• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • “پاکستان اپنے وقت کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے”

“پاکستان اپنے وقت کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے”

“پاکستان اپنے وقت کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے”
پتا نہیں بیان دینے والے محترم وزیر نے کتنی لمبی عمر پائی ہے… بابا جان مرحوم بھی ریڈیو پاکستان کی یہ خبر سن کر ہم سب سے دعا کرواتے تھے…
“اللہ پاکستان کو صالح، باکردار اور امین قیادت عطا فرما!!!
حالات یہاں تک کیسے آ پہنچے… کیا خود بخود ہی سونا اگلنے والا دیس ایسا ہو گیا…
نہیں اور یقینا نہیں!!!
اس تمام بگاڑ، فساد، تخریب اور معاشرے کی بربادی میں… “میں اور آپ بہرحال شریک ہیں…”
ہم چاہیں تو اسکا کھلا انکار کر دیں…
لیکن!!!
اس سے کوئی فرق حالات پر پڑنے والا نہیں ہے…
68 سالوں سے من حیث القوم ہم سب کی ملکی معاملات میں کیا روش رہی ہے؟؟؟
ہم پاکستانی!!!
خواہ ہم خواندہ ہوں یا ناخواندہ… ملکی معاملات میں واقعتا کتنے ذمہ دار اور سنجیدہ ثابت ہوئے ہیں؟؟؟
بات ہے تو تلخ!!!
لیکن گزرے 68 سالوں میں ہم سب کی قومی معاملات میں روش انتہائی سطحی سے بھی پست ہی رہی ہے…
ایک نعرہ لگا؟؟؟
روٹی
کپڑا
مکان
ہم سب دوڑ پڑے… کیا کچھ ملا یہ ہم میں سےہر ایک کو خوب اچھی طرح اب تو معلوم ہی ہے-
پھر نعرہ لگا؟؟؟
قرض اتارو ملک سنوارو!
ہم سب پھر دوڑ پڑے… کیا کچھ ملا یہ بھی ہم میں سے ہر ایک کو خوب اچھی طرح معلوم ہے-
پھر ایک نعرہ لگا؟؟؟
جئے مہاجر!!!
اب تو ہم سب ٹوٹ ہی پڑے… اس کے بعد ہمارے پاس کیا کچھ بچ رہا، یہ بتانے کے لیے یقینا کسی سنیاسی بابا کی ضرورت نہیں-
یہ تو دیگ کے ایک دانہ کے مصداق مثال تھی ایسے بھانت بھانت کے درجنوں نعروں کی اور ہم دوڑے-
اور اسلام؟؟؟
کیا کہہ رہے ہو بھائی… اسلام؟؟؟
اسلام کی سب پکاروں میں تو ہمیں سراسر نقصان نظر آیا، اور ہم نے اس کام کو مذہبی نام دے کر ٹرخا دیا، ٹرخائے رکھا، لیکن ہم سب نے دینی جماعتوں کو جی بھر کر گالیاں ضرور دیں-
یہاں ہم نے یہ دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ کون سی جماعت فی الواقع دینی جماعت ہے اور کون سی دین کا کھلا کاروبار کرنے والی ہے، بس نام کی دینی ہے-
“حالانکہ سب کچھ ہمیں ہی دیکھنا تھا اور دیکھنا ہے”
ایسا کیوں ہوا؟؟؟
کس وجہ سے ہوا؟؟؟
یہ معاملہ ہماری اس حماقت و جہل سے ہوا کہ ہم نے اسلام کو ایک فارغ وقت کا معاملہ سمجھ رکھا تھا، حالانکہ اسلام تو ابدی اور کامل نظام زندگی ہے-
اور ہماری اسلام سے غفلت کے نتیجے میں بھانت بھانت کے فتنے بھی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر معاشرے میں داخل ہو گئے، گھر کر گئے؟؟
دین سے ہم سب کی بے اعتنائی اور غفلت کی وجہ سے اسلام کے نام پر طرح طرح کے مداری میدان میں اپنا “سرکس” جما کر بیٹھ گئے… اور پاکستان کے اسلام بیزار پریس و میڈیا نے ان مداریوں کو دن رات جی جان سے پروان چڑھایا-
خیر!!!
جو ہو گیا وہ تو ماضی ہو گیا!!!
اپنی زندگیوں کو حقیقتا سنجیدگی و ذمہ داری سے آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے پاکستان کے پریس و میڈیا کے پروپیگنڈے اور شر سے مکمل اور شعوری طور پر اپنے آپ کو آزاد کر لیں-
پاکستان کا پریس و میڈیا قیام پاکستان کے وقت سے ہی ان لوگوں کے قبضے میں ہے جنہیں اسلام سے خوفناک الرجی ہے…
اور یہ کوئی نرا بہتان نہیں ہے؟؟؟
ہم سب ڈالری پریس و میڈیا کے پروپیگنڈے کے تحت زندگی گزارتے ہوئے 68 سالوں کا خسارہ اپنے سروں پر لاد چکے ہیں… خوفناک تباہی اور بربادی بھگت چکے ہیں-
اپنے دل و دماغ سے سوچیں اور راستہ بتانے والی واحد کتاب قرآن مبین اور رہبر عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر روشنی سے اپنے قلب و نظر کو منور کریں… اس کے سوا کہیں سے ان تاریکیوں میں ہمیں راہنمائی نہیں مل سکتی، نہیں ملے گی..
کیا کہتے ہیں آپ؟؟؟
68 سالوں سے تو ہم در بدر ہیں ہی اب کیا؟؟؟

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود
پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی
شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے

تنویر احمد تنویر

تنویر احمدتنویر
تنویر احمدتنویر
تنویر احمد تنویر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *