ماڈرن حج 2030۔۔محمد سلیم

سیلز منیجر: مادام، ویلکم- ویلکم، آپ کی تشریف آوری کا شکریہ

مادام: شکریہ، ہم تمہارے پاس مکہ کے لیئے اس سیزن کے ٹرپس (trips) کا پوچھنے آئے ہیں۔

سیلز منیجر: مادام، آپ کی مراد “حج” ہے ناں؟ کیوں نہیں، کیوں نہیں، ہمارے پاس تو کئی ایک نئے پلینز (new plans) آئے ہیں۔ بس آپ یہ بتایئے کہ آپ نے “فاسٹ حج” کرنا ہے یا “ریگولر حج”، یا آپ کے ذہن میں کوئی اور پلان ہے؟

خاوند: دیکھو، ہمیں زیادہ تفاصیل کا تو پتہ نہیں، بس ہم ذرا فاسٹ قسم کا کوئی پلان چاہتے ہیں۔ اب دیکھو ناں، کئی فیمیلی میٹرز (family matters) ہوتے ہیں جنہیں دیکھنا ہوتا ہے، پھر اوپر سے عید بھی تو ہے، دیر لگانے والے کسی کام کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں۔ لیکن ایک بات ہے کہ ہم یہ سارے “روحانی شعائر” بھی ادا کرنا چاہتے ہیں۔

سیلز منیجر: ٹھیک ہے سر۔ سب سے پہلے ہم ہوٹل کے بارے میں بات کر لیتے ہیں۔ شعائر پر بعد میں بات کریں گے۔ ہمارے پاس ہوٹلز کے کئی ایک آپشنز ہیں جیسے ہلٹن مکہ (Hilton mecca)، مووِن پِک (movenpick)، فیئر مونٹ(Fairmont)۔۔۔ یا آپ کے ذہن میں کوئی اور نام ہو تو بتا دیجیئے؟
مادام: ہم تو بس سب سے اچھی چیز چاہ رہے ہیں، اور اگر سوئٹ (suite) مل جائے تو اور بھی اچھا ہے، بندہ کم از کم رہے تو راحت سے ناں۔

سیلز منیجر: مادام، سب کچھ آپ کی مرضی اور خواہش کے مطابق ہوگا، میری مانیں تو فیئر مونٹ سب سے بہتر ہے، میں تو اسی میں ٹھہرنے کی نصیحت کرونگا آپ کو۔ اور یہ دیکھیئے آپ کی خوش قسمتی کہ اس میں ایک سوئٹ بھی ابھی تک خالی پڑا ہے۔ بس ایک بات اور بتا دیجیئے کہ آپ کو سوئٹ “کعبہ ویو” چاہیئے، “حرم ویو” چاہیئے یا کہ “سٹی ویو”؟ کیونکہ “کعبہ ویو” ہے تو ٹھیک، مگر اس کیلیئے آپ کو کچھ “ایکسٹرا چارجز” دینا ہونگے۔

مادام: یقیناً، یقیناً، ہم تو بس “کعبہ ویو” ہی لیں گے، “فوٹو ٹیکنگ” کیلیئے تو یہی ٹھیک رہے گا، “غسان”؛ کیا خیال ہے تمہارا؟

خاوند: بالکل، بالکل جانی، تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔

خاوند سیلز منیجر کی طرف پلٹتے ہوئے: دیکھو، ہمارے لیئے ایک کعبہ ویو سوئٹ بُک کردو، اسی فیئرمونٹ ہوٹل میں۔ بس ذرا ہمیں ان شعائر کے بارے میں تو بتاؤ، یہ کیسے ادا ہونگے؟ ہم پہلی بار جا رہے ہیں ناں، ہمیں اس سے پہلے کوئی تجربہ بھی نہیں ہے ۔ اور سچ پوچھتے ہو تو ہمیں رش والی جگہوں پر ہونا ویسے بھی بالکل اچھا نہیں لگتا۔

سیلز منیجر: جناب عالی، یہ سارے کام تو بہت ہی آسان ہیں، میں آپ کو ابھی بتاتا ہوں۔ ہمارے اکثر کلائنٹس ہم سے “فاسٹ حج” ہی مانگتے ہیں۔ میں آپ کو ایک ایک کر کے سارے شعائر کے متعلق بتا دیتا ہوں، پھر جو آپ کو اچھا لگے بتا دیجیئے گا۔

مادام: ٹھیک ہے، بتاؤ ہمیں۔

سیلز منیجر: پہلے دن آپ کا جہاز صبح کے آٹھ بجے جدہ پہنچے گا۔ یہاں پر لیموزین لیئے ہمارا نمائندہ آپ کا انتظار کر رہا ہوگا۔ جو آپ کو لیکر سیدھا مکہ ہوٹل پہنچا دے گا۔ یہاں ہوسکتا ہے ناشتہ کے بعد کا وقت ہو۔ آپ حرم میں “طواف قدوم” اور صفا و مروہ کے درمیان “سعی” کیلیئے جائیں گے۔ ادھر آپ کیلیئے “وہیل چیئرز” موجود ہونگی، ان پر سوار ہو کر آپ کیلیئے یہ دونوں کام کرنا بہت ہی آسان ہو جائیگا۔ ہمارا مندوب آپ کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ اس کے پاس آپ کے لیئے پانی اور ریفریشمنٹ اور آپ کی دیگر تمام ضروریات موجود ہونگی۔ ان کاموں سے فراغت کے بعد آپ کو ہوٹل لایا جائیگا جہاں آپ لنچ Image may contain: 1 person, foodکریں گے۔ اس کے بعد ہم آپ کو پرائیویٹ گاڑی میں “منٰی” لیجائیں گے۔ منٰی بہت ہی خوبصورت علاقہ ہے، اس میں بہت سارے خیمے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہاں پر آپ لوگ ہمارے فائیو سٹار خیمے میں قیام کریں گے، یہ مکمل ایئر کنڈیشنڈ خیمہ ہوگا، بڑے بڑے ٹیلیویژن موجود ہونگے، تیز ترین وائی فائی موجود ہوگا۔ اوپن بوفے پر آپ کی پسند کی ہر چیز موجود ہوگی۔ اگر آپ پسند کریں تو آپ یہاں رات بھی رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو خیمے میں رات گزارنا اچھا نا لگتا ہو تو آپ واپس ہوٹل میں آ کر بھی رات گزار سکتے ہیں۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اس کیلیئے “کفارہ” دینا پڑتا ہے۔ یا یوں کہہ لیجیئے کہ مکہ واپس آ کر رات ہوٹل میں گزارنے کیلیئے آپ کو “ایکسٹرا چارجز” دینا پڑیں گے۔

مادام: واؤ، یعنی پہلے دن کیمپنگ؟ واللہ یہ تو بہت ہی بہترین پلان ہے، غسان: کیا خیال ہے تمہارا؟

خاوند: ٹھیک ہے، لیکن میں رات خیموں میں بسر کرنا بالکل ہی پسند نہیں کرتا، میرا خیال ہے ہمیں رات کو واپس ہوٹل آ جانا چاہیئے تاکہ رات تو سکون سے گزرے۔

سیلز منیجر: ٹھیک ہے، میں شام کو آپ کی ہوٹل واپسی ڈال دیتا ہوں۔ اگلے دن “عرفہ”ہوگا۔ آپ کو صبح ناشتے کے بعد، ہمارا ایجنٹ “گولف کار” میں بٹھا کر “جبل عرفہ” لیکر جائے گا۔ ادھر آپ کو پورا دن گزارنا ہوگا۔

مادام: (سیلز منیجر کی بات کاٹتے ہوئے)، یعنی یہ کوئی ہائیکنگ (hiking) جیسا پروگرام ہے کیا؟

سیلز منیجر: نہیں نہیں مادام، یہ ہائیکنگ جیسی کوئی چیز نہیں۔ آپ اسے” سائیٹ سی اِنگ” (site seeing) جیسی کوئی چیز سمجھ لیں۔ کیونکہ یہ جو جبل عرفہ ہے یہ کوئی پہاڑوں جیسا پہاڑ نہیں ہے۔ بس وسیع و عریض قسم کا ایک میدان ہے، بس ہے شاندار جگہ۔ ادھر آپ بہت ہی راحت اور آرام سے ہماری ہی کمپنی کے خیموں میں رہیں گے۔ بس آپ کو پورا دن ادھر گزارنا پڑے گا۔ آپ کی ضرورت کی ہر چیز ادھر بھی میسر اور متوفر ہوگی۔ بس آپ ایسے ہی سمجھ لیں کہ جیسے آپ ہوٹل میں ہی موجود ہیں۔ اس دن شام کو اگر آپ لوگوں کا دل چاہے تو “مزدلفہ” میں رات گزار لیجیئے گا، دل نا چاہے تو واپس ہوٹل آ کر بھی رات گزار سکتے ہیں۔ لیکن اس طرح ہوٹل واپس آ کر رات گزارنے کیلییئے آپ کو “ایکسٹرا چارجز” دینا پڑیں گے۔

خاوند: او بھائی، میں نے کہہ دیا ہے ناں۔ شعائر کا احترام اپنی جگہ، لیکن ہوٹل سے باہر رہنا میرے لیئے ممکن نہیں ہے۔

سیلز منیجر: ٹھیک ہے ٹھیک ہے غسان صاحب، آپ بالکل ہی فکر نا کریں۔ عرفہ والے دن کے بعد اگلی صبح کو عید ہوگی۔ جیسے ہی آپ لوگ ہوٹل میں ناشتے وغیر سے فارغ ہونگے، ہمارا ایجنٹ آپ کیلیئے قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا انتظام کرے گا۔

(مادام صدمے سے سر کو پکڑ کر بیٹھتے ہوئے) اوہ مون دیو (Oh mon dieu) اوہ میرے خدایا۔

خاوند سیلزمین کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے، تجھے اللہ ہدایت دے، یہ کیا کہہ دیا ہے؟ میری بیوی کو اس بربریت سے شدید فوبیا ہے جس کا تو نے ابھی ذکر Image may contain: one or more people, people sitting, people standing and indoorکیا ہے۔ تو ہمارے لیئے کوئی متبادل طریقہ تلاش کر، جدھر ہم بس اپنا کریڈٹ کارڈ سوائپ کریں اور ہمارا ڈونیشن وغیرہ سے بغیر خون ریزی کیئے کام ہو جائے۔ استغفراللہ ، استغفراللہ، یہ کیا ظلم ہے۔

سیلز منیجر: جناب عالی، ناراضگی کی معافی چاہتا ہوں، بس سمجھیئے کہ آپ کا کام ہو گیا۔ اور میں مادام سے بھی معافی چاہتا ہوں، مادام معافی قبول کیجیئے۔

مادام : پا –دیو- پروھ- بلیمی (pas de probleme) اٹ از اوکے۔

سیلز منیجر: تو جی بس اس طرح آپ کے تقریبا سارے ہی شعائر ادا ہو چکے ہونگے۔ اور آپ کا حج مکمل اور اختتام پذیر ہو چکا ہوگا۔ لیکن اس کے بعد جمرات کو رمی کرنا باقی بچتا ہے۔ ہم آپ کو ادھر لیجانے کیلیئے سپیشل گاڑی یا چھوٹی گولف کار کا انتظام کریں گے۔ آپ نے جو پتھر مارنے ہونگے وہ آپ اپنی گولف کار میں بیٹھے بیٹھے ہی،کار سے اترے بغیر، اور بغیر حاجیوں کے رش میں گُھسے ہی مار لیجیئے گا۔

مادام: خاوند کی طرف دیکھتے ہوئے؛ غسان، یہ وہی جگہ نہیں جہاں پچھلے سال بھی کچھ حاجی رمی کرتے ہوئے مر گئے تھے؟ میں نے نہیں جانا ادھر۔ اس والے پروگرام کو ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکتا؟

سیلز منیجر: مادام، یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس کا انتظام ہے ناں۔ ہم اپنے کسی مندوب کو آپ کی طرف سے وکیل بنا کر رمی کرا لیں گے۔ لیکن اس کام کیلیئے بھی آپ کو “ایکسٹرا چارجز” دینے پڑ جائیں گے۔

خاوند: بھائی، پیسوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بس یہ بتاؤ کہ بس اس کے بعد حج ختم ہوا کہ ابھی بھی کچھ اور کرنا ہوگا؟

سیلز منیجر: غسان صاحب، بالکل بالکل، اس کے ساتھ حج کے سارے مراحل طے پا جائیں گے۔ دوپہر کو ہمارا ڈرائیور آپ کیلیئے تیار رہے گا جو آپ کو سیدھا ایئرپورٹ لے جائیگا۔

مادام: یعنی ایک دن کیمپنگ، ایک دن ہائیکنگ اور ایک دن سائٹ سی انگ! غسان دیکھو توکیا ہی شاندار پروگرام ہے۔ لیکن ایک بات ہے، غسان؛ ہم تھک بہت جائیں گے ان سارے کاموں سے۔

خاوند: جانی، اتنی مشقت اٹھاؤ گی تو پھر اجر و ثواب بھی تو ملے گا ناں۔ اور پھر تم کب سے ہی تو کہہ رہی تھی کہ کوئی “سپیری چوول ایکٹیوی ٹی” (spiritual activity)کرنا چاہتی ہو، اب تمہیں موقع مل رہا ہے تو پھر ہمت باندھو ذرا۔
خاوند”غسان” سیلز منیجر کی طرف دیکھتے ہوئے؛ ٹھیک ہے میاں، گو اے ھیڈ (go ahead)۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *