کیسی ماں ہے وہ۔۔۔۔رمشا تبسم

موسم خوشگوار تھا  شاید بارش  ہونے والی تھی۔اس نے آسمان کو طرف دیکھا جیسے وہ آسمان والے سے کچھ التجا کر  رہا تھا۔ جب ایک دم گجرے والے نے آواز لگائی یہ لے دو گجرے اس نے آسمان سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا پھر گجروں  کو نرمی سے ہاتھوں میں پکڑا پیسے دے کر وہ وہاں سے چل پڑا۔آج اس کے قدم عجیب طرح سے کسی دھن میں مست تھے  بڑھتے ہوئے اسکے قدم ایک گھر کے سامنے رک گئے۔اس نے دل پر ہاتھ رکھا آنکھیں بند  کیں  پھر آسمان کو دیکھااسکی دھڑکن بے ترتیب تھی سانس پھولا ہوا تھا وہ بہت دور سے بہت تیز بھاگ کر آ رہا تھا۔اس کے لڑ کھڑاتے قدم  آگے بڑھتے بڑھتے رک گئے اس نے منہ پر ہاتھ رکھا جیسے وہ اپنی سانس کی آواز بھی چھپانا چاہتا تھا۔

وہ چند قدم بڑھا ایک دروازے کے قریب رک گیا۔ اس نے دستک دینی چاہی مگر ہاتھ دروازے سے واپس اپنے سینے پر رکھ لیا وہ بے چینی میں یہاں وہاں دیکھ رہا تھا جب سامنے کا دروازہ کھلا  اور کسی نے آواز دی وہ سن نہیں سکا تھا الفاظ۔ مگر وہ چونک گیا اس نے سامنے دیکھا  اور پھر دیکھتا ہی چلا گیا۔ کوئی آواز اسکے کانوں میں نہیں پڑ رہی تھی کوئی تھا جو بولتا جا رہا تھا وہ بے یقینی کی کیفیت  میں آگے بڑھا اس نے اپنا ہاتھ اس بولتے انسان کے منہ کے قریب کیا وہ چھونا چاہتا تھا محسوس کرنا چاہتا تھا۔۔
جب ایک دم اس کے ہاتھ کسی نے جھٹک دیے وہ لرز اٹھا ۔
کہاں سے آ جاتے ہو تم لوگ روز رو ز  مانگنے گندے لوگ ،گھٹیا ،کوئی اور کام نہیں تمہیں ۔۔خبر دار جو میرے قریب آئے ،جاہل نہ ہو تو ۔کسی نے اتنی  زور دار آواز میں کہا  کہ  اس کے قدم لڑکھڑا گئے وہ پیچھے گرنے والا تھا کہ  سنبھل گیا۔تمہیں سنائی نہیں دے رہا جاؤ یہاں سے آواز پھر اسکے کانوں کے پردے چیرتی اس کے دل کو اور کو  زخمی کرتی محسوس ہو رہی تھی۔
میں ۔۔وہ۔۔ ما۔۔ں۔۔ وہ کچھ کہنے کے لئے آگے بڑھا اسکے الفاظ اسکا ساتھ نہیں دے رہے تھے نم آنکھیں اور تکلیف  دہ آواز بھلا کہاں کچھ کہنے دیتی ہے۔
سامنے کھڑے انسان کو اسکی تکلیف  محسوس نہ ہوئی۔اس نے قدم آگے  بڑھائے  ہی تھے جب سامنے کھڑے انسان نے کہا تمہیں سنائی نہیں  دیتا ۔جاؤ دفع ہو جاؤ ۔کہاں سے آجاتے ہو تم ہجڑے روز روز  مانگنے۔۔
اتنا سننا تھا کہ  اس نے منہ پہ ہاتھ رکھا ۔ وہ اپنی سسکیاں  چھپانا چاہتا تھا۔ دروازہ  زور دار آواز کے ساتھ بند ہو گیا۔

ہجڑہ ۔اس نے دہرایا۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اسکو اپنی دھڑکن بھی بند ہوتی محسوس ہوئی وہ بھاگا بہت تیز بھاگا، جب اسکی آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے وہ دل پر ہاتھ رکھے تیزی سے قدم   اٹھاتا  ہوا بھاگتا جا رہا تھا جب بارش شروع ہو گئی ۔اس نے آسمان کی طرف دیکھا وہ شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا جس نے بارش بھیج کر اس کے آنسووں کو چھپا لیا۔
بارش اسکا چہرہ دھو رہی تھی  اسکا کاجل اور میک اپ  بہہ رہا تھا۔حقیقت میں اس کا مٹی کا وجود بھی بہہ رہا تھا یا شاید ہجڑہ سن کر بہہ چکا تھا۔وہ بارش میں بھی بار بار آنسو صاف کر رہا تھا۔دروازے کو  پورے وجود سے اندر کی طرف دھکیلتا ہوا  وہ صحن میں آ کر گرا۔
کیوں ۔کیوں۔۔ آخر ہمارے ساتھ ہی کیوں ۔وہ اتنا چیخا  کہ  اندر سے گورو بھاگتا ہوا آیا۔
ستیا ناس ہو تیرا رضیہ۔  تو نے مجھے ڈرا دیا۔اسی لمحے گورو  محسوس کرتا ہے اسکے دل کو الجھن ہوتی ہے وہ بھاگتا ہوا بارش میں رضیہ کے قریب آتا ہے جو سر  زمین پر رکھے چیختے ہوئے ماتم کناں ہے۔۔
گورو نے اسکا سر اٹھایا  وہ آنکھیں بند کر کے روئے جا رہا تھا۔
کیا ہوا آج پھر کسی نے تجھ سے بد تمیزی کی ہے چھیڑا ہے تجھے بتامجھے۔ یہ منحوس لوگ خود کو نہ جانے کیا سمجھتے ہیں ہمیں تو انسان بھی نہیں سمجھتے آتے جاتے تنگ کرتے ہبں  مذاق اڑاتے، فقرے کستے ہیں ،گالی دیتے ہیں۔

تجھے کتنی بار کہا ہے ان لوگوں کی پرواہ نہ کیا کر حقیقت میں یہ لوگ خود ہی نا مرد اور کم ظرف ہیں گورو بولتے جا رہا تھا رضیہ نے سیلاب  زدہ آنکھیں کھولیں  اس نے بے بسی سے کہا لوگ مذاق نہیں اڑاتے قدرت نے مذاق بنایا ہمارا ۔ہمیں نامکمل کر کےقدرت کو کیا ملا ۔اتنی کائنات ہے اسکی ساری پوری ایک ہم ہی نا مَردوں میں شمار ہوتے ہیں نہ ہی عورتوں میں ۔اب وہ صحن میں کھڑا چیخ رہا تھا۔مجھے گھن ہوتی ہے اپنے وجود سے جب لوگ ہمیں دھتکارتے ہیں ۔ اس نے اپنے منہ پر تھپڑوں کی بوچھاڑ شروع کی جب گورو نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ روک لئے۔
نہ کر رضیہ خدا کے واسطے نہ کر میرا کلیجہ منہ کو آ رہا ہے گورو نے افسردہ آواز  میں کہا۔

کیوں ،باجی کیوں، ہم نا مکمل ہیں ،اس میں ہمارا کیا قصور۔جس خدا نے پیدا کیا یہ اسکی مرضی تھی اور جس کے وجود سے پیدا کیا اسکی غلطی تھی وہ اپنے پیٹ میں مجھے  مروا دیتی مگر یوں آج مجھے ایک بار پھر دھتکارتی نہ،وہ آنسو صاف کرتے ہوئے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتے  ہوئے بول رہا تھا۔
تو وہاں گیا تھا ،گورو نے حیرانگی سے پوچھا
اب خاموشی تھی ۔بارش بھی رک گئی  تھی اب اس کے آنسو بے بسی کا نشان بنے واضح تھے۔
تجھے منع کیا تھا وہاں  مت  جانا، جنہوں نے تجھے آج سے پندرہ سال پہلے ٹھکرا دیا اب وہاں جا کر خود کو کیوں اذیت دیتی ہے رضیہ، گورو نے  اسکا منہ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔
ماں۔ ماں ۔ہے میری وہ مجھے جنم دیا ہے میرے وجود کے ہونے کی وجہ ہے وہ ۔میں اسکو یہ گجرے دینے گیا تھا آج ماں کا دن ہے نا ۔اس نے بے بسی سے کہا۔اس نے گجرے گورو کو دکھائے۔
وہ مجھے نہ اپناتی نہ اپنے سینے سے لگاتی مگر میرے سے ایک لفظ محبت کا تو بول لیتی اولاد سمجھ کر نہ سہی کم سے کم انسان سمجھ کر۔ مگر اس نے میری ایک نہ سنی مجھے دھتکارا گالی دی برا کہا اس نے میرے منہ پر درواز ہ بند نہیں کیا میرے لئے میری سانسیں بند کر دی۔وہ  زارو قطار رو رہا تھا۔
گورو نے گجرے پکڑے اداس لہجے میں بولا وہ تجھ سے رشتہ ختم کر چکی اس رات جب انہوں نے تجھے میرے سپرد کیا محلے میں تیری گمشدگی کا اعلان کروا دیا تھا بعد میں اس بات پر صبر دکھایا کے تو مر چکا ہے اب گورو بول رہا تھا وہ سن رہا تھا۔ تو نے مجھ سے پوچھا تھا  رضیہ میں نے تمھیں تیرے گھر والوں کا اس وعدے کے ساتھ بتایا تھا کے تو کبھی نہیں جائے گی ادھر ۔

باجی وہ کیسی ماں ہے۔ ماں تو اپنے بچے کو کلیجے سے لگا کر رکھتی ہے۔اولاد چور ہو، ڈاکو ہو، قاتل ہو، ذانی ہو، بد زبان ہو، بد لحاظ ہو پھر بھی ماں اسکو اپنے سینے سے لگا کر رکھتی ہے اس نے اپنے بازو اپنے سینے پر باندھے یو ں جیسے وہ اپنی ماں کو سینے سے لگائے بیٹھا تھا۔ماں تو اولاد کو دامن سے چھپا لیتی ہے اسکے عیب پر پردہ ڈالتی ہے پھر میری ماں کا دامن اتنا چھوٹا کیوں تھا کے اس میں میرا وہ داغ نہ چھپ سکا جس میں میری غلطی نہیں تھی قدرت کا فیصلہ تھا۔وہ اب سوال پوچھ رہا تھا۔
گورو بے بس تھا اب وہ بھی جواب نہیں دے سکا اس نے گجرے دیکھے رضیہ کو ایک کندھے پر تھپڑ مارا ۔کمبخت ،منحوس میں نے رات  رات جاگ کر تجھے پالا ۔تو روتی تھی میرا کلیجہ منہ کو آتا تھا ۔اپنے نوالے تیرے منہ میں ڈالتی تھی اور ماں کے دن  پر تو اس پیدا کرنے والی ماں کے دروازے پر چلا گیا۔۔۔اب یہاں بیٹھا رو رو کر میرا دل جلا رہا ہے۔گجرے تو دور تو نےمجھے گلےبھی  نہیں لگایا میں تیری ماں تو دور ماں جیسی بھی نہیں بن سکی اب گورو رو رہا تھا رضیہ نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔نہیں باجی ۔میں۔۔ بس ۔۔وہ۔۔۔

رہنے دے رضیہ جس طرح تیری پیدا کرنے والی ماں  تیری نہیں ہوئی اسی طرح میرے گود لئے بچے میرے نہ ہوئے اب گورو آنکھیں صاف کرتا ہوا اٹھا اور اندر جانے لگا۔
جب رضیہ نے بھاگ کر اسے گلے لگایا معاف کر دے باجی غلطی ہو گئی ۔اس نے گورو کے ہاتھ سے گجرے لئے جو اب کافی بری حالت میں تھے اس نے گورو کے ہاتھوں میں پہنائے گورو کے ہاتھ چومتے ہوئے رضیہ نے کہا “باجی ماں کا دن مبارک ہو”اب دونوں گلے لگ کر رو رہے تھے۔
جب شبانہ اندر آئی۔باجی ،چوہدریوں کے بیٹے کی سالگرہ ہے انہوں نے بلوایا ہے ۔ارے رضیہ تو کیا باندری بنی ہے چل تیار ہو ۔آج پھر اچھا کھانا ملے گا  ۔آ جا ،ڈانس پریکٹس بھی کر لیں رضیہ اور شبانہ بھاگتے ہوئے کمرے میں چلی گئیں۔
گورو گجرے دیکھتا رہا اور آخری نظر اس نے آسمان پر بے بسی  کے عالم میں ڈالی اور گہری سوچ میں چلا گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کیسی ماں ہے وہ۔۔۔۔رمشا تبسم

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اسلام علیکم! مدر ڈے کے دن آپکی یہ کاوش بھی قابل ستائش ہے۔۔۔۔ لفظ لفظ میں اولاد کی ماں سےتشنہ محبت کی جھلک صاف نظر آ رہی ہے ۔۔۔۔ماں وہ ہستی ہے جو رب کی انمول نعمت کی شکل میں معرض وجود میں آئی ۔۔۔۔رب العزت کی یہ تخلیق پھولوں کی طرح نرم و ملائم ہے۔۔۔ جس کی محبت خدا کے نور کی طرح خالص ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔جس کے اٹھے ہاتھ عرش تک ہلانے پر قادر ہیں۔۔۔ جس کے قدموں تلے جنت ہے ۔۔۔۔ وہ ہستی جو اولاد کے اچھے برے ہونے کی بنا پر مہربان نہیں ہوتی ۔۔۔بلکہ اس کی محبت بلا امتیاز صرف اور صرف اپنے بچوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس ہستی کا آپ نے ایک الگ ہی روپ دیکھایا ہے ۔۔۔ یہ روپ اک ماں کا ہے یہ دل ماننے کو تیار نہیں ۔۔۔ربنا ما خلقتٙ ھذا باطلاْ۔۔ترجمہ: اے ہمارے رب تونے اسکو فضول پیدا نہیں کیا۔۔۔ رب کی ہر تخلیق با مقصد ہوتی ہے اسکی کوئی بھی تخلیق بلا وجہ نہیں ہے ۔۔۔ شاید یہ تخلیق ماوں کے لیے اک آزمائش ہو ۔۔۔ماں کے لیے اولاد صرف قابل محبت ہے۔۔۔ اور آپ کی تحریر میں جس ماں کا تذکرہ ہے ۔۔۔ بے حسوں کے قبیل سے تعلق رکھتی ہو گی۔۔۔۔ یا پھر یہ وہ بد نصیب ہے جو ماں کے رتبے پر فائز ہونے کےباوجود ۔۔۔ ماں نہیں بن سکی ۔۔۔ اس کا دل اک بنجر زمیں کی طرح ہے جہاں محبت کی کاشت ممکن نہیں۔۔۔
    رمشا جی ! آپ نے کرداروں کے ساتھ بخوبی انصاف کیا ہے۔۔۔ رضیہ کی تشنگی کو الفاظ کے ذریعے بہت عمدگی سے بیان کیا ہے کہ لمحوں تک لفظوں کا درد ۔۔۔۔۔۔دل پہ محسوس ہوتا رہا ۔۔۔ ۔ اللہ تعالی ہم سب کی ماوں کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ فرمائے
    آمین۔۔۔ انھیں دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا فرمائے آمین ثم آمین۔۔میں دنیا کی ہر ماں کو آج کے دن سلام عظمت پیش کرتی ہوں۔۔۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *