مکالمہ کی تقریر ۔۔جو نہیں کی جاسکی

(مکالمہ کانفرنس پر ایک تقریر جو بوجوہ نہ کی جا سکی ،اب اسے لالہ صحرائی کو منسوب کرتا ہوں کہ اس خار دار میدان میں وہ مجھے گھسیٹ کر لائے تھے ۔۔عارف خٹک)

مکالمہ کانفرنس کی انتظامیہ اور معزز ڈگنیٹریز
اسلام علیکم

ایک بات بتا دوں
کانفرنس میں آنے کا میرا ارادہ کوئی نہیں تھا لیکن اس راجپوت بابو کی وجہ سے مجھے آنا پڑا

نہ آنے کی وجہ یہ تھی کہ اس طرح کوئی عملی ادبی تقریر کرنا میرے بس کا کام نہیں جس طرح باقی لوگوں نے تقریریں کی ہیں

دراصل جب ہم فیس بک پہ کوئی پوسٹ لکھتے ہیں تو ہمارے پاس سوچ سمجھ کے لکھنے کا موقع ہوتا ھے، کوئی جملہ پسند نہیں آتا تو اسے کاٹ کے دوبارہ لکھ لیتے ہیں اور جب دل مطمئن ہو جائے تو پھر اپنا لکھا ہوا پوسٹ کر دیتے ہیں

لیکن جب کسی فورم پر تقریر کرنی پڑے تو سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں ہوتا، وہاں روانی سے بات کرنی پڑتی ہے، اس لئے اسٹیج پر صرف دو قسم کے بندے ہی تقریر کر سکتے ہیں، پہلا وہ جسے پبلک کے سامنے بولنے کا فن آتا ہو اور دوسرا وہ جو بے شرم ہو

رانا صاحب نے کہا ہمارے پاس علمی گفتگو کرنے والے تو کافی ہیں لیکن بے شرم کوئی نہیں، اس لئے خٹک صاحب آپ کو لازمی آنا ہے

پہلے لوگ مجھے منٹو کہتے تھے اب اس کا ترجمہ کرکے بلاتے ہیں، زمانہ واقعی ترقی کر گیا ہے

بس رانا صاحب نے جب بے شرمی کا واسطہ دیا تو میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے، مجھے یقین آگیا کہ لوگ واقعی مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں اس لئے میں انکار نہیں کر سکا

تو لہوریو کان کھول کر سن لو
اج ایتھے بیہہ جا بیہہ جا ہوئے گی

تیار ہو کہ نہیں؟

جے میری کوئی گل بری لگے تو اس کی داد رانے کو دینا جو مجھے یہاں گھسیٹ کے لایا اے، یا لالہ صحرائی کو دینا جس نے مجھے لکھنے کے کام میں خجل خراب کیا

فیس بک پر مجھے لوگوں نے بہت عزت دی ہے، ایک موم بتی والی آنٹی میری فین بن گئی اس نے تو کئی بار گھر بلا کے مجھے بہت عزت دی، بہت سارے عبدالغفور بھی میرے فین ہیں، وہ بھی اکثر کہتے ہیں خٹک صاحب کبھی ملو ہم بھی آپ کو عزت دینا چاہتے ہیں لیکن ان سے میں معذرت کر لیتا ہوں

ایک دن موم بتی والی آنٹی کا فون آیا
کہنے لگی خٹک صیب
ایک پپی چاہئے!

(
رانا صاحب، سن رہے ہو نا؟
میں کیا کہہ رہا ہوں

ہاں تو میں بتا رھا تھا کہ آنٹی نے کہا، خٹک صیب ایک پپی چاہئے
میں نے کہا مڑا
ایک پپی سے کیا ہوگا؟
ہمارے ساتھ تو درجن کی بات کرو مڑا

آنٹی نے کہا
نہیں خٹک صاب، میں نے درجن کا کیا کرنا، بس ایک سے ہی میرا کام ہو جائے گا

میں نے دل میں سوچا تمھارا کام تو ہو جائے گا
میرا تو ایک پپی سے کچھ نہیں بنے گا

میں نے کہا سنو گلبانو
چلو ٹھیک ھے تم ایک پپی لے لینا لیکن میں اپنی مرضی کروں گا، جب تک ہمارا دل نہیں بھر ےگا ہم نہیں چھوڑے گا

آنٹی نے انگریزی میں کچھ الٹا سیدھا بولا اور فون بند کر دیا

مجھے بھی اچھا نہیں لگا، بڑا غصہ آیا
میں نے لالہ صحرائی کو بتاتا کہ اس کی حرکت دیکھو، پہلے خود پپی مانگتی ہے جب ہم نے مانگ لی تو ناراض ہو گئی یارا

لالہ نے کہا، ارے یار وہ کس نہیں مانگ رہی تھی
اسے دوسرا پپی چاہئے ہوگا، وہ کتے کا بچہ مانگ رہی تھی

میں نے کہا لالہ
کتے کا بچہ تو بہت واقف ہے اپنا
مگر ان سے واقفیت ہم کیوں کروائے، ھم کوئی اس کا ایجنٹ لگا ہوا ھے؟

لالہ نے کہا ارے خٹک صاب
آپ سمجھتے کیوں نہیں
وہ اصلی والا کتے کا بچہ مانگ رہی تھی جو pet-shop سے ملتا ہے نرم نرم بالوں والا

اگلے دن ہم نے پیٹ۔شاپ سے جا کے کتے کا بچہ لیا
کالے رنگ کا لمبے لمبے بالوں والا بچہ چاؤں چاؤں کرتا بہت ہی اچھا لگتا تھا
کتا لیکر ہم خوشی خوشی گلبانو کے گھر پہنچے، وہاں جا کے پتا چلا وہ چار دن کیلئے لاہور چلی گئی ہے

پانچ چھ دن بعد میں نے کہا چلو لالہ آج کتے کا بچہ اس کی منزل پر چھوڑ آئیں، گلبانو واپس آگئی ہے

میں نے اچھی طرح شیو کیا، کریم شریم لگایا، خوشبو لگایا، جو کچھ باقی بچا وہ کتے پر مل دیا اور گلبانو کی طرف چل دیا

راستے سے لالہ کو ساتھ بٹھایا، تھوڑی دور جاکے لالہ نے کہا خٹک صیب آج بہت پیارے لگ رہے ہو

میں نے کہا تھینک یو لالہ
دل میں سوچا لالہ کو پیارا لگ رہا تو گلبانو کو بھی پیارا لگے گا

ادھر لالہ کی آواز آئی
خٹک صاب، مڑا برا نہ مانو تو ایک پپی لینے کو دل چاہ رہا ہے

میں نے گاڑی سائڈ پہ روکی اور کہا تیرے سے پپی اچھا نہیں لالہ
یہ تم رکھ لو
ہم گلبانو کو اور لے دے گا
اور کتا اٹھا کے لالہ کی گود میں رکھ دیا

لالہ نے ایک دم غصے سے مجھے دیکھا
پھر اسے یاد آگیا کہ اسی نے ہی بتایا تھا پپی کا مطلب کتے کا بچہ ہوتا ہے

لالہ نے کتا اٹھا کے پچھلی سیٹ پہ پھینکا تو اس کی آواز ہی بدل گئی
جس دن خریدا تھا اس دن چاؤں چاؤں کرتا تھا
اور اب یاؤں یاؤؤؤں کرتا تھا، یاہو ڈاٹ کام والا

لالہ نے کہا اس کتے کو تو نے اتنے دن کہاں رکھا تھا
میں نے کہا وہیں ڈیرے پر رہتا تھا

لالہ نے کہا، واپس چلو، اب یہ آنٹی کو دینے والا نہیں رہا، یہ تمھارے ساتھ ہفتہ رہ کے اڈلٹ زبان بولنے لگ گیا ہے، ہم نے کتا گاڑی سے باھر پھینکا اور واپس آگئے

آج صبح گلبانو کا فون آیا تھا، اس نے کہا، لکہ وہ پپی تو دے جاؤ مڑا

میں نے کہا آج تو میں لہور آیا ہوں، رات کو نو بجے واپسی ہے، اب کل ہی کوئی انتظام کروں گا

لیکن وہ نہیں مانتی، گلبانو نے سختی سے کہا ہے، نو بجے واپسی ھے تو گیارہ بجے مجھے میرے گھر پہ پپی چاہئے

اب اور تو کوئی آسرا نہیں تھا، لالہ صحرائی کے ذمے لگایا تو وہ ساتھ میں اپنا ٹانکہ بھی فٹ کر آئے گا

میں نے گلبانو سے کہا ہے فکر نہ کرو میں تمھارے لئے ولائتی پپی لے کے آؤں گا، اس لئے اب رانا صاحب سے گزارش ہے کہ ایک پپی دے دے تاکہ ہم سیدھا گلبانو کو پہنچا دے.

میں تہاڈیاں شکلاں دیکھ ریاں ہیگا
بہت ساری لوکی ایس ویلے یہ سوچدے پئے ہیگے
کاش اسی پپی ہوتے اور خٹک کے ہاتھوں گلبانو تک پہنچ جاتے.
لہوریو سدھر جاؤ

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *