آہ میرا ڈھاکہ، ہاۓ میرا آرمی پبلک سکول

16 دسمبر 2014 صبح پانچ بجے ریٹائرڈ صوبیدار بارک اللہ اٹھتا ہے،وضو کرتاہے اور مسجد کی جانب چل پڑتا ہے۔ فجر کی نماز اداکرتا ہے اور دعا مانگتا ہے” اے رب کریم! سقوط ڈھاکہ میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند فرما اور ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرما”۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد صوبیدار بارک اللہ اپنے گھر کی جانب لوٹ آتا ہے۔ صبح کے سات بج چکے ہوتے ہیں، صوبیدار صاحب ٹی۔وی لاؤنج میں داخل ہوتے ہیں اور ٹی۔وی آن کرتے ہیں۔ خبریں شروع ہوچکی ہوتی ہیں، سقوط ڈھاکہ کے بارے میں سپیشل رپورٹ دکھائی جارہی ہوتی ہے۔ جس میں محب وطن بنگالی پاکستانیوں کا کردار اور بھارت کی دخل اندازی پر روشنی ڈالی جارہی تھی۔ ساتھ یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی پر بغاوت کے دو ماہ بعد تک پاکستان کا پرچم لہرانے والے جماعت کے ورکرز کو آج کی سرکار پھانسیاں دے رہی ہے اور ہماری حکومت وقت خاموش ہے۔صوبیدار صاحب نشریات دیکھ رہے تھے اور یکایک ان کےمنہ سے آواز بلند ہوتی ہے” آہ میرا ڈھاکہ” ، آواز اتنی بلند تھی کہ ساری فیملی اٹھ کر ان کےپاس آجاتی ہے کہ کہیں ان کو کچھ ہوا تو نہیں۔
بہو رانی: بابا جان کیا ہوا؟
بارک اللہ: کچھ نہیں بنّو ! بس ماضی یاد آگیا،اکہتر کی وہ جنگ اور ہماری اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کی نابالغانہ روش، آہ میرا ڈھاکہ توڑ کر ،مجھ سے جدا کردیا۔
سرمد: ( صوبیدار کا بڑا بیٹا) بابا جان چھوڑیں، بنگالی غدار تھے، ہیں اور رہیں گے!!
بارک اللہ: نہیں، نہیں ! یہ کس نے کہا؟ کیا رمیض الدین کی کتاب تو نے نہیں پڑھی؟ جس میں وہ ایوبی دور میں پورٹ اینڈ شپنگ کے وزیر تھے اور ہماری بیورکریسی خود سقوط ڈھاکہ چاہتی تھی!!
”اتنے میں صوبیدار بارک اللہ کا نو سال کا پوتا حنان سرمد آتا ہے اور کہتا ہے۔۔۔
بڑے بابا میں نے سکول جانا ہے،
آپ ممی کو بھیج دو۔”
بارک اللہ:جاؤ بیٹا حنان کو تیار کرو اور میرے لئے چاۓ بنا لاؤ۔
بہو رانی، اچھا بابا جان! لاتی ہوں اور یہ کہہ کر چلی جاتی ہے۔
صوبیدار صاحب چینل بدل دیتے ہیں،کوئی اور پروگرام دیکھنے لگ جاتے ہیں، بہو رانی حنان کو تیار کرتی ہے، ناشتہ ٹفن میں بند کرتی ہے، سکول بیگ پہناتی ہے اور پھر حنان دادا جان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے” بڑے بابا جان! میں سکول جارہا ہوں، میری پاکٹ منی کہاں ہے”؟ صوبیدار صاحب حنان کو پچاس روپے تھما دیتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں” میرا بیٹا بڑا ہوکر آرمی آفیسر بنے” ، جاؤ اور دل لگا کر پڑھو، ساتھ ہی حنان کا بوسہ لیتے ہیں۔ حنان کے والد اسکو سکول چھوڑنے چلے جاتے ہیں۔
ساڑھے نو کا وقت ہوتا ہے، سرمد بھی واپس آچکا ہوتا ہے اور بہو رانی صوبیدار صاحب کو کہتی ہے!” بابا جان ناشتہ تیار ہے، آجائیں!” صوبیدار صاحب اٹھتے ہیں اور ناشتے کی میز پر آجاتے ہیں،سرمد بھی آجاتا ہے۔ رسمی گفتکو ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ ناشتہ بھی کرلیتے ہیں۔ دس بجے کا وقت ہوجاتا ہے، صوبیدار صاحب بازار چلے جاتے ہیں، سرمد دفتر کو روانہ ہوجاتا ہے۔ معمول کے کاموں کی جانب رواں دواں ہوجاتے ہیں ۔ صوبیدار صاحب بازار سے چند اشیاۓ خوردونوش کی خرید کرکے گھر آتے ہیں اور بہو رانی سے ایک کپ چاۓ کا کہتے ہیں۔ ٹی۔وی آن کرتے ہیں، گیارہ بجے کا نیوز بلیٹن، بریکنگ نیوز کا ٹکر چل رہا ہے” آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کا حملہ” ذرائع کا دعویٰ۔
یہ الفاظ کانوں میں پڑنے تھے، ایک دم سے ریموٹ ہاتھ سے گر گیا، جسم پر کپکپی طاری ہوگئی، ہونٹ ہلانے کی کوشش کے باوجود نہیں ہل رہے،وجود ساکت تھا۔ بہو رانی چاۓ لیکر آتی ہے اور صوبیدار کی حالت دیکھ کر چونک جاتی ہے۔جلدی سے پانی لاکر پلاتی ہے اور معلوم کرتی ہے آخر ہوا کیا ہے؟ اتنے میں صوبیدار صاحب چینل بدلنے کا کہتے ہیں، ہرچینل پر یہی خبر چل رہی ہوتی ہے” صوبیدار صاحب زبان سے یہ الفاظ جاری ہوتے ہیں” ہاۓ میرا آرمی پبلک سکول”! بہورانی کو معلوم پڑتا ہے تو وہ جلدی سے سرمد کو فون لگاتی ہے، سرمد پریشانی کے عالم میں ،بابا جان کو سکول جانے کا کہتا ہے ۔ صوبیدار بوکھلاہٹ کے عالم میں گرتا پڑتا سکول کی جانب روانہ ہوجاتا ہے۔ وہاں جا کر معلوم پڑتا ہے کہ آپریشن جاری ہے انتظار کریں۔ مائیں بلک بلک کر روۓ جارہی ہیں اور صوبیدار صاحب ایک جانب ساکت کھڑا ہے، دل ہی دل میں حنان کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہا ہے۔
سرمد جلدی جلدی آفس سے واپس آتا ہے اور بابا جان سے پوچھتا ہے۔آپریشن جاری ہے فورسز کی ضمانت کے بعد کچھ ہوگا۔ آپریشن ہوجاتا ہے فورسز سکول کو کلئیر کروا دیتی ہیں لیکن ساتھ افسوس ناک خبر آتی ہے کہ سات دہشت گردوں کو ملاکر کل ایک سو اڑتالیس افراد جانکی بازی ہار گئے۔جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔ یہ خبر آنی تھی، پشاور میں کربلا کا سماں تھا، والدین زارو قطار رورہے تھے۔شہید ہونے والے بچوں کی شناخت ہورہی تھی کہ اچانک خبر آتی ہے ،” حنان سرمد” بھی دہشت گردوں کا نشانہ بن چکا ہے، شہید ہوچکا ہے۔ یہ خبر جب صوبیدا بارک اللہ اور سرمد کو معلوم ہوتی ہے، تڑپ کررہ جاتے ہیں، صوبیدار اپنا سر پیٹ رہا ہوتا ہے، سرمد ماتمی کیفیت میں ہے اور حنان کی والدہ کی حالت غیر ہورہی ہوتی ہے ،خدا سے سوال و جواب کیا جارہا ہے۔ صوبیدار اپنی داڑھی کے بالوں کو نوچنے لگتا ہے، سر کو پیٹتا ہے اور بار بار یہی فقرہ دہراتا ہے ہاۓ میرا بچہ۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔
اب صوبیدار صاحب کو کون بتاۓ، جب آپ صبح نماز کے لئے جاگے تھے اس وقت ان خدائی فوجداروں کو جہاد اور ستر حوروں کا نقشہ بتایا جارہا تھا۔ انکو بتایا جارہا تھا جب تم ننھے فرشتوں کا قتال کرو گے تو آسمانی فرشتے تمہیں فوراً حوروں کی آغوش میں دے دیں گے۔ جب آپ چاۓ پی رہے تھے اس وقت یہ حضرات اسلحہ سیدھا کر رہے تھے، جب آپ ناشتہ کررہے تھے یہ شہر میں داخل ہورہے تھے اور جب آپ بازار آۓیہ جہنمی اپنی پوزیشن سنبھال رہے تھے اور جب آپ بازار آۓ سے واپس تو اس وقت سب کچھ فنا کرچکے تھے۔ وه کونسی جنت ہے، کونسی حوریں، کونسی شریعت؟ مذہب سے بیزاری کی سب سے بڑی وجہ ایسی ذہنیت بھی ہے۔ کس کو قصور وار کہیں، دوسال گزر گے نیشنل ایکشن پلان وہیں کا وہیں ہے ۔ آج بھی مائیں اپنے بچوں کو رو رہی ہیں اور ہم ابھی تک جمہوریت کو بچا رہے ہیں، خاندانی اقتدار کو دوام دے رہے ہیں۔
نوٹ؛ یہ تحریر میرے ذاتی خیالات اور فکشن پر مبنی ہے۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *