• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • برطانوی الیکشن؛لیبر سوشلزم کا خاتمہ؟ ۔۔ انعام رانا

برطانوی الیکشن؛لیبر سوشلزم کا خاتمہ؟ ۔۔ انعام رانا

SHOPPING

نتائج آ چکے اور ٹوریز بڑے ممبرز کے ساتھ پارلیمنٹ میں ہیں۔تھیچر کے بعد اتنی بڑی اکثریت کے ساتھ کنزرویٹوز پہلی بار پارلیمنٹ میں تو دوسری جانب سن تیس کے بعد پہلی بار لیبر کو اتنی بری شکست ہوئی ہے۔

اس الیکشن میں بریگزٹ کا بہت اہم رول رہا ہے۔ بورس جانسن اپنی تمام تر ناپسندیدگی کے باوجود بہت سمجھداری سے کھیلا۔ اس نے اس الیکشن کو فقط بریگزٹ تک فوکس کر دیا اور باقی سب پس منظر میں چلا گیا۔ چنانچہ بریگزٹ کے بعد کیا ہو گا پر بہت کم نظر تھی ووٹر کی بلکہ برگزٹ پہ تھی کیونکہ وہ تین سال سے جاری ڈرامے سے تنگ آ چکا تھا جو برطانیہ کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا تھا۔

لیبر میں ایک حلقہ لیو اور ایک حلقہ ایگزٹ کے حق میں تھا۔ جرمی اپنی سوشلسٹ پوزیشن کے ساتھ یورپیئن یونین کے حق میں نہیں تھا مگر لندن کیمبرج جیسے شہروں نے بریگزٹ کے خلاف ووٹ دی تھا۔ ان جیسے شہروں کے لیبر لیڈرز نے مینیفیسٹو میں نئے ریفرینڈم جیسی باتیں شامل کروائیں جس نے روایتی ووٹر کو بھی دور کیا کہ وہ اب اس ڈرامے سے نجات چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لیبر ان حلقوں سے بھی ہاری ہے جو مزدوروں کان کنوں کے روایتی حلقے تھے اور لیبر کے ناقابل تسخیر قلعے سمجھے جاتے تھے۔

فورا ایک بڑے طبقے نے شکست کو فقط جرمی کوربن سے معنون کر کے اسکو اور اسکی سوشلسٹ پالیسیز کر مطعون کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ بحث چھیڑ دی گئی ہے کہ دراصل جرمی نے لیبر کے سنٹر لیفٹ کو ایکسٹریم لیفٹ بنانے کی کوشش کی اور اسی وجہ سے لیبر ہار گئی کیونکہ عوام نے سوشلزم مسترد کر دیا۔ میرے خیال میں یہ فقط الزام تراشی کر کے فیس سیونگ کی کوشش ہے۔ لیبر کے مینی فیسٹو کو اگر بورس کے مینی فیسٹو سے موازنہ کریں تو وہ زیادہ عوام دوست ہے۔ لیکن جرمی اور لیبر بریگزٹ پہ غلطی کر گئے۔ لیبر ووٹ کا بڑا حصہ دراصل بریگزٹ پارٹی کھا گئی اور کچھ لبرل ڈیموکریٹس بھی۔ یعنی کہ لیبر کے مقابلے پہ ٹوریز،بریگزٹ پارٹی، یوکے نیشنل پارٹی اور لب ڈیم کا ایک ایسا نظر نا آنے والا اتحاد تھا جسکی مکمل کوشش تھی کہ وہ جرمی کے ملک کو سوسشلٹ بنانے کی کوشش کو ناکام کرے اور بریگزٹ انکے پاس ایک مشترکہ ہتھیار تھا۔ جرمی اور لیبر کی یہ غلطی کہ وہ اسکو وقت پہ سمجھ نہیں پائے یا درست طور پہ اسکا تدارک نا کر سکے۔

SHOPPING

آنے والے وقت میں جب بریگزٹ کی دھول بیٹھے گی، معاشی پریشانی آئے گی، ہیلتھ سروس میں کٹاؤ ہو گا، بینیفٹس میں کمی آئے گی اور ملک زیادہ سرمایہ دارانہ پنجے کے شکنجے میں سکا جائے گا تو اسی جرمی کوربن کا دیا ہوا سوشلسٹ مینی فیسٹو امید کی کرن ہو گا اور جدوجہد کی بنیاد۔ اگلے کئی سال تک کمزور اپوزیشن کی وجہ سے اب عوامی اپوزیشن کی ضرورت ہو گی جس کیلئیے نا صرف لیبر کے اندر بلکہ عوام تک سوشلسٹ متبادل کو زور شور سے لیجانے کی ضرورت ہو گی۔ نا تو الیکشن سے مایوسی کی ضرورت ہے نا ہی جمہوری نظام سے۔ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔

SHOPPING

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *