جنگ میں مارے گئے یا کسی بڑی بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے۔ ان کا مسلمانوں یا صلیبی جنگوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی اس علاقے میں ایسی کسی مسلمانوں کے قتل ِ عام کی کوئی خبر ہے۔ پُرتگال میں ایسے دو بڑے واقعات ہوئے جن میں یہودیوں اور مسلمانوں کی جلاوطنی یا ان کے قتل کیے جانے کا تذکرہ ملتا ہے، ان میں سے ایک بھی سولہویں صدی میں نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ یہاں بہت سے  پیغامات  آویزاں ہیں،مثلاً داخلی دروازے پرلکھا ہے کہ
‘ہماری ہڈیاں یہاں پہنچ چکی ہیں بس تمہاری ہڈیوں کی منتظر ہیں’

اس کے علاوہ ایک اور کہانی بیان کی جا رہی ہے کہ یہ دو لٹکتی لاشیں گلا گھونٹ کر مارے گئےمسلمان بچوں کی ہیں۔

خود پرتگالیوں کے ہاں اس سے متعلق کئی کہانیاں ہیں جن میں سے ایک یہ کہ یہ دو لوگوں کی لاشیں ہیں جنہیں ایک طاقت ور آدمی کی وجہ سے قبرستان دفن نہیں کیا  جاسکا ،تو بعد ازاں انہیں اس چرچ میں جگہ ملی۔ ایک اور کہانی یہ بتاتی ہے کہ یہ بڑی لاش، ایک زنا کار شخص اور زنا کی پیداوار اس بچے کی ہے۔ دونوں کو اس شخص کی بیوی نے بددعا دی تھی۔

خدارا، چیزوں کو پھیلانے سے قبل ان کی تحقیق کرلیا کیجیے!

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *