ترقی کا سفر- بٹیر سے موبائل فون کا سفر

ترقی کا سفر- بٹیر سے موبائل فون کا سفر
مسرت اللہ جان
ایک زمانہ ہوا کرتا تھا کہ کچھ لوگ ہاتھوں میں بٹیر لئے پھرا کرتے تھے- ایک مخصوص جالی نما پنجر ے میں اپنے بٹیر کو رکھتے اور جب انہیں موقع ملتا تھا تو وہ جالی نما کپڑے سے بٹیر کو نکالتے اور ایک ہاتھ میں پکڑ کر دوسرے ہاتھ کی مٹھی پر اس کو بٹھاتے- بچپن کے دنوں میں ہونیوالے اس طرح کی باتیں ہمیشہ کیلئے نقش ہوا کرتی ہیں ۔اسلئے یہ باتیں ابھی تک یاد ہیں- ان دنوں راقم کےوالدان لوگوں کو بر ا بھلا کہتے تھے کہ یہ فضول لوگ ہیں ،بٹیر ہاتھ میں لئے پھرا کرتے ہیں۔ ان کا اور کوئی کام نہیں ہوتا اس لئے ان لوگوں سے دور رہا کرو -نہ ان کی محفلوں میں بیٹھا کرو- بٹیر ہاتھ میں لیکر پھرنے والوں کو بازاروں میں انہی بٹیروں کو ہاتھ پر رکھ کر اسے کھیلتے اور اس پر شرط لگاتے دیکھا- ہاتھ میں بٹیر اور مخصوص کپڑے کا بنا ہوا پنجرہ ،ہمارے معاشرے کا ایک رخ تھا ۔اس وقت تک ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ بٹیر بھی کوئی کھانے کی چیز ہے – یہ سلسلہ 90 کی دہائی تک رہا – خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بٹیر ہاتھ میں لیکر اسے کھلانے اور شرطیں لگانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے-
پھر ہم نے ترقی کرلی اور اب بٹیر کی جگہ موبائل فون آگیا ہے۔ اب جس شخص کو دیکھیں ہاتھ میں موبائل فون لیکر پھر رہا ہے- ٹھیک ہے کہ یہ ایک سہولت ہے اور اس سہولت کے ذریعے ہم ایک دوسرے سے رابطے رکھتے ہیں لیکن اسے ترقی کہیے ، جہالت کہیے یا پھر ہماری بے وقوفی کہ ایسے لوگ بھی راقم نے دیکھے جو ہاتھ میں سمارٹ فون لئے واش روم میں گئے -زیادہ دیر گزارنے پر سوال کیا کہ بھائی جلدی نکلا کرو واش روم میں بیٹھ کر ٹیکسٹ کررہے ہو تو جواب ملا کہ بھائی واش روم میں بیٹھ کرٹیکسٹ کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے- انکی بات تو راقم کی سمجھ میں آگئی کہ چلو ٹیکسٹ ضروری ہے لیکن اس کا مزا واش روم میں کیا ہوگا اس مزے کے بارے میں آج تک ہم نہیں جان سکے-
ایک سال قبل ایک صحافی دوست کے ہمراہ سوات گئے، جہاں پران کے رشتہ دار کی شادی تھی- جس گھر میں شادی تھی وہاں پر ملک کے مختلف علاقوں سے مہمان بھی آئے ہوئے تھے ۔راقم کو بھی دیگر مہمانوں کیساتھ بیٹھنے کا موقع ملا -سب لوگوں کیساتھ سلام دعا ہوگئی ،ایک کمرے میں بارہ سے سولہ افراد بیٹھے ہوئے تھے سب کے ہاتھوں میں سمارٹ فون تھااور سب ٹیکسٹ ، گیمز ، فیس بک ، ای میل چیکنگ سمیت سرگرم نظر آئے- بعض مہمان تو ایک دوسرے کیساتھ شرطیں بھی لگاتے کہ یہ گیمز میں جلد ہی مکمل کرونگا اور پھر دوسرا کہتا کہ نہیں میں اس کوجلدی مکمل کرونگا اور پھر شرطیں لگ گئیں- ہر کوئی اپنے سمارٹ فون میں سرگرم ، دوسروں کے حال سے بے خبر- دس منٹ تک راقم بیٹھا کہ چلو گپ شپ ہوگی تو کچھ نئی باتیں سننے کو مل جائینگی وہاں پر ایک بزرگ شخصیت تھے جن سے بیٹھ کر باتیں ہوتی رہیں، لیکن پھردس منٹ بعد وہ بھی کام سے نکل گئے اور راقم نے بھی تنگ آکر اپنے سمارٹ فون کو نکال لیا کہ چلو فیس بک ہی دیکھ لیتے ہیں- ایک گھنٹے تک سب بیٹھے رہے اور سارے اپنے موبائل فون میں گم تھے- اسکے بعد کھانے کا دور چلا اور سب نکل گئے اور راقم کی خواہش دل میں ہی رہ گئی کہ ایک دوسروں کے بارے میں جان لیں کہ کس علاقے میں کونسے مسائل ہیں ، کیسی ثقافت ہے، لوگ کیسے ہیں مگر موبائل فون نے ہماری یہ خواہش ہی ختم کردی-
بٹیر سے موبائل فون تک کا سفر تک ہم نے کرہی لیا ہے، لیکن جن لوگوں کے ہاتھ میں آج سے بیس سال پہلے بٹیر ہوا کرتے تھے وہ اتنی سمجھ تو رکھتے تھے کہ کسی حجرے یا محفل میں جاتے تو بٹیر کو پنجرے میں رکھ دیتے اور لوگوں سے جان پہچان کی باتیں ہوا کرتی تھیں۔ لیکن موبائل فون نے ہمیں اتنا بے حال کردیا ہے کہ اب اس کے بغیر ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے-کسی زمانے میں اگر مہمان کسی کے گھر جاتے تو گھر کے سارے افراد کا حال احوال پوچھا کرتے تھے۔ اب مہمان آتے ہیں تو ہیلو ہائے کے بعد سوال ہوتا ہے کہ ” باریک پن والا چارج” یا پھر “فلاں کمپنی کا اصل چارجر مل جائیگا”جیسے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے-
اب ہم ترقی کے اس دور میں داخل ہوگئے ہیں کہ بٹیر کو کھانا ایک فیشن بن گیا ہے تو سمارٹ فون کا جدید ترین ڈیزائن ہاتھ میں رکھنا اور لوگوں کے سامنے رکھ کر اس میں چیٹنگ کرنا بھی ایک فیشن ہے۔ جس سے ہم دوسرے لوگوں کو یہ بتا دیتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنا پیسہ آگیا ہے کہ ہم ایک لاکھ روپے کا موبائل ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں اور عیاشی کیلئے بٹیر کھا سکتے ہیں ۔لیکن ہم اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ ہم اپنوں کی مدد نہیں کرتے۔

Avatar
مسرت اللہ جان
مسرت اللہ جان کا تعلق پشاور شہر سے ہے ، شعبہ صحافت سے گذشتہ 16سالوں سے وابستہ ہیں-پشاور یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد ڈویلپمنٹ جرنلزم میں کورس پشاور کے شعبہ صحافت سے مکمل کی- جس میں صوبہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی- سارک فیلو بھی رہے اور ایشین کالج آف جرنلزم چنائی میں پاکستان کی نمائندگی کی تاہم پاک بھارت تنازعہ کے باعث مسرت اللہ جان )نیو میڈیا( کا کورس ادھورا چھوڑ کر واپس پاکستان آگئے- مختلف اخبارات سے وابستگی رہی- اس وقت دنیا ٹی وی پشاور بیورو کیساتھ بطور سٹاف رپورٹر کے وابستہ ہیں- بین الاقوامی نیوز ایجنسی آرٹی برلن کیساتھ بطور فری لانسر کے بھی کام کیا جبکہ فرانسیسی فوٹوایجنسی کے لئے بھی خیبر پختونخواہ میں کام کرتے رہے- کراچی کی ویب سائٹ ہماری ویب کیلئے بطور بلاگر/کالم نگار لکھ رہے ہیں- مقامی اخبارات میں بھی کالم / بلاگ لکھتے رہے ہیں-کالم نگاروں کی تنظیم ا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *