تعلیمِ نابالغاں

وطنِ عزیز میں شرحِ خواندگی الحمدلله پینتالیس فیصد ہے اور شرحِ ناخواندگی تقریباً سو فیصد ۔ پڑھنا نیکی کا کام ہے اور پڑھانا منافع کا۔  یہ جو کچھ نہ کچھ خواندگی ہے وہ استادوں کی محنت سے ہے۔ اور باقی کی ناخواندگی “بہت استادوں “کی محنت سے ۔ استاد کوشش میں کہ لوگ پڑھ لکھ کر مفید شہری بنیں جبکہ “بہت استاد” اس کوشش میں کہ لوگ ان پڑھ لکھ کر جاہل ووٹر بنیں۔ تاکہ ان کی حکمرانی قائم رہے۔ ایک زمانہ تھا جب تعلیم شعوروآگہی کے لیے دی جاتی اور بدلے میں عزت اور دعائیں لی جاتیں، آج کل مگر کچھ فرق ہے یہ ڈگری اور نوکری کے لیے حاصل کی جاتی ہے اور بدلے میں فیس دی جاتی ہے۔

           تعلیم کے لیے سب سے ضروری چیز بچہ ہے ۔ پھر استاد اور پھر بستہ ۔ باہر کے ملکوں میں قوم بچے دیتی ہے اور استاد اور بستہ سرکار ۔اپنے ہاں تھوڑا فرق ہے۔ یہاں بچے اور بستہ اور فیسیں مہیا کرنے کی ذمہ داری ماں باپ کی ہے اور استاد مہیا کرنے کی سکول کی ۔ شہروں میں شاید وسائل کی فراوانی اور مقابلے کی فضا کے باعث والدین نسبتاً بہتر “کوالٹی” کے بچے مہیا کر پاتے ہیں، بدلے میں سکول والے بھی ان کو کچھ اچھے معیار کے اساتذہ دے دیتے ہیں، سو صورتحال قدرے بہتر ہے، لیکن گاؤں میں چونکہ بچوں کی پیداوار زیادہ کرنی ہوتی ہیں سو معیار پر کچھ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے لہذا جیسے تیسے بچے ہوتے ہیں اور ان کو ایسے ویسے ہی استاد ملتے ہیں، نتیجتاً آدھے بچے آدھا میٹرک کرکے  ہی بھاگ جاتے ہیں اورباقی آدھے ،آدھا ایم اے کرنے کے بعد۔ البتہ جو دس فیصد کسی طور میٹرک کرلیتے ہیں وہ اپنے والدین کو اردو اخبار بغیر ہجے کیے سنا لیتے ہیں ۔ اور انگریزی میں دستخط بھی کرلیتے ہیں۔

سکول سے بھاگنے والے بچوں سے اگر پوچھا جائے کہ کیوں بھاگے تو کہیں گے کہ دنیا میں ہر بڑا کام سکول سے بھاگے ہوئے بچوں نے کیا ہے،اپنے نیوٹن کو ہی دیکھ لو، سکول سے بھاگ کر ہی اس درخت کے نیچے بیٹھا تھا جب اس پر سیب گرا تھا ۔ اگر کلاس میں بیٹھا ہوتا تو وہ بھی قائداعظم کے چودہ نکات یاد کررہا ہوتا ۔ دوسری طرف بستہ پہلے پہل صرف کتابوں کاپیوں پر مشتمل ہوتا تھا مگر آج کل اس میں والدین کے مستقبل کے خواب اور سکول والوں کی حالیہ ضرورتوں کا بوجھ بھی شامل ہوتا ہے سو بستہ اور بچہ ہم و زن ہوتے ہیں اس لیے چھوٹے بچوں کو تو بستہ اٹھانا ویسے ہی منع ہے مگر بڑے بچوں کو خصوصی ہدایات اور تربیت کے بعد ہی اس کو اٹھانے کی اجازت ملتی ہے ۔ایک بار اگر کوئی بچہ کچھ عرصہ اپنا بستہ اٹھا کر گھر سے سکول بخیروعافیت آجا لیتا ہے پھر اسکو “ہائیکنگ بیگ” بھی ہلکا ہلکا محسوس ہوتا ہے ۔ تاہم اگر خدانخواستہ بچے سے بستہ کی استعمال میں تھوڑی سی بے احتیاطی ہوجائے تو وہ اس کے نیچے دب بھی سکتا ہے اور خواتین اساتذہ تو کم سے کم ایسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تنہا کوشش نہ کریں بلکہ فوراََ 1122 یا15 پراطلاع کریں۔

        ہمارے وقتوں میں پانچ سال کا بچہ سکول داخل ہوتا ۔ پھر ہمیں تعلیمی معیار بلند کرنے کا خیال آیا ۔ اب تین سال کا بچہ ہی سکول بھیج دیا جاتا ہے ۔ سو آدھے بچے کتابوں کے ساتھ فیڈربھی لاتے ہیں۔ اتنے چھوٹے بچوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مالی نے کچے آم توڑ کر پیٹیوں میں لگا دیے ہیں اب ان کو مصالحہ لگا کر پکائے گا۔ ادھر نظام تعلیم کا حسن دیکھیے، ٹشو پیپر جیسے نازک بچوں کو آتے ہی زبانوں کے گھنجل میں ڈال دیا ، مادری زبان اور، سرکاری زبان الگ اور تدریسی زبان جدا۔ احتجاجاً بچہ کوئی زبان بھی ٹھیک سے نہیں سیکھتا، بلکہ وہ “بد زبان” ہونا ہی پسند کرتا ہے ۔ اسی طرح دیگر مضامین میں بھی پوری طرح احتیاط برتی جاتی ہے کہ بچہ غلطی سے بھی کوئی ایسی بات نہ سیکھ پائے جو اس کے لیے آئندہ زندگی میں کسی طرح بھی مفید ثابت ہو سکتی ہو۔ اس کو منطقہ معتدلہ حارہ میں اگنے والی گھاس کی بابت اپنے باپ کے کھیت میں اگنے والی گندم کی نسبت زیادہ پتہ ہوتا ہے۔ اور اسکیموز کی خوراک کی افادیت اور اس میں پائے جانے والے حراروں کا علم اپنے گھر میں پکنے والے شلجم اور بھنڈی سے زیادہ ہوتا ہے ۔

     معیار تعلیم بلند تر کرنے میں تعلیم سے جڑا ہر شخص اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے ۔ کچھ دوست بچوں کو رٹو طوطا بنا کر نظام تعلیم بلند کرہے ہیں تو کچھ مہربان اونچے اونچے بورڈ لگا کر ۔ کچھ سکول بھاری فیسیں لے کر اور کچھ دوست ٹیوشن پڑھا کر، جبکہ کچھ سکول موسیقی کی کلاسوں، ڈانس پارٹیوں اور بیرون شہروملک دوروں کی مدد سے نظام تعلیم کی بلندی کی جستجو میں ڈٹے ہوئے ہیں۔  ہمارے قریب ایک دردمند صاحب تین مرلہ کرایہ کی عمارت میں میٹرک پاس استانیوں کی مدد سے ہی نظام تعلیم بلند کرنے میں جتے ہوئے ہیں ۔ دوستوں کی وارفتگی اور شوق کا یہ عالم ہے کہ ملک بھر میں ہر گلی کا علیحدہ نظام تعلیم ہے . بلکہ کچھ گلیوں میں تو اتنے کھمبے نہیں لگے ہوئے جتنی طرح کے نظام تعلیم چل رہے ہیں ۔ بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا نظام تعلیم بالکل اسی طرح بلند ہورہا ہے جس طرح مداری کی بکری لکڑی کی چرخیوں پر بلند ہوتی چلی جاتی ہے ۔

          کہتے ہیں قوموں کی ترقی میں سب اہم کردار تعلیم کا ہوتا ہے ۔سو ایسے اہم کام میں سرکار، سرکاری سکولوں کے ذریعہ سے  اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہاں مگر عناصر اربعہ کا قانون رائج ہے ۔ بچہ، استاد، بستہ اور مولا بخش ۔ مولابخش بانس کی ایک تھوڑی سی بے رحم قسم ہے ۔ جو نالائق اورسست طلبا کی ہتھیلیوں اور تشریف پر رنگین نقش ونگار بنا کر ان کو آمادہ تدریس کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ علاوه ازیں،ڈھیٹ طلبا کی کردار سازی میں بھی اسے اکسیر کا درجہ حاصل ہے۔ عناصر اربعہ کے علاوہ بھی سرکاری سکولوں کا محکمہ، محکمہ تعلیم ،نظام تعلیم سے متعلق بہت سے بہادرانہ تجربات میں ہر وقت مشغول رہتا ہے ۔ ڈارون کے فلسفہ ارتقا بندر کی جگہ یہاں اس بات کو ثابت کرنے کی سعی ہو رہی ہے کہ انسان مرغوں سے انسان بنا تھا ۔ کیونکہ مختلف تجربات میں یہ دیکھا گیا ہے  کہ دن میں آدھ گھنٹہ مرغا بننے سے انسانی دماغ بہتر طور پر کام کرنے لگ جاتا ہے ۔ اسی طرح پوری دنیا میں سب سے پہلے بغیر سیمنٹ کے صرف ریت اور اینٹوں کی مدد سے عمارتیں تعمیر کروانے کا سہرا محکمہ تعلیم کے سر ہے۔ چند واقعات کے سوا یہ تجربہ بہت ہی کامیاب جا رہا تھا کہ بد قسمتی سے 2005 کا زلزلہ آگیا ۔ جس نے اس تجربہ کو مع تمام سکولوں کے زمین بوس کردیا۔ اسی کے علاوہ بغیر چھت اور بغیر کمروں کے یا کھلے میدان میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے سے طلبا پر کیا مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس پربہت بڑے پیمانے پر تجربات ہورہے ہیں ۔

بعض اوقات بچوں کو بنا پڑھائے ہی اگلی کلاسوں میں بھیج کر ان کے رویوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ معاشی لحاظ سے بھی کئی تجربات چل رہے ہیں۔ خاص طور لیباریٹریوں کا سامان لیے بغیر دکانداروں کو آدھی ادائیگی کرنے کا کامیاب تجربہ دنیا میں پہلی بار انہوں نے کیا ہے ۔ آج کل اس بات کا تجربہ جار ی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی نسبت بہتر تنخواہ اور مراعات لے کر بہت کم کارکردگی دکھانے پر کوئی آسمان گرتا ہے یا کچھ اور ۔ دنیا میں پہلی بار بھوتوں کی تعلیم کا بندوبست کرنے اور ان کے لیے باقاعدہ سکول بنانے کا اعزاز بھی ہمارے  محکمہ تعلیم کے سر ہے۔  دوردراز علاقوں اور دیہات میں جہاں بھوتوں کے پائے جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں وہاں پر سرکاری بھوت سکول تعمیر کیے جاتے ہیں ۔ وہاں پر صرف سکول کی عمارت ہی نظر آتی ہے بھوت طلبا اوربھوت اساتذہ دکھائی نہیں دیتے ۔ صرف سرکاری ریکارڈ اور تنخواہوں وغیرہ کی باقاعدہ ادائیگی سے ہی پتہ لگانا پڑتا ہے کہ بھوتوں کو باقاعدہ تعلیم دی جارہی ہے ۔ گمانِ فاضل ہے کہ یہی پڑھے لکھے بھوت پھر بڑے ہو دشمنوں کی طرف سے گرائے جانے والے بموں وغیرہ کو کیچ کر کے دریاؤں اور سمندروں میں پھینک دیتے ہیں ۔

    سرکاری سکولوں کے بہت سے اساتذہ تو بہت ہی رحمدل اور نیک چلن ہوتے ہیں ۔بطور خاص دیہات میں، وہ اپنی زمینوں پر اپنے خرچ پر بچوں کو فصلیں اور سبزیاں وغیرہ اگانا سکھاتے رہتے ہیں ۔اسی طرح کچھ اساتذہ اپنی قیمتی بھینسوں پر انکو بھینسیں پالنا، چارہ ڈالنا اور دودھ دھونا وغیرہ سکھاتے رہتے ہیں۔ خواتین اساتذہ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں وہ بھی طالبات کو اپنے خرچہ پر ہانڈی روٹی کرنا اور جھاڑو پوچا لگانے سیکھنے کے مواقع عنایت کرتی رہتی ہیں ۔

     عزیزان گرامی : کسی بھی معاشرہ کی ترقی میں سب سے اہم کردار اساتذہ کا ہے۔ یہ اگر اپنی اہمیت کا احساس کریں، پوری دیانتداری اور فرض شناسی سے اپنا کردار ادا کریں معاشرتی بگاڑ کے ختم کیا جا سکتا ہے ۔ملک کو ایسی قوم دی جاسکتی جس کی عالمی برادری میں عزت ہو ۔جو اپنی ضرورتوں اورمسائل کے حل کے لیے دوسروں کی رہین منت نہ ہوبلکہ دوسری قومیں ہماری دست نگر ہوں ۔اساتذہ شکوہ کناں رہتے ہیں کہ طلبا عزت نہیں کرتے، حضور عزت کی نہیں جاتی کروائی جاتی ہے کمائی جاتی ہے ۔ جیسا کہ ہمارے اساتذہ کرام کماتے تھے۔ اللہ کریم ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔

                                    ( ابنِ فاضل )

ابنِ فاضل
ابنِ فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *