ایک کامیاب کیرئیر کا انتخاب کیسے کیا جائے؟حصہ اول

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے؟
جدید میڈیکل سائنس نے لاکھوں ڈاکٹرز تو پیدا کر دیے لیکن کوئی ایک بھی حکیم لقمان پیدا نہ کر سکی۔کیوں؟؟
ہماری ذہانت اور تخلیقی صلاحیتیں ڈگریوں کے انبار تلے دب کر کیوں رہ گئی ہیں؟
ہمارے معاشرے میں ڈاکٹروں اور انجینئروں کی ایک کثیر تعداد بیروزگار کیوں ہے؟
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈر اکثر ایک کم تعلیم یافتہ بزنس مین کا ملازم کیوں بن جاتا ہے؟

کیرئیر کیا ہے (What is a career)
آکسفور ڈکشنری کے مطابق:

A person’s “course or progress through life (or a distinct portion of life)”.
یعنی کسی انسان کا طرزِ زندگی یاایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے کوئی انسان جس پیشے کا انتخاب کرتا ہے وہ اس کا کیرئیر کہلاتا ہے۔
اگر یہ انسان کا طرزِ زندگی ہے تو پھر اس کی سوچ،اس کا علم و ہنر، اس کی عقل و دانش، اس کی صلا حیتیں اور مہارتیں اور اس کی خوبیاں اور خامیاں۔یہ سب اجزاء مل کر ہی اس کے طرزِ زندگی کی تشکیل کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام اجزاء کی نشو و نما تعلیم و تربیت کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا ایک مناسب تعلیم و تربیت کے حصول کے بغیر ایک بہتر اور معیاری طرزِ زندگی کا حصول ممکن ہی نہیں ہے۔

ایک درست کیرئیر کا انتخاب وہ فیصلہ کن مرحلہ ہے جو آپ کی زندگی کا معیار بدل سکتا ہے۔مگر اس فیصلے کے لیے بہت سوچ بچار اور گہرے تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔وسیع تر معلومات اور اپنی مہارتوں اور صلاحتوں کا صحیح ادراک اور تجزیہ ایک درست کیرئیر کے انتخاب میں مدد کر سکتا ہے۔

حقائق:
60% سے زیادہ ورکرز اپنے کام سے مطمئن نہیں ہوتے۔
60% لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر انھیں دوبارہ شروعات کا موقع ملے تو وہ کسی اور شعبے کا انتخاب کریں گے۔
20% لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی میں انھیں وہ کردار نہیں ملا جو وہ بہتر طور پر ادا کر سکتے تھے۔
30% پروفیشنل افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی صلاحیتیں کسی اور پروفیشن کے لیے زیادہ سوٹ ایبل تھیں۔
51% لوگ اپنے کیرئیر کے انتخاب پر پشیمان ہوتے ہیں۔
صرف 20%افراد ہی اپنے کام کی نوعیت سے مطمئن نظر آتے ہیں۔
تاہم یہ انتہائی غور طلب نقطہ ہے کہ 1987ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق60% افراد اپنے پیشے سے خوش تھے۔
مندرجہ بالا اعدادو شمار عالمی سطح پر منعقد کیے گئے سروے کے ہیں اور اس میں مغربی معاشرے پر زیادہ فوکس کیا گیا ہے جہاں کیریئر کاؤنسلنگ کے باقائدہ ادارے قائم ہیں اور معلومات کا ایک سمندر بہتا نظر آتا ہے۔پاکستان جیسا ملک جہاں شرح خواندگی پچاس فیصد سے بھی کم ہے اور کیرئیر کاؤنسلنگ کو ایک باقائدہ ادارے کا درجہ ہی حاصل نہیں ہے معاملہ اس سے بھی زیادہ گمبھیر نظر آتا ہے۔

وہ عناصر جو کیرئیر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

آبائی پیشہ:

ہمارے ملک کی تقریباً70%آبادی دیہات میں مقیم ہے جہاں وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کا رجحان بہت کم ہے۔ایسے ماحول میں لوگ کسی نئے شعبے یا ذریعہ آمدنی کے انتخاب کی  بجائے اپنے آبائی پیشے یا کارو بار کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔تاہم شہروں میں بھی کیرئیر کے انتخاب کے لیے زیادہ تر اسی اصول کو اپنایا جاتا ہے۔لہٰذا یہ وہ پہلا عنصر ہے جو ایک طالبعلم کے کیرئیر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔
رجحان ؍شوق:

کسی فرد کا ذاتی رجحان یا شوق بھی کیرئیر کے انتخاب پر اثر ڈالتا ہے۔مثلاً اگر کوئی فرد کھیلوں میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس میں ایک اچھا کھلاڑی بننے کی تمام صلاحیتیں بھی موجود ہیں تو وہ یقیناً اسی شعبے کے انتخاب کی کوشش کرے گا۔

ماحول:

کسی شخص کا ماحول،تہذیب و ثقافت اور کلچر وہ اہم عناصر ہیں جو ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کیونکہ تہذیب و ثقافت ہماری سوچ کی تشکیل کرتے ہیں اور یہی سوچ کیرئیر کے انتخاب کی وجہ بنتی ہے۔

دولت کمانے کا جنون:

اکثر اوقات دولت کمانے کا جنون بھی پیشے کے انتخاب ہر اثر ڈالتا ہے۔لہٰذا جو شخص دولت مند بننا چاہتا ہے وہ نوکری کی بجائے کاروبار کو ترجیح دیتا ہے۔

ٹیلنٹ:

قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ کوئی صلاحیت بھی اکثر اوقات کسی خاص شعبے کے انتخاب کا سبب بنتی ہے۔مثلاً ایک رائیٹر قدرتی طور پر رائیٹر ہوتا ہے خواہ وہ اس کے لیے کوشش کرے یا نہ کرے۔
حالات و واقعات:

ہمارے ملک میں اکثر اوقات کسی فیلڈ کا انتخاب سوچ سمجھ کر یا باقائدہ پلاننگ سے نہیں کیا جاتا بلکہ حالات و واقعات یا کوئی اچانک تبدیلی ہی اس کا سبب بن جاتی ہے

معلومات کا فقدان:

ہمارے معاشرے کا زیادہ تر طبقہ ایک محدود دائرہ کار میں زندگی بسر کرتا ہے۔اس لیے جدید معلومات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔معلومات کا یہ فقدان کیرئیر کے انتخاب کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے۔
مسائل اور الجھنیں:

ہمارے معاشرے میں اکثر اوقات بے پناہ مسائل اور الجھنوں کی حد بندیاں ایک فرد کو آزادانہ کیرئیر کے انتخاب کی اجازت نہیں دیتیں اور وہ ضرورتوں کی پٹڑی پر چل کر ہی منزل پر پہنچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

نئے رجحانات:
خاص طور پر ہمارے ملک کا پڑھالکھا طبقہ کیرئیر کے انتخاب میں نئی ٹیکنالوجی اور جدید رجحانات اپنانے کو ترجیح دیتا ہے۔

رہنمائی کا فقدان:

کیرئیر کاؤنسلنگ کا رجحان ہمارے ملک میں نہ ہونے کے برابر ہے۔مناسب رہنمائی کا یہ فقدان کیرئیر کے انتخاب کو شدید متاثر کرتا ہے۔

اس آرٹیکل میں ان عناصر اور عوامل کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کیرئیر کے انتخاب پربراہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔اوران اقدامات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جن کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک درست کیرئیر کے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے۔
اہم اقدامات:
1: والدین کا کردار

کسی بچے کا رویہ اس کی شخصیت،صلاحیتوں ،کمزوریوں،خوبیوں اور خامیوں کا مظہر ہوتا ہے۔اور بچے کے رویے سے والدین سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہوتا۔اس لیے کیرئیر کے انتخاب میں والدین بہترین رہنما ہو سکتے ہیں۔بدلتے ہوئے وقت کے تقاضے والدین سے اب پہلے سے زیادہ ذمہ داری کا تقا ضا کرتے ہیں۔مگر ہمارے یہاں اکثر والدین کم تعلیم اور لاعلمی کے باعث کیرئیر پلاننگ کا یہ فریضہ درست طور پر انجام دینے سے قاصر ہیں۔ مگر کچھ سمجھدار والدین ایسے بھی ہیں جو بچوں کی رہنمائی کے لیے خود کو جدید دور کی معلومات سے آگاہ رکھتے ہیں۔
2: ذہنی سطح کا تجزیہ

کیرئیر پلاننگ میں ذہنی معیار کا تجزیہ نہایت اہم امر ہے۔ہر شعبہ ایک خاص ذہنی معیار کا تقاضا کرتا ہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ایک عام ذہنی سطح کا حامل فرد کبھی اس فیلڈ میں ترقی نہیں کر سکتا جہاں بہترین ذہنی صلاحیتوں کی ضرورت ہو۔
3: صلاحیتوں کا ادراک

اگر آپ کسی ایسے شعبے کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں جہاں ترقی کے بیشمار مواقع موجود ہوں۔تو پھر آپ بہترین شعبوں کا مطالعہ کرنے سے پہلے اپنی صلاحتوں کا مطالعہ کیجیے۔ایک آرٹسٹک ذہن رکھنے والا شخص آرٹ یا ڈیزائن کے کسی شعبے میں ہی ترقی کر سکتا ہے نہ کہ میڈیکل کے شعبے میں چاہے یہ شعبہ کتنا ہی مقبول کیوں نا ہو۔
4: اساتذہ کا کردار

ایک اچھا اور قابل استاد اپنے شاگرد میں چھپی صلاحیتوں اور پوٹینشل کو با آسانی جانچ لیتا ہے۔اسی لیے ترقی یافتہ ملکوں میں اساتذہ کی ٹریننگ پر بہت توجہ دی جاتی ہے ۔ایک استاد بہت دیانتداری سے ناپختہ ذہن کو کامیاب زندگی گزارنے کا راستہ بتا سکتا ہے۔
5: تعلیمی ادارے کا انتخاب

ایک بہتر تعلیمی ادارے کا انتخاب ایک بہتر کیرئیر کے انتخاب میں بہت معاون ہو سکتاہے۔ایک اچھے ریکارڈ اور اچھی شہرت رکھنے والے تعلیمی ادارے کا انتخاب کیرئیر پلاننگ کی جانب ایک اہم قدم ہے کیونکہ تعلیمی ادارے کا ماحول طالبعلموں کی شخصیت پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔
6: مضامین کا انتخاب

سوچ سمجھ کر اور اپنی ذہنی صلاحیتوں اور دلچسپی کے مطابق مضامین کا انتخا ب ایک کامیاب کیرئیر کی ضمانت ہے۔ہمارے یہاں اکثر والدین بچوں کو اپنی پسند کے مضامین پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔زیادہ تر والدین بچوں کو ڈاکٹر یا انجینیر بنانا چاہتے ہیں۔ڈیزائننگ میں دلچسپی رکھنے والا ایک بچہ والدین کی خواہش کے مطابق ایک ڈاکٹر تو بن سکتا ہے لیکن کبھی اس شعبے میں وہ نام پیدا نہیں کر سکتا جتنا وہ شاید ڈیزائننگ کے شعبے میں کر سکتا ہو۔لہٰذا کیرئیر کے انتخاب میں دلچسپیوں اور رجحان کو مدِنظر رکھنا زیادہ ضروری ہے نا کہ خواہشوں کو۔
7: مالی حیثیت کا ادراک

تعلیمی ادارے ،مضامین اور کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت اپنی مالی حیثیت کو مدِنظر رکھنا ایک دانش مندانہ سوچ کی علامت ہے۔اکثر لوگ اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر مہنگے تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں۔یہ انتخاب اکثر اوقات مالی مسائل ، احساسِ کمتری اور ذہنی انتشار کو جنم دیتا ہے۔ اور تعلیمی ترقی کے یہ سال جو مکمل ذہنی یکسوئی کا تقاضا کرتے ہیں ان مسائل میں گھرے اکثر طالبعلموں کو منزل سے قریب کرنے کے بجائے مزید دور کر دیتے ہیں۔اپنی مالی حیثیت کے مطابق تعلیمی ادارے اور کیرئیر کا انتخاب میں نہایت اہم ہے۔
8: مقصد کا تعین

آپ زندگی میں کیا بننا چاہتے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں،آپ کا مقصد کیا ہے ؟ان سوالات کا جواب کیرئیر کے انتخاب میں بہترین رہنما ثابت ہو سکتا ہے۔اور اگر آپ دیانتداری اور لگن کے ساتھ اپنے مقاصدسے جڑے رہیں تو منزلیں خود راستے بناتی ہیں۔مگر یاد رہے کہ کامیابی محض خواہش سے نہیں بلکہ محنت وکوشش سے ہی ممکن ہے۔
9: حقائق کاادراک

کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت زمینی حقائق کا ادراک نہایت اہم امر ہے کہ خواب اور خواہشیں راستے کا تعین نہیں کر سکتیں بلکہ ایک حقیقت پر مبنی سوچ ہی درست رہنمائی فراہم کر تی ہے۔لہٰذا اپنی پہنچ اور وسائل کی حقیقت سے چشم پوشی اورغیر حقیقی سوچ کو ترک کرکے ہی آپ اس سلسلے میں کوئی معقول فیصلہ کر سکتے ہیں۔
10: غیر ضروری توقعات سے گریز

حالات و واقعات،ماحول ،مستقبل سے کبھی غیر ضروری توقعات اور امیدیں وابستہ نہ کریں۔کیرئیر کے انتخاب میں خود انحصاری ایک انتہائی اہم خوبی ہے کیونکہ بیساکھی کبھی آنکھوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔اپنے حالات،اپنی پوزیشن اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور ان کے مطابق فیصلہ کریں۔تو یقیناآپ ایک درست فیصلہ کر سکیں گے۔
11: وسائل کی دستیابی

اپنے وسائل کا صحیح ادراک کریں اور ان وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے کیرئیر کے انتخاب کا فیصلہ کریں۔صرف زندگی کی خواہشوں کو نہیں بلکہ حا لات کے تقاضوں کو بھی مدِنظر رکھیں۔وسائل کی عدم دستیابی کیرئیر کے انتخاب کو بری طرح متاثر کر تی ہے۔لہٰذا اس پہلو سے غفلت نہ برتیں۔
12: آسان راستے کو ترجیح دیں

کیرئیر پلاننگ میں آسان راستے کو ترجیح دیں ۔ایک راستہ آپ کی خواہشیں طے کرتی ہیں جبکہ دوسرا راستہ وہ ہوتا ہے جو آپ کے وسائل اور ماحول باآسانی فراہم کر دیتے ہیں۔مشکل راستے کی رکاوٹیں ہٹانے میں اپنی توانائیوں کو ضائع کرنے سے شاید یہ زیادہ بہتر ہے کہ ان صلاحیتوں اور توانائیوں کو آسان رستے میں لگا کر زیادہ فائدے اور ترقی کی کوشش کی جائے۔
13: ذہنی اطمینان

اپنی دلچسپیوں اور رجحانات کے برعکس پیشے کا انتخاب اکثر اوقات ذہنی طور پر بے اطمینانی کا سبب بن جاتا ہے۔مثلاً اگر آپ کے اندر لیڈر شپ کی صلاحتیں موجود ہیں تو دوسروں کے ماتحت کام کرنا آپ کے لیے کبھی اطمینان کا باعث نہیں ہوگا۔اپنی فطرت اور عادات و اطوار کے مطابق پیشے کا انتخاب آپ کو کام کے دوران ذہنی طور پر خوشی اور سکون مہیا کرتا ہے اور آپ زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔لہٰذا کیریئر کا انتخاب کرتے وقت اس عنصر کو ضرور اہمیت دیں۔
14: ذاتی تجزیہ Self Judgement

کیرئیر کے انتخاب سے پہلے اپنی ذات کا تجزیہ ضرور کریں۔مگر یہ تجزیہ لازمی طور پر دیانتداری اور حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے۔خود سے بات کریں اور خود کی بات سنیں۔آپ کیا کر سکتے ہیں؟آپ کیا بن سکتے ہیں؟آپ کتنے ذہین ہیں؟کتنے محنتی ہیں؟آپ کی ذہنی و جسمانی صحت کا معیار کیا ہے؟آپ میں کون سی صلاحتیں موجود ہیں؟کیا خوبیاں ہیں ،کیا خامیاں ہیں۔یہ وہ سوال ہیں جن کا بہترین اور انتہائی صحیح جواب آپ کو صرف آپ کی اپنی ذات سے ہی مل سکتا ہے۔اور یہی جواب ایک بہترین کیرئیر کے انتخاب میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔
15: معاشرتی ڈیمانڈ

ایک بہترین افرادی قوت مضبوط معا شرتی بنیادوں کی تعمیر کرتی ہے۔لہٰذا معاشرتی ڈیمانڈ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیشے کا انتخاب ہر لحاظ سے ایک بہترین فیصلہ ہو سکتا ہے۔کیرئیر کے انتخاب سے پہلے یہ تجزیہ ضرور کریں کہ آپ کا ماحول اور معاشرہ آپ سے کیا چاہتا ہے۔مثلاً اگر آپ کے ارد گرد IT کے ماہرین کی قلت ہے   تو اس فیلڈ کا انتخاب بہترین ہو سکتا ہے۔مگر اس صورتحال میں بھی اپنے رجحان اور صلاحیتوں کے برعکس فیصلہ نہ کریں۔
16: دور اندیشی

مستقبل کا فیصلہ کوئی غیر سنجیدہ معاملہ نہیں بلکہ بہت غورو فکر اور سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے۔ آنے والا وقت کیسا ہو سکتا ہے؟وقت کے تقاضے کیا ہوں گے؟اور کیا کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں ان سب باتوں کا تجزیہ ایک ذمہ دارانہ فیصلے کی بنیاد بن سکتا ہے۔لہٰذا موجودہ حالات اور مستقبل کی توقعات و خدشات کا گہرائی سے تجزیہ ایک کامیاب مستقبل کے انتخاب میں بہت مددگار ہے۔
17: اپنی ذمہ داریوں کا احساس

کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت اپنی معاشرتی اور خاندانی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ آنے والے وقت میں یہ غفلت الجھن کی صورت میں سامنے آکر رستے کی رکاوٹ بن سکتی ہے جبکہ ان ذمہ داریوں کا احساس بھی اکثر اوقات ایک درست کیرئیر کے انتخاب اور اچھے مستقبل کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔
18: خاندانی توقعات

خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی خاندانی نظام بہت مضبوط کڑیوں سے جڑا ہے۔اور یہ کڑیاں زیادہ تر ایک دوسرے ہر انحصار کرتی ہیں۔والدین کو بچوں سے بہت سی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔لہٰذا کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت ان خواہشات اور توقعات کوذہن میں رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔اور اس سلسلے میں بہت سی الجھنوں کا سدِباب بھی۔تاہم یہاں بھی اپنی ذہنی صلاحیتوں کو نظر انداز نہ کریں۔
19: آپ زندگی سے کیا چاہتے ہیں

آپ خود کو کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ زندگی سے کیا پانا چاہتے ہیں؟اور کس معیار کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟کیرئیر کے انتخاب میں یہ سوال بہت اہمیت رکھتے ہیں۔یہی مقصد کا تعین کرتے ہیں۔ٖمگر یہ بہت ضروری ہے کہ ان سوالات کا جواب حقیقی سوچ پر مبنی ہونہ کہ محض خواب و خیال پر۔
20: عملی حکمتِ عملی

اپنے فیصلے کو سوچ و بچار کے دائرے میں محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک قابلِ عمل پالیسی اور راستہ وضع کریں۔اس سلسلے میں عملی اقدامات کیا ہو سکتے ہیں؟اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے؟ اس حکمتِ عملی کی ترتیب کے دوران کئی اہم نقاط آپ کے سامنے آئیں گے جن کا تجزیہ مزید بہترفیصلے میں مدد کر سکتا ہے۔
21: سیدھا راستہ (To the point)

خود کو فضولیات میں نہ الجھائیں اور نہ نت نئے تجربات میں وقت ضائع کریں۔اپنے مقصد سے جڑے رہنا مقصد کے حصول کے لیے انتہائی ضروری ہے۔اکثر اوقات ایک بالکل درست فیصلہ کر لینے کے بعد کسی وجہ سے اپنے مقررہ راستے سے ہٹ جاناکیرئیرکے انتخاب کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ صرف سیدھا راستہ ہی منزل پر پہنچنے کا شارٹ کٹ ہو سکتا ہے۔
22: محنت ولگن

خواب اور خواہشیں منزل کا تعین تو کر سکتی ہیں لیکن منزل کو قریب نہیں کرسکتیں۔یہ صرف اور صرف اپنے مقصد کے ساتھ آپ کی اٹیچمنٹ اور اس کے حصول کے لیے کی جانے والی محنت و کوشش ہی ہے جو آپ کو منزل تک لے جا سکتی ہے۔اگر آپ کیرئیر سے متعلق ایک بہتر فیصلہ کر چکے ہیں تواب محنت ولگن کا فقدان ہی ہو سکتا ہے جو آپ کو منزل سے دور کر سکے دوسری کوئی وجہ نہیں۔
23: بدلتے رجحانات کا تجزیہ

اکثر اوقات ایک روایتی سوچ کیریئر کے انتخاب کو بہت متاثر کرتی ہے۔تیزی سے بدلتی دنیا سوچ کے نئے زاویوں کا تقاضا کرتی ہے۔کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت جدید ٹیکنالوجی،رجحانات اور جاب مارکیٹ کا بغور جائزہ ضرور لیں۔کیونکہ یہ ایک بہتر فیصلہ کرنے میں نہایت اہم ہے اور ہو سکتا ہے لاعلمی کی بنا پر ایک بہترین انتخاب گنوا بیٹھیں۔
24: اپنے ٹیلنٹ کا ادراک

اگر آپ کے اندر قدرتی طور پر کوئی ایسا ٹیلنٹ یا صلاحیت موجود ہے جو ارد گرد کے لوگوں میں موجود نہیں ہے تو قدرت کا یہ تحفہ کیرئیر کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔مثلاً اگر آپ ایک سائنٹیفک ذہن رکھتے ہیں اور آپ کے اندر معاشرے کی خدمت کا جذبہ بھی موجود ہے تو آپ بے شک ایک بہترین ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔اگر میتھ آپ کا پسندیدہ مضمون ہے اور آپ ایک لوجیکل مائنڈ بھی رکھتے ہیں  تو پھر  آپ کو یقیناً  انجینئرنگ کی کسی فیلڈ کا انتخاب کرنا چاہیے۔اور اگر آپ ایک آرٹسٹک ذہن رکھتے ہیں تو آپ کے لیے فائن آرٹ کے کسی شعبے کا انتخاب ہی بہتر رہے گا۔

جاری ہے!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *