• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہندو دہشتگردی تاریخی پسِ منظر میں۔ دہشت گردی ہندو کی رگ رگ میں رچی بسی ہے!

ہندو دہشتگردی تاریخی پسِ منظر میں۔ دہشت گردی ہندو کی رگ رگ میں رچی بسی ہے!

برصغیر بالخصوص پاکستان کے مسلمان آج بھاتی ہندوؤں کی منظم دہشتگردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی ہندو کی رگ رگ میں رچی بسی ہے۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے وسط میں ہندو دہشت گرد سورج مل جات نے مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کی فتح پور سکیری میں قبر اس غصے میں کھود ڈالی تھی کہ اس نے ہندو راجپوت راجہ مان سنگھ کی بیٹی جودھا بائی سے شادی کیوں کی تھی جس کے بطن سے 1569ء میں شہزادہ خرم بعد میں (نور الدین جہانگیر) پیدا ہوا۔ سورج مل سے پہلے شیوا جی مرہٹہ بھی تو ایک دہشتگرد ہی تو تھا جسے اورنگ زیب عالمگیر مُوش کوہی (پہاڑی چوہا) کہا کرتا تھا۔ اس مُوش کوہی نے دکن کی عادل شاہی مسلم ریاست بیجا پور کے سپہ سلار افضل خان کو بظاہر اطاعت کر کے دھوکے سے بغل گیر ہوتے ہوئے اسے خنجر مار کر شہید کر دیا اور یوں شیوا جی ہندوانہ مکاری اور دغابازی کا تاریخ ساز ریکارڈ قائم کر گیا۔ اسی شیوا جی کے جانشینوں میں سے پیشوا بالا جی راو مرہٹہ تھا جس کے لشکریوں نے دکن سے لیکر اٹک تک دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا تھااور اس مسلم دشمن مرہٹہ پیشوا نے ہندوستان میں ہندو شاہی قائم کرنے کے ارادے سے جامع مسجد دہلی میں مہا دیو کا بت نصب کرنے کا اعلان کر رکھا تھا، تاہم شہر افغانستان احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی تیسری جنگ (جنوری 1761ء) میں لاکھوں مرہٹوں کو موت کے گھاٹ اتار کر پیشوا کے ارادے خاک میں ملا دیے تھے۔ اس جنگ میں مرہٹہ ولی عہد بشواس راو اور سپہ سالار سدا شیو بھاو دونوں مارے گئے تھے۔ کانگرسی بھارتی وزیر اعظم نر سمہا راو بھی مرہٹہ تھا جس کے عہد (1992ء) میں لاکھوں ہندو دہشت گردوں نے بلوے سے اجودھیا کی تاریخی بابری مسجد شہید کر کے کانگرس کے سیکولرازم کا پول کھول دیا۔

1556ء میں پانی پت کی دوسری جنگ بھی ہندوستان سے مسلم اقتدار کے خاتمے کی ہندوانہ کوشش تھی جب بیمو بقال نامی ہندو ک نے فوج کیساتھ چودہ سالہ اکبر اعظم کی حکومت گرانے کی کوشش کی تھی مگر اس کے سپہ سالار بیرم خان نے لشکر ِ کفار کو شکست فاش دے کر اسلامی شجاعت و عظمت کی لاج رکھی تھی اور پھر اکبر نے تقریباً پچاس برس بڑی شان سے حکومت کی۔ ایک اور ہندو دہشت گرد ”خسرو خان“ تھا۔ اس عیار ہندو نے سلطان قطب الدین مبارک خلجی بن علاء الدین خلجی کا اعتماد حاصل کر کے سلطان کے قتل کی سازش کی۔ خسرو خان رات کے وقت بعد عشاء قصر ہزار ستون میں سلطان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس اثناء میں خسرو خان کے چچا رندھول اور جاہر دیو نے مسلح ہندوؤں کے ساتھ محل کو آ گھیرا۔ رندھول نے عیاری سے محل کے نگران قاضی ضیاء الدین کو پان کا بیڑا پیش کیا اور اس کے ساتھ ہی جاہر دیو نے قاضی صاحب کے پہلو میں خنجر گھونپ کر انہیں شہید کر دیا۔ اتنے میں ہندوؤں کا جتھا در آیااور پہریداروں کو قتل کر کے وہ بالاخانے میں پہنچے۔ شور سن کر سلطان مبارک خلجی محل سرا کی طرف بھاگنے لگا تو خسرو خان اس سے گتھم گتھا ہو گیا۔ سلطان نے اسے نیچے گرا لیا مگر اس کے لمبے بال خسرو خان کے ہاتھ میں آگئے۔ اتنے میں جاہر دیو نے اوپر آ کر سلطان کے پہلو میں خنجر مار کر اسے شہید کر دیا۔ پھر ان ہندو دہشت گردوں نے محل سرا میں داخل ہو کر سلطان علاؤالدین خلجی کی بیوی اور دیگر بے گناہ عورتوں کو قتل کر کے مقتول سلطان کے بھائیوں فرید خاں، منگو خاں اور عمر خاں کو شہید کیا حتیٰ کہ خاندان علائی کا کوئی فرد زندہ نہ چھوڑا۔ یہ سانحہ ربیع الاول 1320ء میں پیش آیا۔ اس وقت دہلی کی اسلامی سلطنت کو قائم ہوئے ابھی 128سال گزرے تھے۔

اگلے روز خسرو خاں تاج شاہی سر پر رکھ کر تخت نشین ہوا۔ جن مسلمان امراء نے اطاعت قبول نہ کی انہیں قتل کرا دیا۔ سلطان کے قاتل جاہر دیو کو زر و جواہر سے تلوایا۔ رندھول کو رائے رایان اور اپنے بھائی ”حسام الدین“ (ہندو) کو خان خاناں کا خطاب دیا۔ دہلی میں پہلے ہی مسلح 40ہزار ہندو موجود تھے۔ اب ہندوؤں کی مزید بھرتی شروع کر دی گئی۔ مقتول سلطان کی بیوہ کو خسرو خان نے اپنی بیوی بنا لیا۔ دہلی کی مسجدیں ہندوؤں نے چھین لیں۔ ان کی محرابوں میں بت پوجے جانے لگے۔ اذانیں موقوف ہو گئیں۔ مسلمانوں سے قرآن پاک چھین چھین کر جمع کیے گئے اور انہیں دربار میں ایک دوسرے پر رکھ کر چھوٹے چھوٹے چبوترے بنائے گئے جن پر ہندو درباری بیٹھ کر ان کی بے حرمتی کرتے۔ خزانوں کے منہ ہندوؤں کیلئے کھول دئیے گئے۔ جب یہ دلدوز معاملات ملک جونا خاں کی برداشت سے باہر ہو گئے تو ایک روز موقع پا کر دہلی سے نکلا اور دیپالپور پہنچ گیا جہاں اس کا باپ غازی ملک صوبیدار (گورنر) تھا، غازی ملک کو خسرو خان کی غداری اور دہشت گردی کا حال معلوم ہوا تو اس نے لشکر تیار کیا۔ ملتان کا حاکم بہرام ایبہ بھی اپنی فوج کیساتھ آ ملا، یوں غازی ملک نے دلی کی طرف پیش قدمی کی۔ راستے میں خسرو خاں کے بھائی نے ایک زبردست فوج کیساتھ روکا مگر ہندوؤں نے بری طرح شکست کھائی، پھر دلی کے باہر خسرو خان کے ٹڈی دل لشکر سے جنگ ہوئی، خسرو خاں شکست کھا کر بھاگا اور ایک مقبرے میں پناہ لی جہاں سے پکڑ کر اس ملعون کو جہنم رسید کیا گیا۔ تختِ دلی خالی تھا، لہٰذا مسلم امراء نے غازی ملک کو ہی اپنا سلطان منتخب کیا اور وہ سلطان غیاث الدین تغلق کے نام سے ہندوستان کا بادشاہ بنا۔ اس کے بعد ملک جوناں خاں نے سلطان محمد تغلق کے نام سے بادشاہت سنبھالی۔ خسرو خاں کے دو سو برس بعد ہندو دہشت گردی رانا سانگا کی قیادت میں ابھرنے لگی تو بابر نے جنگِ کنواہہ(1528ء) میں اس کا سر کچل دیا۔

یہ بھی ہندوؤں کی ملک گیر دہشت گردی کا کمال ہے کہ بُدھ مت جس نے بر صغیر میں جنم لیا اور جو ہندوستان کا حکمران مذہب صدیوں تک رہا تھا، ہندوؤں نے اس طرح اس کی بیخ کنی کی کہ آج بدھ مت کے پیروکار بھارت میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتے، البتہ ہمسایہ ممالک چین، سری لنکا، بھوٹان، میانمار(برما) کے علاوہ تھائی لینڈ، لاؤس، کمبوڈیا، ویت نام، تائیوان، کوریا، منگولیا، اور جاپان میں بیسیوں کروڑ بدھ مت کے ماننے والے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ میانمار (برما) اور سری لنکا کے بدھ بھی اب ہندوؤں کی طرح دہشت گرد بن کر مسلم اقلیت کا خون بہانے لگے ہیں۔ ادھر بھارتی ریاست گجرات کا سابق وزیر اعلیٰ نریندر مودی اب مسلم دشمن بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے دوسری بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہو چکا ہے۔نریندر مودی کو ہندو خسرو خان اور جاہر دیو کی بدروح ہی جانیے کہ وہ بھی سفاک مودی کی طرح گجرات کاٹھیاواڑ سے تعلق رکھتے تھے۔ گجرات کے ہزاروں بے بس اور نہتے مسلمانوں کا قاتل اب دوسری بار بھارت کا ویزر اعظم ہے جو کہ یہ سب کچھ اب وہ کشمیری عوام کیساتھ کرنے والا ہے۔ مودی کو بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور فوج کی پوری پوری حمایت حاصل ہے۔ بھارت کی سو بڑی کارپوریشنوں میں سے 88کے سربراہ بھی مودی کے حامی ہیں۔

Avatar
حمزہ زاہد
پیشے کے لحاظ سے پروفیشنل اکاونٹنٹ ہیں، اکاونٹنگ اور فائنانس کے شعبے میں ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اُردو زبان میں ابلاغ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ راقم کچھ سال ماہنامہ گلوبل سائنس ، کراچی سے بھی قلمی تعاون کرتے رہے ہیں۔اس کیساتھ ساتھ فلسفہ، اسلامی موضوعات، حالات حاضرہ اور بین الاقوامی سیاست و تعلقات سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *