ہجر کی تمہید۔۔از ابو علیحہ/تبصرہ :اسماء مغل

مجھے جو بھی کتاب موصول ہوتی ہے،وہ فوراً بُک شیلف کی زینت بن جاتی ہے،چاہے میں خود رائٹر کو کہہ کر ہی کیوں نہ منگواؤں،پھر پندرہ بیس دن بعد اُسے پڑھنے کی باری آتی ہے،علی  کی کتاب ملی تو میں اُسی وقت پڑھنے بیٹھ گئی،اور ایک ہی نشست میں دو بار پڑھی۔۔۔ریویو لکھنے کی کوشش کی لیکن لفظ نہ ملے،دو بار کے بعد کوشش ترک کر دی،آج دوبارہ کتاب لے کر بیٹھی۔۔لیکن سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھوں۔۔۔
آپ محبت میں ہارے ہوئے شخص کو کیا کہیں گے بھلا؟۔۔کہہ ہی کیا سکتے ہیں۔۔۔

اگر انساں گراں باری کی وجہ سے خون روئے تو یہ روا ہے کیونکہ جو بوجھ آسمان نہیں اٹھا سکا تھا وہ اس کے کندھوں پر ہے۔

لوگ ہجر کا رونا روتے ہیں،عالی کی کہانی میں تو وصل بھی ادھورا رہ گیا۔
اُس کا خیال ہے کہ “محبت توفیق ہے،مگر نصیب والوں کو ہوتی ہے اور ہجر کا شمار بدنصیبی میں نہیں ہوتا”۔۔
لیکن میرا ماننا ہے کہ ہجر آپ نہیں بلکہ آپ کو چھوڑ جانے والا بھگتتا ہے۔۔پیچھے رہ جانے والے تو ہجر کو جیتے ہیں،کیونکہ وہ خوش فہم ہوتے ہیں،محبت نام ہی خوش فہمی کا ہے،آپ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ سامنے والا بھی آپ سے اُتنی ہی محبت رکھتا ہے،جتنی آپ کے دل میں اُس کے لیے ہے،لیکن جوں جوں آپ آگے بڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے،ساحل کی ریت خشک ہوکر ہواکا رزق بن چکی ہے،جانے والے کے قدموں کے نشاں تک آپ کے حصے میں نہیں آتے،یہ خوش فہمیاں کبھی انسان کو توڑ  کر ر کھ دیتی ہیں اور علی سجاد شاہ  بنا دیتی ہیں،اور جب دل میں نئی اُمنگ بھرتی ہیں،آپ کو حالات سے لڑنا سکھا دیتی ہیں تو آپ کو ابو علیحہ بنا دیتی ہیں۔۔کہیں پڑھا تھا کہ خوش فہمیاں پالنا اچھا ہوتا ہے،یہ آپ کا جینا آسان بنا دیتی ہیں،
ابو علیحہ  اگر موٹیویشن نہیں ہے تو سراپا ء عبرت بھی ہر گز نہیں ہے۔۔۔
وہ ہمت اور جرات ہے۔۔سراپا ء اُمید ہے۔اُمید جو زندگی کو گزارنے کی بجائے جینا سکھاتی ہے۔
اور مجھے تو لگتا ہے محبوب آپ کو حاصل ہی تب ہوتا ہے،جب وہ آپ کو چھوڑ جاتا ہے،جھوٹے وعدوؤں کے سب رنگ و روغن اُتر جاتے ہیں،اور پیچھے آپ کے پاس بچتا ہے آپ کا محبوب۔۔۔جس میں کھوٹ نہیں ہوتا۔۔

میانِ عاشق و معشوق ہیچ حائل نیست۔۔

آپ کے ساتھ رہنے والا محبوب تو بہت سی جگہوں پر مصلحت کوشی سے کام لیتا تھا،اُسے آپ کی کوئی بات بُری بھی لگتی تھی،وہ آپ کو نظر انداز بھی کرتا تھا،آپ سے بیزار بھی ہوجاتا ہوگا شاید کبھی۔۔۔لیکن یہ جو عہدوپیماں سے آزاد محبوب آپ کو ملتا ہے ناں۔۔یہ مکمل ہے،یہ آپ کی سانس میں سانس لیتا ہے،آپ کا ہمزاد ہے۔جسے آپ کو کسی سے بانٹنانہیں پڑتا،وہ بِلا شرکت غیرے آپ کا ہے۔۔

وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے۔۔۔۔

اُس ابو علیحہ کو خدا سے گِلہ تھا کہ وہ یہ سب ڈیزرو نہیں کرتاتھا271دنوں میں اُس نے زندگی کی جوستم گِری سہی،اُس کی جگہ کوئی بھی ہوتا،یہی گِلہ کرتا۔۔ایسے حالات میں خدا سے بد ظن ہوجانا عام سی بات ہے،لوگ قسمت پر شاکی ہونے لگتے ہیں۔۔۔میں ہی کیوں؟کی بازگشت درودیوار کو دہلائے رکھتی ہے۔۔
لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ جب کوئی گِر کر،ٹھوکر کھا کر پھر سے کھڑا ہوتا ہے تواُس کا حوصلہ پہاڑ جیسا بلند ہوچکا ہے،تب کوئی بھی شئے اُسے توڑ نہیں پاتی،کوئی بھی حادثہ اُسے اپنے ارادے سے باز نہیں رکھ پاتا،ابو علیحہ جب گِر کر،ٹھوکر کھا کر سنبھلا تو ایک ایسے انسان کے طور پر سامنے آیا جس کی ڈکشنری میں ناکامی کا لفظ نہیں ہے،مایوسی نہیں،نااُمیدی نہیں ہے۔۔۔ہجر نے اُسے بنا سنوار کر نیا نکور کردیا ہے، وہ فرار نہیں ہوا،اُس نے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے نئے معنی دیے ہیں،وہ صرف حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہے،کیونکہ کھونے کو کچھ بچا ہی نہیں۔۔
ہجرکاٹا ہے تیرے شہر میں خاموشی سے
رنج اٹھایا ہے  مگر شہر سے ہجرت نہیں کی

آپ کس قابل ہیں،کس قابل نہیں ہیں،اس کا جواب آپ کو چھوڑ کر جانے والا کبھی نہیں دے سکتا۔۔اس کا جواب صرف وہ لوگ دے سکتے ہیں جنہوں نے اُس ہجر کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی اُسے آپ کے ساتھ مل کر گزارا ہے،جو آپ کے ساتھ تھے۔۔اس سوال کا جواب کسی بے وفا سے پوچھ کر اپنی وفا کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔
محبوب کو متاثر کرنے کی کوشش عبث ہے،بے کار ہے۔۔۔کیونکہ اگر وہ متاثر ہوگیا تو پھر محبوب نہیں رہے گا۔۔آپ کے متاثرین میں شامل ہوجائے گا۔

عالی نے عاشق کی زندگی کے دو مدارج بیان کیے ہیں،اور کیا خوب کیے ہیں
قبل از محبوب اور بعد از محبوب۔۔۔

با من آمیزشِ او الفتِ موج است و کنار
روز و شب با من و پیوستہ گریزان از من
(میرے ساتھ اُس کی ہم نشینی موج اور ساحل کی باہمی الفت کی طرح ہے، یعنی وہ دن رات میرے ساتھ بھی ہے اور مسلسل مجھ سے گریزاں بھی)۔۔۔

ابو علیحہ نے محبوب کی بے نیازی کو خدائی صفت سے تشبیہ دی ہے۔۔
میر اماننا ہے کہ بے شک یہ خدائی صفت ہی ہے۔لیکن وہ اسے اپنا تا نہیں ہے،ذرا سوچو اگر خدا بے نیاز ہوتا تو کیا وہ آپ کو توڑنے اور پھر سے بنانے کے لیے اتنی لمبی پلاننگ کرتا؟۔۔۔اتنے برسوں پر محیط یہ ٹوٹنے جُڑنے کا عمل،جس نے آپ کو محبوب کے سنگ، تو کبھی اُس کی جدائی کی بھٹی میں تَپا تَپا کر کندن بنا دیا ہے،وہ آپ سے بے نیاز ہے؟۔۔۔نہیں۔
وہ توآپ کے ہر لمحے کا حساب رکھے ہوئے ہے۔۔۔۔اس صفت کا استعمال صرف انسان کرتے ہیں،بے وفاؤں کے قبیلے کا پہلا اصول ہی محب سے بے نیاز ہوجانا ہے۔۔

محبت کی وضاحت ممکن نہیں۔۔یہ ہے یا نہیں ہے،That’s it!
محبت تو عطا ہے،اور یہ صرف اس لیے عطا نہیں ہوتی کہ آپ اپنا سارا زور کسی کو حاصل کرنے پر صَرف کردیں،یہ تو  دل پر پڑنے والی ایسی بھاری ضرب ہے جو توڑنے کے بجائے آپ کو اٹوٹ بنا دیتی ہے،ایک پتھر جو پارس بن جاتا ہے،جس سے چھونے والا بھی کندن بن جاتا ہے،وہ عاشق جوسمجھتا تھا کہ محبوب کے جانے سے دنیا ختم ہوگئی،اب کائنات اُس کی مٹھی میں سمٹ آتی ہے،کیونکہ وہ محبوب جاتے جاتے دنیا کی سب سے قیمتی چیز تو آپ کے پاس ہی چھوڑ گیا”درد”۔۔محبت کا درد،جو نعمت ہے،جس سے آپ کچھ بھی تخلیق کرنے پر قادر ہیں۔۔اورابو علیحہ اس درد سے مالا مال ہے۔
بس ایک کمی ہے کہ وہ ابھی بھی ایک نگاہ کا منتظر ہے۔۔اسے لگتا ہے۔۔

اِس کہانی میں،مَیں نہیں ہوں،
اُس کہانی میں،تم نہیں تھے،

مگر یقیں کی حدوں سے آگے،
گماں کی سرحد سے کچھ پرے ہی۔۔۔

خیال ہے کہ۔۔
لکھی گئی ہے جو لوحِ محفوظ پہ،وہ کہانی،
میرے،تمہارے بِنا مکمل نہ ہوسکے گی(اسماء)

لیکن میں چاہتی ہوں،ابو علیحہ کی کہانی یوں ہی مکمل ہوجائے،اُسے ہجر کی تمہید کے بعد ہجر کی تفصیل نہ لکھنی پڑے۔۔
کامیابیوں اور آسانیوں کے لیے ہمیشہ دعا گو
اسماء!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ہجر کی تمہید۔۔از ابو علیحہ/تبصرہ :اسماء مغل

Leave a Reply to اسما مغل جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *