جھوٹا مطالعہ پاکستان۔۔۔۔خالد داؤد خان

آواز آئی کہ جھوٹا ہے تمھارا مطالعہ پاکستان۔ میرے بچوں کو جھوٹ پڑھاتا ہے، تمھارے قائد اعظم اور تمھارے علامہ اقبال کے جھوٹ سے میرے ذہن کو آلودہ کیا جاتا ہے، میرے کچے ذہن کو میرے اپنے باچہ خان اور ابدالی کی تعلیمات سے روشن نہیں کیا جاتا۔ منچلہ سچ ہی تو کہہ رہا ہے، مطالعہ پاکستان جھوٹ پر مبنی لغویات کا پلندہ ہی تو ہے، اگر سچا ہوتا تو کیا آج بچے بچے کو باچہ خان کی پاکستان مخالف جد و جہد کا علم نہ ہوتا؟۔۔ سچ پڑھایا گیا ہوتا تو باچہ خان کی قبر کا مکمل مستقل پتہ سب کو بخوبی معلوم ہوتا۔ مطالعہ پاکستان نے بلا وجہ لوگوں کی پردہ پوشی کئے رکھی، انکے کرتوت چھپائے رکھے ورنہ اس نسل کو کیوں لاعلم رکھا گیا کہ افغانستان نے پاکستان کو سرے سے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا اور باقاعدہ حملہ کر دیا تھا ۔بد قسمتی سے یہ جنگ مطالعہ پاکستان کے صفحات سے غائب ہے۔

اگر وقت پہ بتایا گیا ہوتا تو شاید مہاجرین کا استقبال کنکر مار کر کیا جاتا لیکن نہیں ، اس جھوٹے مطالعہ پاکستان نے پردے ڈالے رکھے، شلواریں پہنائی رکھیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ جب افغانستان کو ضرورت پڑی تو طورخم کا دروازہ افغانیوں کیلئے جنت کا دروازہ ثابت ہوا، پاکستانیوں نے دیدہ و دل فرش راہ کر دئیے جو آج سانپ بن کر اس دھرتی کے سینے پر لوٹ رہے ہیں۔ جھوٹ پر مبنی اس مصلحت آمیز کتاب نے کبھی نہیں لکھا کہ سردار داؤد نے کب اور کیسے پاکستان میں تخریب کاری کا آغاز کیا تھا، ہمیں نہیں بتایا گیا کہ “پختون زلمے” کس بلا کا نام تھا اور اس میں کون کون سے سیاسی برج شامل تھے، حیات شیر پاؤ کو کس نے قتل کیا تھا اور “الذوالفقار ” کا لانچنگ پیڈ کس کی سرزمین پر قائم تھا، ۔ یہ سوال قرض ہیں اس کتاب پہ۔ یہ سب وقت پر بتایا گیا ہوتا تو عالی حضرت باچہ خان کی چار چار نسلیں ایوانوں کے مزے نہ لوٹ رہی ہوتیں بلکہ کب کی وہیں جا کر آباد ہو گئی ہوتیں جہاں ان کے اجداد دفن ہیں۔ لیکن اس ملک نے در گزر سے کام لیا، انتقام نہیں لیا اور آج اس ملک کی درسگاہیں بھی “ولی خان “ہیں اور ہسپتال بھی” باچہ خان” ۔ اگر نہیں ہیں تو باچہ خان ہی موجود نہیں ہیں ۔ ارے ، اس ملک کے تو میزائل تک “ابدالی “ہیں تو پھر یہ کون سی نفرت ہے جسے بنیاد بنا کر تم ایک نیا مطالعہ پاکستان یا افغانستان لکھنا چاہتے ہو۔

مطالعہ پاکستان قرار واقعی ایک پرانی اور دقیانوسی کتاب ہے ۔ اگر اپ ٹو ڈیٹ ہوتی تو یہ ضرور بتا دیتی کہ آج سے دس سال پہلے بنگلہ دیش اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر شوکت علی بنفسِ نفیس اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ “اگرتلا کیس” ایک سچا کیس تھا اور ہم سب اس میں شامل تھے۔ شوکت علی صاحب نے بنگلہ دیش حکومت سے پرزور مطالبہ بھی کر دیا کہ اپنا مطالعہ بنگلہ دیش درست کر کے” اگر تلا کیس “کی تفصیل بدلو کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ یہ کیس محض ایک ڈکٹیٹر کی طرف سے بنایا گیا سیاسی مقدمہ تھا جو صراصر جھوٹ ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ میں اور کچھ اور لوگ قرار واقعی اس میں شامل تھے اور بھارت کے شہر” اگرتلا “گئے تھے تاکہ بھارتی افواج اور خفیہ ایجنسی کی مدد لیکر پاکستان کو مسلح کاروائی کے ذریعے توڑا جا سکے۔ موصوف نے مزید کہا کہ ٹیکسٹ بک میں” اگرتلا کیس “کی جگہ” اگرتلا پلان” شامل کر کے اس میں شامل ہیروز کو ان کا وہ مقام دیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں کیونکہ اگر یہ پلان نہ بنا ہوتا یا “اگرتلا کیس” میں مجرموں کو پھانسی لگ جاتی تو ہمارے پاس یہ طاقت ہی نہ بچتی کہ بنگلہ دیش بنا سکتے۔ بنگال تو اپنی کتاب درست کر رہا ہے لیکن ہم آج بھی وہی قدیم کتاب پڑھنے پر مجبور ہیں۔ ہمیں کبھی نہیں بتایا جائے گا کہ ان غداروں کو پھانسی سے بچانے والے کون کون تھے، اس کیس کو محض ایک انتقامی مقدمہ کہنے والے اور تحریک چلا کر انہیں جیلوں سے نکالنے والے کون تھے۔ کاش ۔۔!! سچ لکھ دیا جائے اور ان سب کے منہ پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کالک مل دی جائے جو آج جمہوریتوں کے رستمِ زماں بن کر اس ملک کی جڑوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

ایک آواز یہ بھی آئی کہ تمھاری 91 ہزار پتلونیں بنگال میں پڑی ہیں ، آپکا دعویٰ درست ہی ہے کیونکہ میرے مطالعہ پاکستان نے کبھی مجھے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ پتلونیں تو صرف 25 سے 30 ہزار تھیں جنہیں لاکھوں کی فوج نے چاروں طرف سے نرغے میں لے رکھا تھا۔ میرے مطالعہ پاکستان نے یہ تو بتلانے کی زحمت ہی نہیں کی 60 ہزار سے زائد تو سویلین شلواریں تھیں جس میں پنجابی ،پشتون، مرد و خواتین سب تھے۔ منچلے کو مطالعہ پاکستان نے درست تعلیم دی ہوتی تو آج وہ اپنی اتری ہوئی شلوار کا ذکر اس طرح سرِ بازار کبھی نہ کرتا۔

ہم میں سے بیشتر کی سوئی تو بس 16 دسمبر 1971 پر آ کر رک جاتی ہے، میرے مطالعہ پاکستان کو کبھی یہ بھی لکھنا چاہیئے کہ 16دسمبر 1971ء کے بعد بنگلہ دیش میں مکتی باہنی اور بھارتی افواج نے مل کر پیچھے رہ جانے والے پاکستانیوں پر یلغار کر دی ، انہیں چن چن کر ہزاروں کی تعداد میں کنچن ندی کے کنارے لے جایا گیا اور ایک ساتھ لائن لگا کر اس بے رحمی سے قتل کر دیا گیا کہ کنچن ندی کے کنارے سرخ ہو گئے ۔۔ عورتوں کو ننگا کرکےبازاروں میں جلوس نکالا گیا۔ نہتے سرکاری ملازمین کو عمارتوں میں یکجا کرکے زندہ جلا دیا گیا،ماؤں کے سامنے انکے بچوں کی آنکھیں نکال لی گئیں ، پوری کی پوری آبادیوں کو انکے گھروں سے نکال نکال کر میدانوں میں لایا جاتا اور اتنی بربریت اور ظلم کہ قتل کرنے سے پہلے انہیں ننگا کرکے انکے سارے اعضاء کاٹ دئیے جاتے، خواتین کے پستان کاٹ دئیے جاتے، انکی شرمگاہوں میں جلتی ہوئی سلاخیں ڈال دی جاتیں۔ ایسی سفاکی کہ چینگیز خان بھی ٹوٹ کر رو پڑے، اتنا ظلم کہ آسمان بھی گر پڑے۔ اے خدا تب تو نے پتھر کیوں نہ برسائے، زلزلوں سے زمین کے ٹوٹے کیوں نہ کئےتو نے۔۔۔ تیری زمین کیوں نہ لرزی، پہاڑ کیسے کھڑے رہ گئے۔یہ تاریخ اگر میرا مطالعہ پاکستان ہی نہیں بتائیگا تو پھر کون بتائیگا ہمیں ؟؟ یہ واقعات بتاتے وقت زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں زبان درازوں کی ؟؟

عشق میں ناکام ہو کر شاعری کا سٹیٹس لگانا ہی دسمبر نہیں۔ محبوباؤں کے بھاگنے کے علاوہ کچھ اور بھی اسی دسمبر میں ہی ہوا تھا۔ ماؤں کے سامنے انکے دودھ پیتے بچوں کی آنکھیں بھی اسی دسمبر میں نکالی گئی تھیں، سہاگنوں کو سرِبازار گینگ ریپ بھی اسی دسمبر میں کیا گیا تھا، بہنوں کے ننگے جلوس بھی اسی مہینے نکلے تھے صاحب، ان کے کپڑوں سے پرچم بنے تھے اور نعرے لگے تھے “جوئے بنگلہ، جئے ہند”۔
یہ سب کہیں اور پڑھنے کے بعد جب کوئی دیوانہ آواز لگاتا ہے کہ جھوٹا ہے تمھارا مطالعہ پاکستان تو میں اس سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *