کیا ہے آسام میں این آر سی کی کہانی۔۔۔۔میناکشی تیواری

این آر سی کو لے کر  ایک مدعا یہ بھی رہا  کہ این آر سی کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک بڑا طبقہ اس کے لئے ریاست کی بی جے پی حکومت کو ذمہ دار مانتا ہے، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔

برٹش کے وقت سے ہی آسام میں باہری ریاستوں کے لوگوں کا آنا-جانا لگا رہتا تھا۔ وجہ واضح طور پر روزگار تھا۔ ریاست کی آبادی زیادہ نہیں تھی اور چائے کے باغان وغیرہ میں کام کرنے کے لئے پڑوسی بنگال-بہار کے علاوہ کئی ریاستوں سے لوگ یہاں آئے اور یہیں بس گئے۔وقت کے ساتھ آسام ریاست کی تقسیم ہوتی رہی اور 1947 میں آزادی کے ساتھ سلہٹ علاقے کے مشرقی پاکستان میں جانے کے ساتھ آسام کی حالیہ شکل ہندوستان کا حصہ بنی۔

روزگار کے لئے یہاں باہری ریاستوں سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے مقامی بنام باہری کی مزاحمت ہمیشہ سے چلتی رہی تھی۔ آسام ایک سرحدی ریاست ہے اور اس لئے آزادی کے بعد بڑی تعداد میں لوگ مشرقی پاکستان سے ہندوستان میں آئے تھے اور آسام کے قریب ترین ہونے کی وجہ سےیہاں بس گئے۔اس کے بعد سے ریاست میں باہری لوگوں کے غیر قانونی طور پر آنے کا مدعا سر اٹھانے لگا اور 1951 کی مردم شماری کے بعد این آر سی یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس تیار کیا گیا۔ تب اس کو مردم شماری کے دوران ملے لوگوں کی تفصیل کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔

حالات تب سنگین ہوئے جب مشرقی پاکستان میں بانگلا زبان کی تحریک شروع ہوئی اور بانگلابھاشی لوگ ہجرت کر کےہندوستان پہنچنے لگے۔ وقت کے ساتھ یہ تحریک بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں بدل گئی، جس کا خاتمہ 1971 میں ہندوستان پاکستان جنگ کے بعد بنگلہ دیش کی تشکیل کے ساتھ ہوا۔

آسام تحریک (فوٹو بہ شکریہ: وکیپیڈیا)

آسام تحریک (فوٹو بہ شکریہ: وکیپیڈیا)

ایسا بتایا جاتا ہے کہ اس وقت تقریباً دس لاکھ لوگ بنگلہ دیش سے ہندوستان پہنچے تھے۔ حالانکہ اس وقت کی ہندوستانی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہندوستان پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت نہیں کرے‌گا اور کسی بھی مذہب کے پناہ گزین ہوں، ان کو واپس جانا ہی ہوگا۔1971 میں بنگلہ دیش کی تشکیل کے بعد ان میں سے زیادہ تر واپس چلے گئے لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک لاکھ کے قریب بنگلہ دیشی آسام میں ہی رہ گئے۔

ریاست میں اتنی تعداد میں بنگلہ دیشیوں کے آنے سے مقامی لوگوں میں آسامی تہذیب اور اپنی کمیو نٹی  کو لےکر عدم تحفظ کا تاثر پیدا ہونے لگا، جس کے بعد دو تنظیمیں ریاست میں رہ رہے باہری-خاص طور پر بنگلہ دیش سے آئے ہوئے لوگوں کے خلاف جارحانہ طور سے سامنے آئیں  اور آسام تحریک کی بنیاد پڑی۔آسام تحریک بنیادی طور پر آل آسام اسٹوڈنٹ یونین (آسو) اور آسام گن سنگرام پریشد شامل تھے۔ اس تحریک کو آسامی بولنے والے ہندو، مسلم، یہاں تک کہ بانگلابھاشیوں کی بھی حمایت ملی۔

یہ سال 1978 تھا۔ اسی بیچ ایک رکن پارلیامان کی موت کے بعد ہوئے ضمنی انتخاب کااعلان ہوا، جس میں سامنے آیا کہ اچانک ریاست میں رائےدہندگان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ مانا گیا کہ اس کی وجہ بنگلہ دیش سے آئے لوگ ہیں، جن کے نام اب  رائےدہندگان کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔تحریک کے رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ ریاست کی آبادی کا 31 سے 34 فیصد باہری ہیں، جو غیر قانونی طور پر یہاں آکررہ رہے ہیں۔ تب انہوں نے مرکزی حکومت کے سامنے کچھ مانگیں رکھیں-پہلی کہ ان کی پہچان‌کر کے ان کو رائےدہندگان کی فہرست سے ہٹایا جائے اور جب تک ایسا نہ ہو، ریاست میں کوئی انتخاب نہ ہوں۔

دوسری یہ کہ ریاست کی حدود کو سیل کیا جائے، جس سے غیر قانونی طور پر آنے والے لوگوں پر روک لگ سکے۔

1978 سے 1985 کے دوران ریاست میں یہ تحریک زور پکڑ چکی تھی۔ حکومت کی اسمبلی انتخاب کروانے کی کوشش بےحد کم ووٹ فیصد کی وجہ سے ناکام ہو گئی تھی۔جگہ جگہ مشرقی پاکستان سے آئے مسلمانوں کے ساتھ تشدد ہو رہا تھا۔ چھے سال چلی اس تحریک میں تقریباً ساڑھے آٹھ سو کارکنان  نے اپنی جان گنوائی تھی۔1983 میں مورے گاؤں ضلع کے نیلی میں ہوئے قتل عام کے بعد مرکزی حکومت اور تحریک کے رہنماؤں کے درمیان سمجھوتہ کو لےکر بات چیت شروع ہوئی اور 15 اگست 1985 کو اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے لال قلعہ سے اپنی تقریر میں آسام سمجھوتہ کااعلان کیا۔

آسام سمجھوتہ کے وقت اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی (فوٹو بہ شکریہ : ٹائمس8 ڈاٹ ان)

آسام سمجھوتہ کے وقت اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی (فوٹو بہ شکریہ : ٹائمس8 ڈاٹ ان)

اس کے مطابق 25 مارچ 1971 کے بعد ریاست میں آئے لوگوں کو غیر ملکی مانا جائے‌گا اور واپس ان کے ملک بھیج دیا جائے‌گا۔ وہیں 1951 سے 1961 کے درمیان آسام آئے لوگوں کو شہریت اور ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔ 1961 سے 1971 کے درمیان آنے والے لوگوں کو شہریت ملی، لیکن حق رائے دہی نہیں۔سمجھوتہ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ 1966 سے 1971 کے درمیان جن لوگوں کے نام رائےدہندگان کی فہرست میں جڑے ہوں‌گے، ان کو ہٹایا جائے‌گا اور اگلے 10 سالوں تک ان کا ووٹ کرنے کا حق چھین لیا جائے‌گا۔

اسی بنیاد پر این آر سی کو اپ ڈیٹ کیا جانا تھا۔ اس کے مطابق ریاست کا کوئی بھی باشندہ اگر یہ ثابت نہیں کر سکا کہ اس کے آباواجداد 24 مارچ 1971 سے پہلے یہاں آکر نہیں بسے تھے، اس کو غیر ملکی قرار دیا جائے‌گا۔اس کے بعد این آر سی اپ ڈیٹ کا مدعا 1999 میں مرکز کی واجپائی حکومت نے اٹھایا اور اس کو اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ لیا۔ حالانکہ سال 2004 میں حکومت بدلنے تک اس بارے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

مئی 2005 میں منموہن سنگھ حکومت کے وقت مرکز، آسام حکومت اور آسو رہنماؤں کے اجلاس ہوئے اور این آر سی اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔2009 میں سپریم کورٹ بھی اس کارروائی  میں جڑ گیا، جب آسام پبلک ورکس نام کے ایک این جی او نے غیر قانونی مہاجروں کو آسام کے رائےدہندگان فہرست سے ہٹانے کو لےکر عدالت  میں عرضی دائر کی۔

جون 2010 میں ریاست کے دو اضلاع-کامروپ اور بارپیٹا میں این آر سی اپ ڈیٹ کرنے کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا، لیکن تشدد اور نظم و نسق سے جڑے مسائل کی وجہ سے اس کو مہینے بھر میں ہی بند کرنا پڑا۔اس کے بعد ریاستی حکومت نے جولائی 2011 میں اس عمل کو اور آسان بنانے کے لئے ایک سب-کمیٹی بنائی۔ مئی 2013 میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو این آر سی کے متعلق طور-طریقوں کو آخری خاکہ دینے کی ہدایت دی۔

اس کے بعد سال 2014 میں کورٹ نے این آر سی اپ ڈیٹ کرنے کا یہ عمل شروع کرنے کا حکم دیا اور تب سے سپریم کورٹ اس کارروائی کی نگرانی کر رہا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی/nrcassam.nic.in

فوٹو: پی ٹی آئی/nrcassam.nic.in

2015 میں این آر سی درخواست کا عمل شروع ہوا اور عدالت نے 31 دسمبر 2017 کو اس کو پورا کرنے کو کہا۔ این آر سی کا پہلا مسودہ 31 دسمبر 2017 اور ایک جنوری 2018 کی درمیانی رات میں شائع ہوا تھا۔ اس میں 3.29 کروڑ امید وارں میں سے صرف 1.9 کروڑ لوگوں کے نام ہی شامل کئے گئے تھے۔اس کے بعد 31 جولائی 2018 میں شائع این آر سی کے فائنل مسودہ میں کل 3.29 کروڑ درخواستوں میں سے 2.9 کروڑ لوگوں کے نام شامل ہوئے تھے، جبکہ 40 لاکھ لوگوں کو اس فہرست سے باہر کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ  جون مہینے میں این آر سی مسودہ (ایکسکلوزن) جاری ہوا، جس میں 102462 لوگوں کو باہر کیا گیا۔اس فہرست میں جن لوگوں کے نام ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے نام جولائی 2018 کو جاری این آر سی کے مسودہ میں شامل تھے لیکن بعد میں وہ اس کے لئے لائق نہیں پائے گئے۔

لوگوں میں ڈر

این آر سی کا پہلا مسودہ جاری ہونے کے بعد سے ہی کارروائی  پر سوال اٹھنے لگے تھے، بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے دستاویز پورے ہونے کے باوجود ان کا نام نہیں آیا۔کارروائی  کو لےکر چل رہی شکایتوں کے درمیان اٹھنے والا ایک مدعا یہ بھی تھا کہ این آر سی کے بہانے سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ مختلف میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ کارروائی  میں ہوئی گڑبڑیوں کے شکار صرف مسلمان ہی نہیں، ہندو بھی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی فہرست میں نام نہ آنے کے بعد کے عمل کو لےکرکوئی وضاحت بھی لوگوں میں پیدا ہوئے ڈر کی ذمہ دار ہے۔ این آر سی کے ڈرافٹ میں نام نہ آنے کے بعد خودکشی کے بھی کئی معاملے سامنے آئے، جہاں رشتہ داروں اور کارکنان نے کہا کہ اس کی وجہ این آر سی ہے۔ حالانکہ ریاستی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ ایسا نہیں ہے۔ خودکشی کی وجہ ذاتی ہیں۔

گزشتہ  جولائی میں گوہاٹی کے ایک این آر سی سروس سینٹر کے باہر اپنے دستاویز دکھاتے ہاٹیگاوں کی مایا دیوی (بائیں)اور مالتی تھاپا۔ 30 جولائی 2018 کو آئے این آر سی مسودہ میں ان دونوں اور ان کے رشتہ داروں کے نام نہیں ہیں۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

گزشتہ  جولائی میں گوہاٹی کے ایک این آر سی سروس سینٹر کے باہر اپنے دستاویز دکھاتے ہاٹیگاوں کی مایا دیوی (بائیں)اور مالتی تھاپا۔ 30 جولائی 2018 کو آئے این آر سی مسودہ میں ان دونوں اور ان کے رشتہ داروں کے نام نہیں ہیں۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

گزشتہ  دنوں وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ جن لوگوں کے نام فہرست میں شامل نہیں ہوں‌گے، ان کے لئے حکومت اپیل کرنے کا پورا انتظام کرے‌گی۔ جن لوگوں کے نام این آر سی کی آخری فہرست میں شامل نہیں ہوں‌گے، ان میں سے ہرایک فرد غیر ملکی عدالت (فارنرس ٹریبونل) میں اپنا معاملہ لے جا سکتا ہے۔وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی فرد کا نام فائنل این آر سی فہرست میں نہیں آتا ہے، تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کو غیر ملکی قرار دیا گیا۔

فارنرس ایکٹ 1946 اور فارنرس ٹریبونل آرڈر 1964 کے مطابق، کسی بھی فرد کو غیر ملکی اعلان کرنے کا حق صرف فارنرس ٹریبونل کے پاس ہی ہے۔ ایسے میں اگر کسی کا نام فہرست میں نہیں ہے تو وہ ٹریبونل میں 120 دن کے اندر اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ یہ  مدت پہلے 60 دن کی تھی۔وزارت نے یہ بھی کہا کہ فہرست میں نام نہ آنے والے لوگوں کو اپیل کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو، اس کے لئے کافی تعداد میں ایسے ٹریبونل بھی بنائے جائیں‌گے

https://youtu.be/03rxPrFsfqo?t=7

مخالفت

این آر سی کی کارروائی پر سوال لگاتار اٹھے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے بعد کے عمل کو لےکر وضاحت نہ ہونا مشکلوں کا سبب بنا رہا۔جہاں لمبے وقت تک سماجی کارکن ہی اس کو لےکر بول رہے تھے، وہیں جیسےجیسے آخری فہرست کی اشاعت کی تاریخ قریب آ رہی تھی، بی جے پی اور اس سے جڑی تنظیموں  کی مخالفت بھی سامنے آ ئی۔خود مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت نے بھی سپریم کورٹ سے ری-ویری فکیشن کی اپیل کی تھی، جس کو خارج کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ریاست کے پارلیامانی امور کے وزیر چندرموہن پٹواری نے گزشتہ  مہینے اسمبلی میں  عدالت کے حکم کی خلاف ورزی  کرتے ہوئے این آر سی ڈیٹا کے ضلعی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ری ویری فکیشن بہت ضروری ہے۔

گوہاٹی میں اے بی وی پی کے ذریعے این آر سی اشاعت کی مخالفت میں ہوا مظاہرہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

گوہاٹی میں اے بی وی پی کے ذریعے این آر سی اشاعت کی مخالفت میں ہوا مظاہرہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

وہیں اگست کے دوسرے ہفتے میں آر ایس ایس سے جڑی تنظیموں  نے شہریت سے متعلق اس فہرست کی اشاعت کے خلاف مہم چھیڑتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کو ‘ دوبارہ تصدیق (ری ویری فائی) نہیں کیا جاتا اور سو فیصد’خالص ‘ نہیں بنایا جاتا، اس کی اشاعت نہیں ہونی چاہیے۔ساتھ ہی اے بی وی پی کے اسٹیٹ جوائنٹ سکریٹری دیباشیش رائے نے بھی کہا کہ ان کی جانکاری کے مطابق بہت سے اصل باشندوں کے نام این آر سی میں نہیں آئے ہیں، بجائے اس کے غیر قانونی مہاجروں کے نام اس میں جڑ گئے۔ ہجیلا نے ری ویری فکیشن کے نام پر ایسی این آر سی بنائی ہیں، جس میں غیر قانونی مہاجروں کے نام ہیں۔

ری ویری فکیشن کی مانگ پر زور دیتے ہوئے بی جے پی ایم ایل اے شیلادتیہ دیو نے بھی کہا کہ وہ دوسرا جموں و کشمیر نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا، ‘ تقسیم کے کئی ہندو متاثرین اور ان کے آباواجداد کے نام شاید این آر سی میں شامل نہیں ہوں گے۔ اگر فائنل این آر سی میں ان کا نام نہیں ہوگا، تو آسام کی پہچان اور تہذیب پر اس کا گہرا اثر پڑے‌گا۔ ہم دوسرا جموں و کشمیر نہیں چاہتے۔ اس لئے ہم ری ویری فکیشن کی مانگ‌کر رہے ہیں۔ ‘

بشکریہ دی وائر

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *