میرے پیارے پڑوسی بابا

ہنستے مسکراتے میرے پڑوسی بابا انتہائی بردبار ، بااخلاق ، خوش طبع ، نور مجسم ، صوم صلواة کے پابند اور بچوں پر انتہائ درجے کی شفقت کرنے والے، میں اور مجھ سمیت اطراف کے تمام پڑوسیوں سے جو انکا اخلاقی تعلق تها وہ ناقابل بیان ہے –

مجھے وہ رمضان بھی یاد ہے جب وہ پڑوس کی مسجد میں اعتکاف کیے ہوئے تھے اور میں انکے لیے سحر و افطار لے جایا کرتا تھا اور کس قدر شفقت سے وہ پیش آتے بالکل اپنوں بیٹوں سی محبت کرتے. اور زبردستی ساتھ بیٹھا کر افطار کرواتے اور ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازتے، جب جب انکے لیے سحر و افطار کی اس خدمت کو انجام دیتا اک سکون سی کیفیت محسوس ہوتی رمضان میں رات گئے گلی میں کرکٹ کھیلتے ہوئے شور سے انکا باہر آکر پیار سے ڈانٹنا ,بچوں سو جاؤ صبح سحری کے لیے نہیں اٹھ سکو گے ایک دن گلی میں بیٹھا گلی میں کھیلتے بچوں کی فوٹو گرافی کررہا تھا پیچھے مڑ کر دیکھا تو بابا جی کھڑے ہنس رہے تھے اس سے پہلے بابا جی کچھ کہتے میں نے بابا جی کی بات کا رخ بدلتے ہوئے آیئے آپ کی تصویر نکالوں ستر ہزار کا کیمرہ ہے پیارے بابا جی نے انتہائی پیار بھرا جواب دیا ایسے ستر ہزار تمہارے سر پر گھوما کر لٹاؤں اور جلدی میں انکی یہ مسکراتی ہوئی تصویر اتار لی –

جب شناختی کارڈ کی عمر ہوئی تو نادرا نے ایک فارم تھما دیا اس میں دو گواہوں کے سائن اور انکے پرانے شناختی کارڈ کی دو فوٹوکاپی لے آنا تو میں اپنے پیارے پڑوسی بابا کے پاس آیا اور سائن کروائے پھر اس دن کے بعد جب بھی ان سے ملتا ایک ہی بات پوچھتے پاکستانی ہوئے یا نہیں..؟؟ اور میں بس یہی کہتا آپ کے سائن ہوگئے تو اب ہو ہی جاؤں گا کیا پتہ تھا کہ میرے پاکستانی ہونے سے پہلے وہ اللہ والے ہوجائیں گے اور اسطرح ہمیں ہنساتا ہنساتا چھوڑتا اکیلا چھوڑ جا ئیں گے اور انکی وہ ہنسی ہمیں غموں میں ڈبو دے گی " انا للہ وانا الیہ راجعون " گزشتہ روز ٹرین میں پنڈی سے کراچی آتے ہوئے فون پر بس اتنا کہا میری طبیعت خراب ہے پھر اس کے بعد وہ کوئی بات نا کر سکے شاید موت کے فرشتے نے دروازے پر دستک دے کر کہہ دیا تھا اب لوٹ آئیے بقیہ سکون کی زندگی ہمارے پاس گزاریئے ، شاید یہی سبب رہا کہ یہاں پہنچنے کے بعد جب عزیز بیٹے محمدمبشر نے انہیں اسٹیشن پے مطلوبہ ٹرین میں ڈھونڈا تو وہ اپنی سیٹ پر دو زانوں سر رکھے خاموش بیٹھے تھے –

بیٹے نے فورا والدہ محترمہ کا فون پر اطلاع دی کے ابو کو سخت بخار ہے والدہ نے کہا فورا گاڑی کر کے ہسپتال پہنچایا، طبعی معائنہ کے بعد ڈاکٹر نے کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں بس 105 بخار ہے ڈرپ لگا دی ہے بخار ٹوٹ جائے گا پھر اللہ کے فضل سے بخار ٹوٹ گیا پر بیٹے محمد مبشر نے کہا آپ انہیں فی الحال یہی ایڈمٹ رکھیے صبح ہم انہیں گھر لے جائیں گے –

چهوٹے بھائی عزیر خان انکے پاس رات بھر رہے مجھ سے کہنے لگے بابا پوری رات میرے ہاتھ تھامے ہوئے تھے پر اک لفظ منہ سے نہ کہا بھلا کیسے اور کیونکر کہتے جب موت کے فرشتے نے دستک دے کر کہہ دیا کہ اب لوٹ آئیے اور بقیہ سکون کہ زندگی ہمارے پاس گزاریئے، اور اس پیارے بابا میرے دل عزیز پیارے بابا تقریباً رات 3 سے 4 بجے کے قریب اس دراے فانی سے دارے حقیقی کی طرف لوٹ گئے ۔

Avatar
عمیر اقبال
ابھی تعارف کے قابل نہیں ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *