نائن الیون پر میں‌ کہاں‌ تھی؟ ۔۔ڈاکٹر لبنٰی مرزا

گیارہ ستمبر 2001 کے دن میں‌ اے ٹی این ٹی فون کمپنی کے لئیے ایک کمپیوٹر پر بیٹھی کام کررہی تھی کہ ایک دم دروازہ کھلا اور ہماری سپروائزر اندر آکر کہتی ہے کہ اسلامی دنیا نے امریکہ پر حملہ کردیا ہے۔ میں‌ نے مڑ کر اس سے پوچھا کون سے ملک نے؟
نائن الیون بے شک قریبی تاریخ میں‌ وہ منحوس دن تھا جس نے آج کی دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ ایک دنیا گیارہ ستمبر سے پہلے تھی اور ایک اس کے بعد ہے۔ جو نئی نسل گیارہ ستمبر کے بعد بڑی ہوئی اس کو پتا بھی نہیں‌ کہ اس سے پہلے لوگ اور حالات کچھ نارمل ہوتے تھے اور ان کے درمیان خلیج اتنی گہری نہیں‌ تھی اور دیواریں‌ اتنی بڑی نہیں‌ تھیں۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں‌ جانا ہو یا اسٹیچیو آف لبرٹی دیکھنے ایلس آئلنڈ یا جہاز میں‌ بیٹھ کر دنیا میں‌ کہیں بھی، اس طرح‌ کی سیکیورٹی چیکنگ نہیں‌ ہوتی تھی کہ جوتے اتروائے جارہے ہیں اور ہر کسی کا ایکس رے ہورہا ہے۔ گھر والے جہاز کے دروازے تک آپ کو لینے یا چھوڑنے آجاتے تھے۔
ہمارا ڈپارٹمنٹ چھوٹا سا تھا بیچ اسپیشلسٹ کا۔ جو مسائل کسٹمر سروس حل نہ کرپاتے اس کے فارم بھر کر ہمیں‌ بھیجتے تھے اور ہم لوگ ان چارٹس پر کام کرتے تھے۔ کیرول ایک اوکاہومن سفید فام خاتون تھیں۔ اوکلاہوما میں‌ بڑے شہروں‌ سے باہر لوگ دنیا سے کٹ کر رہ رہے ہیں اور کافی لوگوں‌ کی سورس آف انفارمیشن فاکس ٹی وی چینل ہے جس پر صاف متعصب اور جھوٹی نسل پرست خبریں اور تبصرے پیش کئیے جاتے ہیں۔ جس طرح گاؤں‌ کے اور چھوٹے شہروں‌ کے کم پڑھے لکھے افراد عیسائی دنیا کو ایک اور یہودی دنیا کو ایک اور ہندو دنیا کو ایک اور اپنے خلاف متحد سمجھتے ہیں اسی طرح‌ امریکہ میں‌ بھی کافی سارے لوگ ہیں‌ جن کو نہیں‌ معلوم کہ اسلامی دنیا کتنی بڑی ہے اس میں‌ رنگ برنگے کتنے ساری تہذیبوں کے لوگ ہیں اور وہ ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں اور ان کے درمیان منفرد دشمنی اور رنجشیں نسل در نسل سے چلی آرہی ہیں اور وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان رہیں گے۔ اسلامی امت ایک خیالی تصور ہے جو موقع پرست افراد عام لوگوں‌ کی طاقت کو اپنے مقصد میں‌ استعمال کرنے کے لئیے بڑھاتے ہیں۔ بہت سارے سیدھے سادھے لوگ اس چکر میں‌ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں لیکن یہ تصور نہ کبھی عالمی طور پر کامیاب تھا اور نہ کبھی ہوگا۔ دنیا میں‌ ہر انسان مختلف ہے اور سب ایک جیسے کبھی نہیں‌ بنیں گے۔ ہر ملک، علاقہ اور صوبہ اپنے فائدے کے لئیے سوچے گا۔
اے ٹی این ٹی سینٹر میں کھلبلی مچ گئی۔ سب لوگوں نے کام کرنا بند کردیا اور ہر کوئی ٹی وی دیکھنے لگا۔ ہم لوگ ٹوئن ٹاورز کو ڈھے ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ پہلے ایک بلڈنگ گری پھر دوسری۔ کچھ سمجھ میں‌ نہیں‌ آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے؟ اس وقت کسی کو پتا نہیں‌ تھا کہ حملہ کتنا بڑا ہے اور کتنے علاقے اس کی زد میں‌ ہیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں۔ کسی نے کہا کہ کسی بھی دن ان بلڈنگز میں‌ 50 ہزار افراد موجود ہوتے ہیں۔ کچھ جہاز اب بھی گمشدہ تھے جو ابھی ہوا میں‌ تھے۔ کسی کو نہیں‌ پتا تھا کہ وہ کتنے اور کہاں‌ ہیں اور ان کا کیا ٹارگٹ ہے۔ یہ سوال ہر کسی کے زہن میں‌ تھا کہ کیا ہم بھی نشانے پر ہیں؟
ان دنوں‌ میں‌، میری امی، حسان میرا بھائی جو ابھی صرف 15 سال کا تھا اور میرے دونوں‌ بچے بروکن ایرو، اوکلاہوما میں‌ رہتے تھے جہاں‌ میں‌ نے مورگیج پر ایک مکان خرید لیا تھا۔ بیٹی صرف 7 مہینے کی تھی۔ امیگریشن سروس کی ریکؤائرمنٹ تھی کہ آپ چار افراد کی فیملی کے لئیے غریبی کی طے شدہ لائن سے 125% انکم اپنے ٹیکس پیپرز پر دکھائیں تبھی اپنے اسپاؤس کو اسپانسر کرسکتے ہیں۔ سب ینگ فیملیز اپنے پیروں‌ پر کھڑے ہونے کے لئیے کوشش کرتی ہیں۔ اس پیپر کو لکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جن افراد کے دماغ میں‌ دھماکے کرنے یا کروانے کے خیالات کا کیڑا کلبلا رہا ہے، آپ کو کچھ احساس ہو کہ دنیا میں‌ لوگوں‌ کی زندگی پہلے سے مشکل ہے۔ اگر آپ دنیا میں‌ خود کو کچھ نہیں‌ بنا سکتے اور لوگوں‌ کی مدد نہیں‌ کرسکتے تو الٹا نقصان دے کر آپ کو کیا فائدہ ملے گا؟ دنیا میں‌ کچھ بنانا مشکل ہے اور توڑنا آسان ہے۔ ایسے لوگ جن میں‌ کوئی تخلیقی حس نہیں‌ کہ کوئی نیا دن، نیا تہوار، نئی کتابیں، نئی مشین، نئی عمارت بنائیں اور وہ جو چیزیں‌ پہلے سے بنی ہوئی ہیں ان کے خلاف کھڑے اور توڑتے پھوڑتے دکھائی دیتے ہیں‌ وہ کتنے برے لگ رہے ہوتے ہیں۔ کتنے محنتی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کا کیریر اس تعصب کی بھینٹ چڑھ گیا جو ان 19 مڈل ایسٹرن لڑکوں‌ نے برپا کیا۔ یہ کالج اسٹوڈنٹس تھے لیکن ان میں‌ اتنی عقل نہیں‌ تھی کہ دوسرے ملکوں کے ٹریڈ سینٹر گرانے کے بجائے اپنے ملکوں‌ میں‌ ان سے بڑے ٹریڈ سینٹر بنائیں۔
گھر میں‌ سب سے بڑی بہن ہونے کے ناطے میں‌ نے اپنے خاندان کے لئیے خطرہ بھی محسوس کیا اور اپنی ذمہ داری بھی۔ اپنی امی کو فون ملایا اور ان سے کہا کہ سارے بہن بھائیوں، بچوں‌ اور میرے بہنوئی سب کو گھر پر جمع کریں اور کہیں مت جائیں اور اپنی بندوقیں بھی لے آئیں۔ ان سارے لڑکوں کے پاس امریکی گن کلچر کے مطابق بڑی چھوٹی بندوقیں ہیں۔ میں‌ نے سوچا کیا معلوم کوئی پاگل ہمارے گھر پر حملہ کردیں تو ہم اپنا دفاع کریں۔ جنگ کے دوران شائد ایسے ہی عام لوگ اس طرح‌ سوچنے لگتے ہیں۔ شائد جنگ ہمارے انسانی آباؤ اجداد سے ورثے میں ملا ہوا مدافعتی لاشعور ہے۔ وہ ہمارے سارے خاندان کے لئیے ایک مشکل وقت تھا۔ آج تو سب ڈاکٹرز، نرس، بزنس مین بن گئے لیکن ان دنوں‌ سارے اسٹوڈنٹس تھے۔ علی میرا بھائی ان دنوں‌ امریکی مرین میں‌ تھا، اس نے گھر کے باہر مرین کا جھنڈا لگا دیا۔
سب لوگ میرے گھر جمع ہوگئے اور کئی دن تک ہم لوگ ساتھ رہے۔ میرے بہنوئی کو جو ابھی کالج میں‌ تھا اپنی نوکری چھوڑ دینا پڑی کیونکہ وہ اچھے علاقے میں‌ نہیں‌ تھی اور ایک پاکستانی کوورکرز کو دو کالوں نے اتنی بری طرح‌ سے مارا کہ اس کے جبڑے کی کئی سرجریاں ہوئیں۔ وہ کافی عرصہ تک ٹلسا، اوکلاہوما کے اخبار میں‌ تصویروں‌ کے ساتھ آتا رہا۔ لوگ اس کو پھول بھیجتے، ہسپتال نے فری میں‌ علاج کیا۔ پاکستان میں‌ منگیتر نے منگنی توڑ دی کیونکہ اس کی امریکی گرل فرینڈ کا اخبار میں‌ انٹرویو چھپا کہ وہ ایک دوسرے سے کتنا پیار کرتے ہیں‌ اور ان کا شادی کا ارادہ ہے۔
بہرحال، نائن ون ون کا مطلب یہ نہیں‌ تھا کہ گاڑی کی پیمنٹ نہیں‌ جانی اور گھر کی مورگیج نہیں دینی یا بجلی کا بل نہیں‌ آئے گا۔ کام پر بھی جانا تھا اور گروسری بھی کرنی تھی۔ ایک مرتبہ بینکرپسی فائل کریں‌ تو پھر معاشی طور پر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہے۔ ایک پیر دوسرے کے سامنے رکھتے گئے اور وقت آہستہ آہستہ چلتا رہا۔ اس شام جب میں‌ وال مارٹ گئی تو ٹینشن صاف محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے سے نہایت سنبھل کر تول کر بات چیت کررہے تھے۔ ہر کوئی عموما” سے بڑھ کر شائستگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش میں‌ تھا۔ اسی لئیے کہتے ہیں‌ کہ امریکہ میں‌ مسکرانے اور ہنسنے کا زیادہ رواج ہے وہ اس لئیے کہ یہاں‌ اتنے مختلف بیک گراؤنڈ، ملکوں اور زبانوں‌ کے لوگ ہیں‌ کہ وہ ایک دوسرے سے اچھے تعلق رکھنے کے لئیے کئی نسلوں‌ سے اپنے چہرے کے مثبت تاثرات کا سہارا لیتے آئے ہیں۔
ساری دنیا ایک جھٹکے میں‌ آچکی تھی۔ کافی لوگوں‌ کو ڈر تھا کہ امریکہ کا بارڈر ہمیشہ کے لئیے بند ہوجائے گا، نئے ویزا نہیں‌ دئیے جائیں گے اور یہ بھی مشورے ملے کہ بچے لے کر واپس پاکستان چلے جائیں۔ اس وقت آگے کا کچھ پتا نہیں تھا لیکن میں‌ نے اپنی طرف سے خود کو اور اپنے خاندان کو یہی تسلی دی کہ اگر ایسے ہی ہمت چھوڑ دی تو ہمارا کیا بنے گا؟ گھر اور گاڑی بینک واپس لے لیں گے اور میری جاب کسی اور کو مل جائے گی۔ دنیا چلتی رہے گی۔ پاکستان میں‌ ڈاکٹر بن کر نہ بغیر رشوت اور رسوخ کے گورنمنٹ کی جاب ملنی ہے نہ میرے ابو ملین ڈالر چھوڑ کر دنیا چھوڑ گئے تھے کہ اپنا سینٹر کھول لیں۔ اپنے سسر پر میں‌ اپنا اور اپنے بچوں‌ کا بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی تھی۔ ہمیں‌ اپنے پیروں‌ پر کھڑا ہوکر ان کو سہارا دینے کے لائق بننا تھا۔ یہی اصلی سوال ہیں اور یہی اصلی دنیا اور زندگی ہے۔

نائن الیون کے ری ایکشن کے طور پر کام پر یہ افواہ گردش کررہی تھی کہ کچھ لوگوں‌ نے ایسا کہا ہے کہ ہم بندوق لائیں گے اور جو بھی مختلف دکھائی دیتے ہیں ان کو گولی ماریں گے۔ کیرول نے سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی لگا دی کہ سارا دن مجھ پر نظر رکھتا تھا۔ میں‌ لنچ پر جارہی ہوں یا شام میں‌ گاڑی کی طرف وہ اس بات کی یقین دہانی کرتا کہ کوئی مجھے گولی مارنے کی کوشش نہ کرے۔ آج کے دن یہ بات سوچ کر بھی ہنسی آتی ہے لیکن اس وقت یہ حالات چل رہے تھے۔
ابھی نائن الیون کو کچھ ہی دن گذرے تھے کہ میں‌ اپنی امی کے ساتھ باہر شاپنگ کرنے گئی۔ ان دنوں‌ موٹا بھدا سا سیل فون نکلا تھا کرکٹ کا۔ اس پر حسان نے فون کیا، وہ سرگوشی میں‌ بات کررہا تھا اور بہت سہما ہوا بھی تھا کہ ایک لڑکوں کا گروپ ہمارے گھر کا پیچھے کا دروازہ زور زور سے بجارہے ہیں۔ اس نے بندوق نکال کر لہرائی تو وہ سارے بھاگ گئے۔ نائن ون ون کو فون ملایا، پولیس فورا” پہنچ گئی۔ جب تک ہم لوگ گھر پہنچے تو یہ قصہ ختم ہوچکا تھا۔ گھر پر صرف یہ دو بچے تھے۔ یہ خبر اخبار میں چھپی تو سامنے والے پڑوسی نے پڑھی، اس نے آکر ہماری گھنٹی بجائی اور مجھے کہا کہ میں‌ پولیس آفیسر ہوں اور اگر آئندہ ایسا کچھ ہو تو آپ مجھے فون ملائیں میں‌ فورا” آجاؤں گا۔ میری چھوٹی بہن کالج کے پہلے سیمسٹر میں تھی۔ اس کی انڈین سہیلی کالج کیمپس پر اپنی کلاس کی طرف جارہی تھی تو ایک ٹرک اس کے پاس آکر رکا اور انہوں‌ نے اس پر پانی پھینک کر کہا کہ تم اپنے ملک واپس چلی جاؤ۔
نائن الیون ہونے کے بعد کافی عرصہ تک کسی بھی اونچی بلڈنگ میں‌ ہوتے تو ان معصوم اور بے گناہ لوگوں‌ کا خیال زہن میں‌ آتا جن کے اوپر بلڈنگ گری اور ان کا بھی جو اپنی کھڑکیوں‌ سے کودنے پر مجبور ہوگئے۔ ان کی جگہ ہم خود بھی ہوسکتے تھے۔ دنیا بدل گئی۔ دو غلط ایک صحیح کبھی نہیں‌ بناتے۔ نائن الیون کو بنیاد بنا کر بش کے غلط فیصلوں نے بڑی جنگیں‌ شروع کیں جن کی وجہ سے دنیا پہلے سے بھی زیادہ بٹی اور مزید خطرناک ہو گئی۔ اگر انسان تفرقات کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے سے جنگ کرتے رہیں‌ گے تو دنیا میں‌ کون محفوظ رہے گا؟ سب ویسے ہی مختلف ہیں اور ہمیشہ رہیں‌ گے۔
اس مضمون کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی اس کو پڑھے وہ دوسروں کو نقصان دینے کے بجائے اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ گاندھی جی نے کہا کہ “خود وہ تبدیلی بن جائیں جو آپ دنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں۔” ہر کوئی دنیا بدل دینا چاہتا ہے، اصل بہادری خود کو بدلنے میں‌ ہے۔

tripako tours pakistan

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
طب کے پیشے سے وابستہ لبنی مرزا، مسیحائی قلم سے بھی کرتی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *