مکالمہ … میں مان گیا

میں سوشل میڈیا پہ اور بلاگنگ میں عرصہ دراز سے گمنام اور بے نام موجود ہوں. مکالمہ کو تو ابھی سال ہوا ہے لیکن مجھے تو دو سال اس میدان کو چھوڑے ہو چکے ہیں . شاید تب تک کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ کوئی بلاگنگ سائٹ بنائے گا تب میں بنا چکا تھا. لیکن پھر ایسے مسائل پردہ غیب سے اترے کے میں استقامت اختیار نہ کر سکا .
پھر مکالمہ آگئی ,نوجوان صحافی عتیق الرحمان بھائی نے مجھے اس پہ لکھنے کی دعوت دی . لکھا , سیکھا لیکن پھر اچانک انعام رانا بھائی سے آدھی ملاقات ہو گئی مطلب میسج کر بیٹھا . ایسے محبت بھرے آدمی ہیں کہ کوئی بھی ان کی جانب دیوانہ وار کھچا چلا آتا ہے . کچھ ہی دیر میں محبت ہو گئی . محبت عقیدت میں بدلی اور پھر یوں ہوا کے مت پوچھو . جیسا انعام رانا کا اخلاق ہے اب تک کئی لیلائیں انھیں دعوت … شادی دے چکی ہوں گی . انعام بھائی کی وجہ سے مکالمہ مجھے اپنی لگنے لگی . انیلسز کیے , رینک دیکھے اور بہت کچھ دیکھنے کے بعد ہوا یہ معلوم مجھے کے مکالمہ کامیاب ہے . اس کامیابی میں مجھے خلوص دکھائی دیتا ہے .ٹیم کی آپس میں محبت محسوس کرتا ہوں . اب بیٹری لو ہے پھر کبھی لکھوں گا لیکن مکالمہ کو مبارک باد … انعام بھائی سلام اور مبارک قبول فرمائیں … باقی ٹیم کے لیے بھی دعا

نعیم الرحمان
کم عمر ترین لکھاری ہیں۔ روزنامہ تحریک کے لیے مستقل لکھتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر ایک طالب علم ہیں ۔ اصلاح کی غرض سے لکھتے ہیں ۔ اسلامی نظریے کو فروغ دینا مقصد ہے ۔ آزادی کو پسند کرتے ہیں لیکن حدود اسلامی کے اندر۔ لبرل ازم اور سیکولرزم سے نفرت رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *