بابا آئن سٹائن پھڑیا گیا

ہال حاضرین سے بھرا ہوا تھا ، کئی ممالک کے اساتذہ ، طالبعلم اُس شخص کی جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب تھے جس نے ذہانت کے پروں کو پرواز کی وہ سربلندی دکھائی کہ انسان ناقص عقل ورطہ حیرت رہ جائے ،، یہ انتظار ، یہ آمد بوڑھے لمبے اُلجھے ہوئے بالوں والے آئن سٹائن کی تھی ،،، اپنے ہاتھ میں چند اوراق کی فائل لئے آئن سٹائن ہال میں داخل ہوا ،،، سب نے کھڑے ہو کر استقبال کیا ،، وہ سیدھا ڈائس پر گیا اور بغیر وقت کے ضیاع سامعین سے مخاطب ہوا ،،،
.
شکریہ میرے دوستو ، طالبعلمو ، نوجوان ذہنیت کے ابھرتے ستارو ،، تم لوگوں میں آکر خود کو بہت ہی پرمسرت پا رہا ہوں ،، جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ میں نے نظریہ اضافیت پر بہت سال صرف کیئے ہیں اسی موضوع کے چند خدوخال لئے آپ سے مذاکرہ کرنے مدعو ہوں ۔۔ لہذا احباب سے التماس ہے کہ اس نظریہ پر اپنے سوالات پیش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

I admire that there is no absolute time and space in universe

ہال میں سے ایک سردار جی کھڑا ہوا ،،، سر آئن سٹائن صاحب میں آپ کا بڑا پرستار رہا ہوں لیکن میں اصولی منطق سے ثابت کر دوں گا کہ آپ کے نظریہ کو بلاوجہ اہمیت دی جارہی ہے ، اس میں انتہا کا سقم ہے جو قابل غور بھی ہے اور آپ جیسے زہین شخص کی تضاد شخصیت پر بے لاگ سوال بھی ،،،
۔
آئن سٹائن مسکرا کر کرسی پر بیٹھا اور سردار سے کہا
۔ ? Can you explain your views
.
سردارجی نے وضاحت شروع کی ،، دیکھیں سر اس وقت آپ کے نظریہ اضافیت پر دونقاط ایسے ہیں جہاں تضاد ہی تضاد ہے ،
آپ ایک طرف کہتے ہیں
(1) کہ زماں ( عہد ، وقت ) اور مکاں ( جگہ ، خلا ) کا کوئی وجود نہیں ، دونوں اپنی وجودیت میں اضافی ہیں ، یعنی ہر گام تبدیل ہوتے جا رہے ہیں ، حتمی یا قطعی نہیں ہیں ،،،
.
دوسری طرف آُپ کہتے ہیں
(2) کہ زماں اور مکان کے درمیان ایک مستقل فاصلے کا ربط ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا ،،،
.
یہ دونوں مرحلے ایک دوسرے کا تضاد ہیں ۔۔۔

آئن سٹائن کی آنکھوں میں بلا کی روشنی اُجاگر ہوئی جس کا محور صرف حیرت کے خدوخال ٹٹولنا تھا
.
سردارجی نے اپنی بات میں ربط کےلئے لہجے کی کڑواہٹ کو ذرا سکیل کیا اور گویا ہوئے
ہم ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،،،،
آپ کا ماننا ہے کہ روشنی کی ایک شعاع (کرن) ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل سفر طے کرتی ہے ،،،
جب زماں اور مکاں ایک جگہ کھڑے ہی نہیں ہو رہے تو پھر ان کے درمیان بننے والا فاصلہ کس طرح قطعی ہو سکتا ہے ؟؟؟
زماں کے تغیر کا مطلب یہی ہے کہ سیکنڈ کا دورانیہ بدل رہا ہے ،،، جس ایک سیکنڈ میں ابھی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا فاصلہ طے کر رہی ہے دوسرے سیکنڈ کے بدلتے ہوئے دورانئے میں اُس کی مقدار دو لاکھ چھیاسی ہزار میل یا آدھی پچاس ہزار میل بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔

زماں اور مکاں کو اضافی مان کر سیکنڈ اور شعاع کی رفتار کو غیر مبدل مان لینا آپ کا صدی کا سب سے بڑا مفروضہ ہے ۔۔
آئن سٹائن نے پریشانی میں بالوں کو سہلایا اور جواب دیا ۔۔۔ لیکن میرا نظریہ تو اُسی وقت کام کرے گا جب کوئی مشاہدہ کرنے والا
(Observer )زمین پر کھڑا ہو گا ،،،، اگر مشاہدہ کرنے والا ہی نہیں تو پھر کیسی اضافیت کیسی غیر مبدل بنیادیں ۔۔۔۔۔۔ یہ ساری بحیثیں اپنا وجود ہی تب رکھتی ہیں جب کوئی مشاہدہ کرنے والا ہو ،،،
آئن سٹائن نے ذرا اپنے موقف کو سنبھالا دیا ،، تاکہ بچی کچی ساکھ غرق نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔

سردار جی پوری تیاری سے آئے تھے ، فورا آئن سٹائن کی تھیوری پر سوال داغا ،،،
جناب عالی ! مشاہدہ کرنے والے کےلئے فاصلہ مانپنے کا کوئی تو طریقہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔ آپ نے فاصلوں کی پیمائش کےلئے ایتھر کے وجود کا شدت سے انکار کر دیا ہے تو پھر آپ کا فلسفہ کس طرح ٹھیک ہو سکتا ہے ،،
ہر متعین اصول کسی خارجی اور موجود حقیقت کا پتا دیتا ہے لیکن جب کوئی بھی خارجی اور موجود حقیقت غیر مبدل حقیقت کے طور پر موجود نہیں تو ساری بحث محض زہنی بن کر رہ جائے گی ۔۔۔۔

یہ وہ مقام تھا جہاں آئن سٹائن پریشانی کی حالت میں جھنجھلاہٹ کا شکار ہو گیا ،، سردار جی کے رفیق تالیوں سے سردار کا حوصلہ بڑھا رہے تھے ،،، وہیں کہیں ایک آواز گونجی جس نے سردار کے عزائم کو مستحکم کیا ،،،
.
.
.
.
““ شاوا سردارجی شاوا ،، اج بابا آئن سٹائن پھڑیا گیا اے ۔۔۔۔
بڑی ہنیر پائی سے اینے ““
۔
۔
۔
ازقلم : شاکرجی

Avatar
شاکرجی
میری سوچ مختلف ہو سکتی ہے ۔۔ میری کاوش غیر سنجیدہ نہیں ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *