جج اور وکیل

انسان اپنی غلطی پر اچھا وکیل بن جاتا ہے،  اوردوسروں کی غلطی پر سیدھا جج بن جاتا ہے

درج بالا بات ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ ایک عام انسان ہی نہیں بلکہ خاص اشخاص بھی اس مرض میں پائےجاتے۔ یہ مرض اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب اس نے وہ شکل اختیار کر لی ہے کہ کسی کو بھی اس مرض میں ہونے کے باوجود بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم مرض کا شکار ہو گئے ہیں ۔ گویا آج اس بیماری نے وہ شکل اختیار کر لی ہے کہ گویا یہ مرض نہیں بلکہ ایک اہم وصف ہے۔

بہر حال اس مرض اور اس سوچ کی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ بکھر چکا ہے،  کوئی بھی شخص کسی کی وکالت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں،  ہر شخص خود جج بننا چاہتا ہے اور جب مسئلہ اس کے اپنے آپ اور اپنے گھر کا پڑ جاتا ہے تو اپنی وکالت ، چرب زبانی سے خود اس طرح کرتا ہے کہ گویا اس کی کوئی خطا نہیں لیکن جب اسی طرح کے مسائل لوگوں کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو اس کی زبان اس قدر تیز چلتی ہے کہ جیسے وہی جج ہو۔

دوسروں کے معاملے میں جج اور خود کے معاملے میں وکیل بن جانا نفع بخش نہیں بلکہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔ انسان کو اس صورت حال پر ہمیشہ غور کرنا چاہئے کہ اگر میں حق پر ہوں تو اپنی صفائی آپ پیش کرنی چاہئے لیکن اگر حق کے بجائے میں ناحق پر ہوں تو جج نہیں بلکہ ایک نادم انسان بن کر اپنی غلطی کا برملا اظہار کرنا چاہئے نہ کہ وکیل بن کر خود کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔۔۔ اور جب دوسروں کے بارے میں کوئی مسئلہ ہو تو جج بننے کے بجائے مسائل کو بڑی ہمدردی کے ساتھ سلجھانے کی فکر ہونی چاہئے ۔۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے،  دوسروں میں عزت بڑھنے کا مطلب سکون واطمینان کا حاصل ہونا ہے۔

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *