پاکستانی تاریخ کا تاریک ترین دن 16 دسمبر 2014 ء

اگر آج مجھ سے پوچھا جائے کہ زندگی کے بہترین دن کون سے ہوتے ہیں تو ایک لمحہ بھی رکے بغیر میرا جواب ہو گا " اسکول میں گزرے دن " .
اور بیشتر لوگوں کا یہی جواب ہوتا ہے . کسی سے بھی بات کر کے دیکھ لیں شائد ہی کوئی ایسا انسان ہو جو جوان ہو کر ایک بار اپنا اسکول دیکھنے نہ گیا ہوں . یا دوستوں میں بیٹھ کر اسکول کی یادوں میں نا کھویا ہوں .
یاد کرتی ہوں کہ جب یونیورسٹی کے دنوں میں میرا امتحانی سینٹر میرا اپنا اسکول بنا تو پیپر شروع ہونے سے گھنٹہ پہلے ہی اسکول پہنچ گئی اور اسکول کے ایک ، ایک کلاس روم میں جا کر اس کی دیواروں کو ہاتھ لگا لگا کر بچپن یاد کرتی رہی .
آج بھی جب لاہور جاؤں تو پوری کوشش ہوتی ہے کہ ایک چکر اسکول کا ضرور لگایا جائے .
میری والدہ بتاتی ہیں کہ بڑے بہن ، بھائی اسکول جاتے تھے اور تم تین سال کی، روز لڑتی تھی کہ اسکول جانا ہے . اور آخر کار تم نے اسکول میں داخلہ لیں ہی لیا .
اسکول پہلے دن سے ہی مجھے بہت Fascinate کرتا تھا .
میری ہی طرح خولہ کو بھی اسکول بہت fascinate کرتا ہوگا . 2014 ء ، 16 دسمبر کی صبح وہ بھی ضد کر کے اسکول میں داخلے کے غرض سے اپنے والد کے ہمراہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں گئی تھی . وہ پرنسپل کے کمرے میں تھی جب دہشت گرد اسکول میں داخل ہوۓ . خولہ وہی ہے جو اپنے والد کے سامنے گولی کا نشانہ بنی . جسے نشانہ لگا کر باپ کے سامنے گولی ماری گئی . خولہ پانچ برس کی تھی .سوچتی ہوں اسے گولی کا نشانہ بناتے اس انسان نما مخلوق کو ایک پل بھی اس معصوم پر رحم نہیں آیا ہوگا ؟ اسکول جانے کی ڈھیر ساری خوشی اس کے اندر رچی بسی ہوئی تھی . کچھ کرنے کا ، کچھ بننے کا خواب تھا. سب کچھ اس کے خون کے ساتھ بہہ گیا .
خولہ کے والد نے کسی نیوز چینل میں بتایا کہ اس کے لئے بازار سے کچھ لاتا تو اتفاقا ہی اچھی چیز آجاتی . سب گھر والے لڑتے کہ آپ خولہ کے لئے جان بوجھ کر سب سے اچھی چیز لاتے ہیں . دیکھ لیجئے خولہ کی موت بھی خاص تھی . اس نے شہادت حاصل کر لی .
یہ کہتے کہتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے ،اور میں ٹی وی کے سامنے بیٹھی یہ سوچتی رہی کہ یہ کیسی خاص موت ہے یہ کیسی "زبردستی کی شہادت" ہے ؟
بچے خوش خوش اسکول جائے اور واپس مردہ حالت میں اۓ . کیا شہادت کا لفظ خولہ کی یادوں کے دکھ کو کم کر پاۓ گا ؟ کیا ہر باپ اپنی لاڈلی کو اسکول چھوڑتے جاتے ہوۓ ایک لمحے کمزور نہیں پڑے گا ؟
اس سانحہ میں 144 بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے . چاہے تو لفظ شہید ساتھ لگا لیجئے. لیکن جن کے بچے اس دنیا میں لمحہ بھر میں چلے گئے . انھیں آپ کے اس لفظ " شہید " کے اضافے سے کوئی فرق نہیں پڑھنے والا .
کسی کا سب سے بڑا بیٹا چلا گیا ، اور کسی کی سب سے چھوٹی بیٹی .تین بہنوں کا اکلوتا بھائی چلا گیا . کئی بچے معذور ہوۓ . اور ذہنوں اور دلوں کے گھاؤ کا تو کہیں ذکر ہی نہیں . افسوس کہ دعوا تو دشمن کی قمر توڑنے کا تھا لیکن اس واقعہ نے کتنے ہی باپوں کی کمر توڑ دی . ماؤں کو جیتے جی مار دیا .
لیکن آج دو سال بعد بھی ہم اس سانحے سے کچھ سیکھ نہ سکے ، آج بھی بہت سے اسکولوں میں سیکورٹی کا انتظام نہیں .
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
سیکورٹی تو دور کی بات ، ہزاروں اسکولوں میں بھی آج بھی بنیادی ضرورت کا سامان نہیں . اور سیاست دانوں کے پاس اپنے اتنے مسائل ہیں کہ ان باتوں اور چیزوں پر کوئی دھیان نہیں . نیکٹا نام کا ایک ادارہ بنا دیا اور اس کو مڑ کر دیکھنا پسند نہ کیا کہ وہ فعال ہو سکا یا نہیں . نیکٹا آج بھی فعال نہیں ہو سکا . لیکن ہم پرائم منسٹر بننے کی دوڑ میں اتنے الجھے ہیں کہ ہمارے نوجوان نا حق قتل ہو جائے تب بھی ہمیں ہوش نہیں آنے والا .
فیض صاحب سے کسی نے پوچھا تھا کہ پاکستان ترقی کریں گا یا ختم ہو جائے گا ، تو آپ نے جواب دیا افسوس کی بات پاکستان نہ ترقی کریں گا نا ختم ہوگا . بلکہ یہ اسی طرح چلے گا .جیسے آج چل رہا ہے .
ہم کچھ نہیں کر سکتے سواے اس دعا کے کہ :
بچے اسکول جائے واپس نہ اۓ ، اے خدا پھر ایسا دن نہ اۓ .

آمنہ احسن
کتابیں اور چہرے پڑھنے کا شوق ہے ... معاملات کو بات کر کے حل کرنے پر یقین رکھتی ہوں ....

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *