مولانا ذرا سنبھل کر۔۔محمد فیصل

پاکستان کی سیاست ایک عجب گورکھ دھندا ہے۔یہا ں آخر تک معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ کون دراصل کس کے ساتھ ہے۔ آج سے اڑھائی سال قبل جب انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آئی تو اسے پہلے دن سے ہی ایک ایسی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑا جو انتخابی نتائج کو ہی تسلیم کرنے سے انکاری تھی۔پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں ہیں ،جنہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کی مخالفت کے باوجود اسمبلیوں میں جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ جماعتیں سمجھتی تھیں کہ پارلیمنٹ سے باہر رہنا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے وہ بہتر پوزیشن میں ہوں گی اور اپنے لیے کچھ نہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی ۔پیپلز پارٹی تو سندھ میں برسراقتدار بھی ہے اس لیے وہ گھاٹے کا یہ سودا کسی صورت کر ہی نہیں کرسکتی تھی۔ مولانا کا مسئلہ یہ تھا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں تھا اس لیے وہ حکومت کے ساتھ فری  سٹائل ریسلنگ کے موڈ میں تھے اور چاہتے تھے کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی اس جنگ میں ان کا ساتھ دیں لیکن پیپلز پارٹی اور ن لیگ دل سے زیادہ دماغ کے فیصلوں کو اہمیت دیتی ہیں ،اس لیے وہ بظاہر مولانا فضل الرحمٰن سے قریب رہتے ہوئے بھی ان سے دور ہی رہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کو ہم آج کی پاکستانی سیاست کا امام کہہ سکتے ہیں۔ اپنے جبے اور دستار کے ساتھ وہ کسی کی بھی دستار کو زمین بوس کرنے کی بے پایاں  صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک مذہبی رہنما ہوتے ہوئے بھی وہ اس وقت پاور پالیکٹس کے شاہسواروں میں سے ایک ہیں۔انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ کب سیاست کی بساط پر کس مہرے کو آگے کرنا ہے۔ان کی ماضی کی سیاست بتاتی ہے کہ وہ کبھی کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کے قائل نہیں رہے ہیں۔ ہمیشہ لوز بال کا انتظار کرتے ہیں ۔ہم مولانا کو سیاسی ٹیسٹ میچز کا آئیڈیل کھلاڑی کہہ سکتے ہیں لیکن نجانے کیوں اب ایسا لگتا ہے کہ یہ منجھا ہوا کھلاڑی اپنے اصل گیم کو چھوڑ کر ٹی ٹوئنٹی کی طرف راغب ہورہا ہے۔

tripako tours pakistan

وزیر اعظم عمران خان اب مولانا کے لیے سیاسی حریف سے زیادہ  ایک ذاتی دشمن میں تبدیل ہورہے ہیں اور یہی بات مولانا کو قریب سے جاننے والوں کو تشویش میں مبتلا کررہی ہے۔وہ ان عوامل کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جن کی وجہ سے مولانا فضل الرحمٰن جیسا زیرک سیاسی کھلاڑی ہر آنے والی بال کو باؤنڈری کے باہر پہنچانے پر مائل ہے۔ اسلام آباد دھرنے کے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے اور اس بات پر غور کرتے کہ دھرنا ان کا تھا اور پس پردہ اس کا فائدہ اٹھا کر کون ملک سے باہر چلا گیا اور کون اپنے مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا فیصلہ کرچکے ہیں کہ اب کی بار وہ بال کو باؤنڈری کے باہر پہنچاکر ہی چھوڑیں گے۔وہ اس کی پروا بھی نہیں کررہے ہیں کہ نہ موسم ان کے لیے موزوں ہے اور نہ ہی پچ بیٹنگ کے لیے سازگار ہے جبکہ ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی دلچسپی اس میں ہے کہ “مین آف دی میچ” کا ایوارڈ وہ لے اڑیں۔

مولانا فضل الرحمٰن اس وقت اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت کررہے ہیں اور روزانہ “سلیکٹر “اور “سلیکٹڈ “کو للکار رہے ہیں اور خطرے کی بات زیادہ اس لیے ہے کہ اب ان کا ہدف “سلیکٹڈ “سے زیادہ “سلیکٹر “نظر آتا ہے۔ تین دہائیوں سے ملکی سیاست میں متحرک کردار ادا کرنے والا سیاستدان احتجاج کے لیے اسلام آباد کی بجائے پنڈی جانے کی بات کرنا شروع کردے تو سمجھ لیں کہ بات بند گلی کی طرف جارہی ہے۔ مولانا کے سیاسی حلیف جو بظاہر ان کو اپنا سربراہ تسلیم کیے ہوئے ہیں لیکن پس پردہ “سلیکٹرز” سے التجائیں بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کو ایک آخری موقع دے دیا جائے تو وہ اس مرتبہ “لائن و لینتھ” پر ہی بالنگ کریں گے۔

پاکستانی سیاست کے گورکھ دھندے میں مولانا جیسے کھلاڑی کا جارحانہ رویہ ملک کے جمہوری نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔استعفوں کے معاملے پر حلیف جماعتوں کے رویے کے بعد بھی اگر وہ کھیل کی نزاکت کو نہیں سمجھ رہے ہیں تو اسے ایک سیاسی المیہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ مولانا یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ملک کی سیاست میں ان کی نظر میں جو “سلیکٹرز” ہیں ان کا کردار ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ملک میں جیسا بھی لولا لنگڑا جمہوری نظام ہے اس میں ہمیشہ سے ہی سلیکٹڈ ہی آتے رہے ہیں بس ان کے نام تبدیل ہوجاتے ہیں۔مولانا یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت “امپائرز” کا موڈ انگلی اٹھانے کا نہیں ہے، تو پھر ایسے حالات میں ان کے لیے یہ زیادہ بہتر نہیں ہوگا کہ وہ اپنے اصل گیم کی طرف واپس جائیں اورصبر سے اپنی باری کا انتظار کریں۔مولانا نے گیم کے اس ڈرامائی موڑ پر سنبھل کر نہ کھیلا تو ملک میں جمہوری نظام کا میدان سونا بھی پڑسکتا ہے اور پھرکہیں ایسا نہ ہو کہ سیاسی میدان کے کھلاڑی تماشائی بن جائیں اور گراؤنڈ میں صرف “امپائرز” ہی رہ جائیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *