کھونااور ملنا ہمارے موبائل کا

سال گزشتہ کے موسم بہار کی بات ہے  کہ ہمارے علاقے میں کھانسی، گلے کی خرابی، اور بخار جیسی بیماریاں قریباً وبائی رنگ میں پھوٹ پڑیں۔قریب قریب ہر گھر میں دو تین افراد تو ایسے ضرور تھے جو صبح اپنے گھر میں نیند سے بیدار ہونے والے دوسرے فرد سے کہہ رہے ہوتے تھے کہ  تُم تو رات بڑے مزے سے سوئے لیکن مجھے نیند ہی نہیں آئی۔ لیکن مقابل سے جواب ملتا کہ ہاں تمہاری بات درست ہوتی اگر میرے بھی کان میں درد نہ ہوتا تو اور بچوں میں یہ کیفیت دگنی تھی. پہلے پہل تو حسب روایت گھریلو ٹوٹکے آزمائے گئے لیکن آرام نہ آنے پر ڈاکٹر کے پاس جانا ہی پڑتا۔سو ،ناچار میں بھی اپنے دو چھوٹے بچے لے کر بھتیجے کے ساتھ موٹر سائیکل پر بغرض علاج ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے عازم سفر ہوئی۔

ہمارا گاؤں سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے دور دراز دیہاتوں میں سے ایک ہے ،جہاں قریب قریب  آپ کو کوئی   ڈاکٹر  نہیں ملے گا. سڑکوں کی حالت بھی تشویشناک ہے اور یہاں عام طور پر سواری بھی موٹر سائیکل ہی کی دستیاب ہے. بعض راستے اتنے پر پیچ ہوتے ہیں کہ سفر کرتے ہوئے گمان گزرتا ہے   گویا موت کے کنویں  میں چکر کاٹ رہے ہوں . خیر ہمیں تو ڈاکٹر کے پاس جانا ہی تھا خواہ راستے کیسے ہی تھے۔

نکلنے لگے تو بڑی بیٹی  نے یہ کہتے ہوئے موبائل فون مجھے پکڑایا کہ امی فون ساتھ لے جائیں ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس کی ضرورت پڑے. بادل ناخواستہ میں نے فون پکڑا اور برقع کی جیب میں رکھ لیا. ورنہ فون اٹھانا مجھے حقیقتاً ایک بوجھ لگتا ہے. جس وقت ہم نکلے سہ پہر شام میں ڈھل رہی تھی ،درختوں کے سائے لمبے ہوچکے تھے ،گھر سے باہر کا موسم اور ماحول بہت ہی خوبصورت تھا. گندم کی کٹائی کا موسم تھا، سندھ میں گندم کی کٹائی انہی دنوں میں ہوتی ہے، گندم کی فصل جب کچی ہوتی ہے تو  بہت ہی خوبصورت  نظر آتی ہے ،یوں  لگتا ہے  جیسے تاحد نگاہ سبز مخمل بچھا دی گئی ہو اور   جب پک جاتی ہے تو یہی سبزہ سنہرے رنگ میں بدل جاتا ہے اور صاحبِ بصیرت کو یہ منظر سونے کی فصل سے کہیں زیادہ قیمتی لگتا  ہے. اکثر جگہوں پر تو ابھی کٹائی جاری تھی. بعض جگہوں پر کٹنے کے بعد تھریشر گہائی میں مصروف تھے. اس گندم کی کٹائی گہائی کے کام کے لیے مقامی لوگوں سے زیادہ تھر سے مزدور اترتے ہیں جنہیں مقامی زبان میں “لائہارے”کہا جاتا ہے. یہ قومیں اکثر غیر مسلم اور خانہ بدوش ہوتی ہیں. چند مویشی، کھانے پینے کے کچھ برتن، اور بوریا سا بچھانے کے لیے، بس یہی کل اسباب و اثاثہ  ہوتا ہے ان کا۔۔اور ایک دو بانس نما لکڑیاں زمین میں گاڑ کر اس کے اُوپر ایک چھپڑ سا ڈال دیتے ہیں. اگر کہیں کہ چھاؤں کرنے کے لیے ڈالتے ہیں تو یہ درست نہیں کیونکہ اس سے وہ چھاؤں حاصل نہیں ہوتی جسے چھاؤں کہا جاسکے. ہاں البتہ دھوپ سے بچنے کی ایک کوشش ضرور کہہ سکتے ہیں.

ہم بچپن سے   ان کا یہی طرز معاشرت دیکھتے آرہے ہیں اور سوچا کرتے ہیں کہ یہ لوگ بغیر اسبابِ ضروریہ   زندگی کیسے گزارتے ہیں؟ اور پھر یہ خیال بھی آتا ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے سامنے ہم پاکستانی قوم کی بھی یہی مثال ہے. وہ بھی یقیناً کہتے ہوں گے کہ یہ لوگ کیونکر زندہ ہیں۔اسبابِ زندگی کو تو انہوں نے خود ہاتھ سے چھوڑ رکھا ہے. بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ ان خانہ بدوش لوگوں میں ایک تبدیلی ضرور نظر آئی ہے کہ سولر پینل کی چھوٹی سی پلیٹ موبائل اور ٹارچ وغیرہ کی چارجنگ کے لیے تقریباً ہر گھر میں نظر آتی ہے جو کہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے اور امید افزا بھی.

کچھ آگے بڑھے تو پیاز کی تیار فصل اپنے گیند نما سفید پھولوں کی بہار دکھلا رہی تھی غرض  قدم قدم پر کوئی نہ کوئی نظارہ پاؤں جکڑ لیتا۔۔اور مجبور کرہا تھا کہ یہ منظر موبائل کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیا جائے،  لیکن تصویر صرف اس لیے نہیں بنائی کہ میرے پاس جوموبائل   تھا اس کے کیمرے کی تصویر معیاری نہ تھی ،سو دل نہ مانا۔۔۔اور انہی نظاروں کی خوبصورتی اور  قدرت کی صناعی پر سبحان اللہ کہتے ہم ڈاکٹر کے کلینک پہنچ گئے۔کلینک کے آس پاس کا ماحول بھی  اپنے اندر دلکشی سمیٹے ہوئے تھا، جیسے کہ وہیں قریب میں سے کسی آٹا پیسنے کی چکی کی “تُک تُک”کرتی ہوئی سریلی آواز کانوں میں رس گھول  رہی تھی، جو کہ آج کل تو شاید نایاب ہو چکی ہے.کسی زمانے میں سر شام ایسی آوازوں سے ماحول  پر سحر  طاری ہو جا تا تھا. ساتھ میں ہی کہیں “پیٹر مشین” کے ذریعے پانی کھینچ کر فصلوں کو دیا جا رہا تھا. کھالے میں بہتا ہوا پانی اپنی الگ ہی رونق رکھتا ہے.

ڈاکٹر صاحب نے  معائنے کے بعد انجیکشن تجویز کیا اور گیارہ سالہ بیٹے کو انجیکشن لگوانے کے لیے گیارہ لوگوں کو بلانا پڑا، جنہوں نے اسےقابو کیا، تب کہیں جاکر ڈاکٹر ٹیکہ لگانے میں کامیاب ہوا. غرض اسی طرح ہنستے روتے ہم ڈاکٹر صاحب سے  دواء لے کر   کلینک سے نکلے تو سورج غروب ہوچکا تھا لیکن فضا میں ابھی روشنی باقی تھی اب ہماری نظاروں میں دلچسپی ختم ہو چکی تھی صرف ایک ہی خیال تھا کہ جلد از جلد گھر واپس پہنچا جائے,لہٰذا واپسی کا سفر قدرے تیزی اور خاموشی سے طے ہونے لگا.

کلینک سے کچھ آگے تک سڑک پکی تھی جو کہ جلد ہی ختم ہو گئی. پھر وہی ناہموار اور کچی سڑک شروع ہو گئی جو کہیں کہیں مہربانی کرتی تو چار پہیوں والی گاڑی کو سینگوں پر سے گزار دیتی. اور کہیں تو ایسی تنگ دامنی دکھاتی کہ پیدل بھی ٹھہر کر پہلے اپنی راہ کھوجتا پھر قدم آگے بڑھاتا. روشنی تو ابھی تھی فضا میں لیکن بڑھتے ہوئے اندھیرے کے آثار دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس نے جلد ہی اپنا تسلط قائم کرلینا ہے. ایسے ہی خاموشی اور اپنے اپنے خیالات میں مصروف سفر طے کر رہے تھے کہ اچانک سڑک کے کنارے پڑے موٹے سے سانپ پر ہم سب کی اکٹھے نگاہ پڑی جو کہ انگریزی کے لفظ U کی شکل میں پڑا ہوا تھا,غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک “دو منہ” والا سانپ تھا یعنی جس کے دونوں سروں پر منہ تھا

.
ابھی تک تو کسی منظر کی تصویر نہیں بنائی تھی لیکن یہ منظر دیکھ کر رہا نہ گیا اور تصویر بنانے کی نیت سے سیل فون کی تلاش میں ہاتھ جیب میں گیا تو خالی لوٹا جو میرے لیے  ناقابل یقین بات تھی. دوبارہ چیک کیا لیکن فون تھا ہی نہیں تو ملتا کہاں سے. اب تو سانپ بھلا کر مجھے اپنی پڑ گئی. اس ناگہانی آفت نے میرے اوسان خطا کر دیے.اِدھر اُدھر دیکھا، جیب کئی بار ٹٹولی بلکہ الٹی ہی کرکے دیکھ لی لیکن موبائل ہوتا تو ملتا. یہ فون کوئی ایسا قیمتی نہیں تھا  کہ میں کہتی میرا بڑا مالی نقصان ہوا لیکن کچھ چیزوں کا قیمتی ہونا مالی قیمتوں سے بالاتر ہوتا ہے. بھتیجے نے بہت تسلی دینے کی کوشش کی لیکن میری وہ کیفیت تھی کہ جو قابل بیان نہیں.اب سیل فون کی تلاش میں واپس مڑے اور جدھر سے آ رہے تھے دوبارہ اُدھر چل دیے. بھتیجے نے اپنے فون سے چیک کیا تو بیل جارہی تھی یعنی نمبر آن تھا لیکن کسی نے رسیو نہیں کیا. پھر اسی طرح بار بار نمبر ملاتے رہے اور تلاش بھی جاری رکھی. ابھی ہم الٹے قدموں قریب ڈھائی سے تین ایکڑ تک ہی پہنچے ہوں گے کہ عین بیچ سڑک کے روشن اسکرین کے ساتھ بجتا ہوا فون نظر آگیا.

وہاں پہنچے اور میں نے جھٹ سے فون اٹھا لیا اور اس وقت مجھے لگا کہ اللہ نے دیا اور میں نے لیا.اب میری کچھ اور ہی حالت تھی اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں.واپسی کی راہ لی،تو سانپ بھی دوبارہ ذہن میں آگیا،لیکن اس جگہ پر اب کوئی سانپ موجود نہ تھا،بس نام خدا تھا اور میں نے   جانا کہ  یہ معجزہ تھا۔

مبارکہ منور
مبارکہ منور
واقعات اور ماحول، ہاتھ پکڑ کر مجھ سے اپنا آپ لکھوا لیتے ہیں. اپنے اختیار سے لکھنا ابھی میرے بس میں نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *