پتھر دل مخلوق۔۔۔مسکین جی

ایک دوست ہے جس کا تعلق وزیرستان کے شدید متاثرہ علاقے سے ہے،۔ جب بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا دلخراش سانحہ رونما ہوا تھا تو وہ ازحد غمگین تھا۔ ،وجہ دریافت کرنے پر کہنے لگا۔۔یار مسکینے! میں نے وزیرستان میں اپنے سگوں کی لاشیں اٹھائی ہیں، اپنے کزنوں کے لوتھڑوں کو ان ہاتھوں سے چُنا ہے، معصوم بچوں کو بم و بارود کا نوالہ بنتے دیکھا ہے لیکن آج تک کسی کی موت پر ایک آنسو نہیں بہایا۔۔

آج جب بلدیہ فیکٹری میں جھلسنے والی مزدور خواتین کے بارے میں پتہ چلا تو بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رو دیا کہ ان کام کرنے والی خواتین میں سے ہر خاتون اپنے گھر کا روزگارِ حیات تھی۔ آج فقط تین سو افراد نہیں بلکہ تین سو خاندان لقمہ اجل بنے ہیں اور ظالم کو پکڑنے کے لیے اس ملک میں کوئی نظام ہی نہیں۔

بعینہ آج ریل کے حادثے کی خبر نے گھر کی خواتین کو بیحد غمزدہ کردیا ہے۔ رات کا کھانا کھانے سے انکاری ہو گئیں ہیں کہ آج پھر سو کے لگ بھگ خاندان یتیمی کا داغ اپنے دامن پر لگا چکے ہیں۔

یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے لیکن ہمارے وزراء کے بیانات سُنے جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے سینوں میں واقعی پتھر کے دل ہیں۔ کوئی اس زاویے سے نہیں سوچتا کہ جو لقمہ اجل بنا ہے وہ میری ہی رعایا میں سے تھا، اس کی ذمہ داری بحیثیتِ امیر مجھ پر بھی تھی۔

آہ! مرشد ابو الکلام یاد آ گئے ۔ بڑے وثوق سے فرمایا کرتے تھے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔

ہمارے وزراء تو چلو ایک طرف ۔ لیکن اس سوشل میڈیا فورم پر بھی آپ کو ایسی پتھر دل مخلوق ملے گی جو بجائے افسوس کے دو چار بول بولنے کے اُلٹا شہید ہونے والے مسافروں کی کردار کشی کر رہی ہے۔ فیاللعجب۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *