شادی ،بندھن یا گھٹن؟۔۔محسن علی

شادی جیسے نام سے ہی معنی کچھ واضح ہوتے ہیں کہ خوشی کیونکہ ہم کہتے سنتے آئے ہیں شاد رہو آباد رہو۔تو اس کے معنی یہی ہوتے ہیں مگر کیا واقعی شادی کی رات کے بعد انسان اندر سے خوش ہوتا ہے سکون پاتا ہے؟اس کا جواب موجودہ زمانے یا گزشتہ سو سال پرنظر ڈالیں تو نہیں میں ملے گا۔ وجہ کیا ہے ؟ جبکہ کہنے کو یہ رشتہ ارتقائی عمل سے ہوتا ہوا آگے بڑھا۔۔  مگر کیا ایسا سب کرنے کے بعد اس رشتے نے فلاح یا بہتری پائی یا پسپائی کی طرف گیا؟جب یہ رشتہ معاشرتی اور مذہبی روایات کے ساتھ آگے بڑھا وقت کے ساتھ تو اس میں تبدیلیاں رونماء ہوتی رہیں مگر اس میں کامیاب زندگیوں کے حوالے گزشتہ صدیوں اور زمانوں میں شاذ ونادر ہی کیو ں ملتے ہیں؟
جبکہ مذہب نے اس کو سند دے دی اور کہنے کو خدا کی جانب سے اس رشتے کو شریعت ومعاشرتی قانون کا سہارا مل گیا۔مگر غور کیا جائے تو کیا انبیاء اکرام کیا اولیاء،کیا گوتم بدھ اور بنی نوع کی تاریخ مذہبی نقطہ نظر سے آدم و حوا کا رشتہ کیا بہترین تھا؟ ذرا ساغور وفکر کریں جب کہ مذہب نے شادی کے بندھن میں مرد کو عورت کا لباس اور عورت کو مرد کا لباس کہا گیا ہے۔جب سے کائنات وجود میں آئی تو پہلا رشتہ   یہی میاں بیوی (شادی) کا ہی ملتا ہے۔یہ مذہب کے حساب سے رشتہ پاکیزہ و مقدس ہے تو پھر مقدس رشتوں کی توہین کیوں؟تو موجودہ دو ر میں ایسی کوئی مربوط مثال کیوں نہیں ملتی اگر یہ رشتہ اتنا ہی مفید ہے۔پھر اس عزت کے رشتے کا تمسخر اُڑانا کیوں پھر انسان اپنے بڑوں سے ہی سیکھتاہے بڑے کوئی اچھی مثال کیوں نہ  قائم کرسکے۔اگر ان کے دور کا معاشرہ بڑااچھا صاف ستھرے ماحول کا تھا۔تو عزت واحترام کی جو لکیریں پیٹتے ہیں وہ عزت واحترام انہوں نے نہیں رکھا ہوگا۔تب ہی تو آئندہ نسل میں منتقل نہیں ہوا۔
دوسرا اس رشتے کو بندھن کا نام دیا گیا ہے تو اس سے مُراد میری عقل میں  بندھن،دھن کو ایک جگہ کرنا ہوا چاہے وہ زن،زریا زمین ہو اس لئے بندھن کا نام دیا گیا۔جو رشتہ دھن کے درمیان رکھا گیا ہو اس میں انسانی عزت کا تقدس کیسے قائم رہ سکتا ہے مجھے عرض کردیں۔جب ایک عورت  کے  تمام تر اخراجات کا بوجھ مرد پر پڑجاتا ہے۔مزید یہ کہ تمام مذاہب کے پنڈت بھی اس بات پر زور دیتے آئے ہیں عورت کے گھر میں رہنے کو کہتے ہیں ،ڈھک کر رکھنے کو جیسے کوئی شے ہو۔جبکہ حقیقت کا دوسرا روپ یہ ہے کہ عورت افریقہ کی ہو یا تیسری دنیا کی انہوں نے کھیتیوں میں کام کرکے اپنے کام کرنے کی صلاحیت کو منوایا۔جبکہ عالمی اداروں کی رپورٹس بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ عورت مرد سے زیادہ مستقل مزاجی سے اور بیک وقت کئی کام بہتر طرز سے انجام دے سکنے کی اہل ہے۔
جس کی  صلاحیتوں کو دبایا جاتا رہا۔اسی وجہ سے معاشی طور پر کمزور ہونے کی بنا پر وہ محکوم ہوتی چلی جاتی ہے کیونکہ وہ اپنا حق اپنے بچوں کے آگے قربان کردیتی ہے۔وجہ یہ کہ  شوہر گھر کا خرچ بند نہ کردے یا دوسری شادی نہ کرلے یا زیادہ بولنے پر طلاق کا تھپڑ رسید نہ کردے۔ کیونکہ ہم گزشتہ زمانوں سے نکل چکے ہیں اور نئے عہد میں داخل ہوچکے ہیں تو   ہمیں نئی طرز پر رشتوں کی بنیاد بھی رکھنی پڑے گی۔کیونکہ قدیم چیز وقت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے جیسے بہت سی مخلوقات یا بہت سے دنیاوی قانون کیوں نہ ہم اس نئی صدی میں اس رشتے کو باہمی احترام وعزت کا منزل تک پہنچنے کے ایک جہت متعین  کریں۔
اور ہمیں معاشرتی تقاضوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اس رشتے کو بھی اس نظریہ سے دیکھنا پڑے گا اور اس پر سے مذہبی چھاپ کو ختم کرنا پڑے گا۔کیوں نہ اب اس رشتے کو مذہب سے الگ کردیا جائے اور یہ نکاح و طلاق کا معمہ ختم کیا جائے اور انسانوں کو آزاد  بنیادوں پر رکھا جائے جیسے چین کی ایک قدیم ترین کمیونٹی بنا کسی مذہبی مہر کے رہتے ہیں۔ کیونکہ وہاں شادی کی جگہ آزاد رشتہ اس بنیاد پر ہے کہ لڑکا لڑکی کی رضامندی ہوتو بس عورت یا مرد جو چاہے باہمی رضامندی سے اپنا چند ضروری سامان لے کر ساتھ رہنے لگتے ہیں اور ان کی رضا مندی پر بس ایک کھانا ہوجاتا ہے  مل کر دو گھرانوں کا، جس کے لئے نہ کوئی پیسوں کا بوجھ اور نہ کوئی فالتو اخراجات ، جب تک دونو ں کے درمیان اتفاق رہتا ہے دونو ں ساتھ رہتے ہیں جب اگر علیحدہ ہونا ہو تو کوئی بھی ایک اپنا بستر باند ھ کر نکل جاتا ہے۔
اس طرح سے زندگی بھر میں ہر مرد یا عورت   ایک یا دو شادیاں کرتے ہیں۔اگر بچہ پیدا ہوجائے تو دونوں اپنے ذمہ میں آدھا آدھا خرچہ لیتے ہیں یا جو بھی ان کے درمیان طے ہوجائے، ان کے نجی زندگی کے معاملات بمشکل کورٹس کی شکل دیکھتے ہیں۔یہ لوگ اپنے نجی زندگی کے معاملات میں نہ صرف پکے ہوتے ہیں۔جبکہ ہمارے اور باقی دنیا کے لوگ  شادی کے عجیب بے ہنگم رشتے کو تسلیم کرلیتے ہیں جس میں مسلسل ایک گھٹن کی فضاء رہتی ہے اور بچوں کی ذہنی نشونماء بھی نہیں ہو پاتی اور آبادی کی بڑی اکثریت کے بچے گھریلوں ناچاقایاں دیکھ کر مشتعل یا انتہا پسندی کے رجحان کی طرف بڑھتے ہیں یا پھر ضدی اور اڑیل قسم کے۔اگر ہم نے اس رشتے سے جان چھڑالی او ر خوشگوار ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقینا ہم نے آج تک جتنی ترقی کی اس سے کئی گنا  زیادہ ترقی اس کے آدھے وقت میں کرسکیں  گے۔
نیز مزید علوم نکھر کر سامنے آئیں گے۔ کیونکہ معاشرتی قید اور ذہنی تناؤ کی زندگی میں ذہن مشکل سے پنپتے ہیں ضروری نہیں کہ ہر کیچڑ میں کنول کا پھول کھلے اس کے لئے بھی خاص ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔جبکہ ہم محض اس شادی کے رشتے کولے کر ہی اپنی زندگی کا سرمایہ اس پر لگاتے ہیں پھر طلاق میں۔پھر جائیدادیں بانٹنے پر بجائے کسی ڈھنگ کے کاموں کے ،تو  میری یہ خواہش ہے کہ اس رشتے کو ختم کرنے کے لئے خاص کر ملحد یا آگنوسٹک لوگ اس کو قانونی طریقے سے معاشرے میں نافذ کریں اس بارے میں سوچیں سنجیدگی سے مجھے یقین ہے ہم کچھ مزید عرصے میں اس رشتے سے جان چھڑا پائیں  گے او ر اپنا ذہن بہتر کاموں کی طرف لگاسکیں گے۔آج بھی یہ رشتہ دم توڑ رہا ہے آج بھی ہمارے جیسے معاشرے میں لوگ چھپ چھپا کر اس طرز پر زندگی گز ار رہے ہیں مگرآخر شادی کے نام پر ہم اپنا معاشی و ذہنی استحصال کب تک کریں گے۔۔آخر کب تک؟

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *