• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نواز شریف قدم بڑھاؤ، لیکن کیاہم ان کے ساتھ ہیں؟۔۔ذیشان نور خلجی

نواز شریف قدم بڑھاؤ، لیکن کیاہم ان کے ساتھ ہیں؟۔۔ذیشان نور خلجی

حکومت کی طرف سے میاں نواز شریف کی رہائی کے معاملے کو عدالتی اختیار میں دینے کا فیصلہ یقیناً قابل ستائش تھا۔ ایک جمہوری ریاست میں اداروں کی بالادستی اسی کو کہا جاتا ہے۔
لیکن پھر بھی عمران خانی حکومت سے کچھ بھی اخلاقیات کی امید، نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ اس بیانیے کو، بہرحال ہر دو فریقین نے یکساں پروان چڑھایا ہے۔
اول: نواز شریف کی بیماری کو لے کے حکومتی وزراء نے انتہائی سطحی سوچ کا مظاہرہ کیا۔
دوم: اپوزیشن حکومت کا یہ مکروہ چہرہ عوام کو دکھانے میں ضرورت سے زیادہ پوائنٹ سکورنگ کرتی نظر آئی۔
لیکن اب کہ گیند، حکومتی کورٹ کی بجائے نون لیگ کے کورٹ میں کھیلنے کو منتظر پڑی ہے۔ اور معاملہ ایک دفعہ پھر سے نزاع کا شکار ہو گیا ہے۔ جب میاں نواز شریف کا نام ای- سی- ایل سے نکالنے کے لئے حکومت نے شورٹی بانڈز کا مطالبہ کردیا- حکومت کے شدید ناقدین بھی مگر حکومت کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ کہ عدالتی ضمانت پر رہا ایک مجرم کو بغیر کسی ‘کاغذ پتر’ کے باہر جانے کی اجازت تو نہیں دی جاسکتی۔کل کو ضمانت کی مدت پوری ہونے پر وہ واپس ملک نہ لوٹے تو۔۔۔؟
ویسے بھی ہمارے سیاستدان ایفائے عہد میں مثال کبھی نہیں رہے۔ اور معاہدوں کو باتوں میں اڑانے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ اور جو صحافتی حلقے آج حکومت کے بانڈز کے مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کل کو نواز شریف کے فرار کی صورت میں وہی حکومت سے میاں صاحب کی واپسی کا مطالبہ کرتے نظر آئیں گے۔ اور نون لیگ کی طرف سے بانڈز کی بابت جو تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ شورٹی بانڈز دینے کا مطلب سراسر جرم کی قبولیت کا اعتراف ہے۔تو یہ بالکل غلط حقائق ہیں۔ قانون کا ایک ادنٰی طالب علم بھی اس بات کا ادراک رکھتا ہے۔ شورٹی بانڈز بطور ضمانت لئے جاتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں ان کی حیثیت ایک ضمانتی مچلکے کی سی ہوتی ہے۔ اور اس سے قطعاً اعتراف جرم کا پہلو نہیں نکلتا۔
اور لیگی قیادت بالخصوص شہباز شریف اگر اپنے قائد سے مخلص ہیں۔ تو جلد از جلد ان کی ضمانت جمع کروائیں۔ اور “نواز شریف قدم بڑھائو، ہم تمھارے ساتھ ہیں” کے لیگی نعرے کا عملی ثبوت دیں۔ یہی وقت ہے اگر کروڑوں دلوں کے وزیراعظم بانڈ کے معمے میں ہی اٹکے رہے۔ اور خدانخواستہ انہیں کچھ ہوگیا۔ تو ان کے چاہنے والے موجودہ سترہ روپے کلو والی حکومت کا جنازہ تو نکالیں گے ہی لیکن متوالے آپ کو بھی   معاف نہیں کریں گے۔
نوٹ: تحریر میں انتہائی نپے تلے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔کہ اس سے پہلے میاں صاحب کے ہی ایک بیان پہ بات کی گئی اور پھر بات سے بات نکلتی چلی گئی جو کہ بالآخر نا قابل اشاعت ٹھہری۔ سابقہ کالم جواب آں غزل تھا بس۔
ورنہ ہماری دعائیں میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ اگر عوام کی اکثریت چاہے تو وہ چوتھی بار بھی وزیراعظم کی کرسی پہ بیٹھیں گے۔

Avatar