کشمیراور ایٹمی طاقتوں کی چکی۔۔چودھری وقار احمد بگا

مسئلہ کشمیر پر آج کل ہر دوسرا شخص اپنا تجزیہ پیش کر رہا ہے جو کہ آزادی اظہار رائے کے تحت ہر فرد کا بنیادی حق ہے مگر کیا یہ تجزیے مسئلے کے حل کیلئے کافی ہیں ؟ کیا ایجنسیوں  کی پیداوار قوم پرست تنظیمیں مسئلہ کے حل کیلئے سنجیدہ ہیں؟ کیا دونوں ممالک کشمیر کو اپنی نمائندگی کا حق دینے سے نہیں ڈرتے ؟ کیا جو لوگ کشمیر کانفرنس  کر رہے ہیں وہ صرف لوگوں کی توجہ کیلئے ڈھونگ نہیں رچا رہے؟ کیا پاکستان کی طرف سے شاہراہوں کے نام تبدیل کرنا اور بیس کیمپ کا نام بدلنا اور نقشہ تبدیل کرنا معمولی اقدام ہیں، جن سے تحریک کا کوئی تعلق نہیں ہوگا؟ یقیناً قارئین صاحبِ علم ہیں اور ان سوالوں کے جواب بخوبی جانتے ہیں مگر میرے ناقص علم اور مختصر مشاہدے کے مطابق کسی بھی تحریک کی کامیابی تین بنیادی نقاط پرمشتمل ہوتی ہے۔

عوامی تحریک ،سفارتی جدوجہد اورمسلح جدوجہد کے بغیر تاریخ نے کبھی کسی تحریک کو کامیاب نہیں لکھا۔اس لیے ان تین نکات پر عمل کیے بغیر مسئلہ کشمیر کا حل مشکل نظر آتا ہے۔

عوامی تحریک بنیادی طور پر ایسی تحریک ہوتی ہے جس کے ذریعے دنیا بھر میں جلسے جلوسوں کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کروا کے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور عالمی دنیا کو اپنی تحریک کے اغراض و مقاصد سے باور کرایا جاتاہے۔ احتجاج کسی بھی تحریک کی بنیاد ہوتے ہیں اور مہذب قومیں یہی راستہ اپنا کر پُرامن طریقے سے دنیا کو اپنا پیغام بھیجتی ہیں۔تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بھی بے شمار احتجاج ہوئے اور دنیا بھر میں ہوئے مگر ان احتجاجوں کے بعد ایجنسیز کی مداخلت تحریک کو جانبدار بنا دیتی ہیں اور تحریک سے مخلص کارکنان کی محنت رائیگاں  چلی جاتی ہے۔

سفارتی سطح پر معاملات ہی کسی تحریک کو کامیاب بناتے ہیں مگر بدقسمتی سے کشمیر کے بیس کیمپ کو کبھی سفارتی مقصد کیلئے استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ جب تک کشمیر کی قیادت کو نمائندگی کا حق نہیں دیا جاتا ،تحریک غیرجانبدار طریقے سے نہیں چل سکتی اور نہ ہی عالمی دنیا ان چیختی چنگھاڑتی آوازوں پر دھیان دے گی۔

تیسرا آخری اور قدیمی نقطہ مسلح جدوجہد کا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ مسلح جدوجہد جو ثابت قدمی سے ہوئی ہو کبھی ناکام نہیں ہوئی، مگر اسکے نقصانات تاریخ کے سینے پر تا قیامت بوجھ ہیں۔ اگر اس تحریر میں طالبان اور امریکہ کے امن معاہدے کا ذکر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ ہم نے دیکھا کہ کس طرح طالبان نے مسلح جدوجہد کر کے عالمی طاقت امریکہ کو مذاکرات کیلئے مجبور کیا۔بے شک طالبان نے اس جدوجہد میں  اپنا جانی اور مالی نقصان کیا اور امریکہ بھی ایک جنگ کی وجہ سے مقروض ہوا مگر نتیجتاً اگر معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تومسلح جدوجہد کی جیت ہو گی اور بہت سی نئی تھیوریز بنیں گی۔

مسلح جدوجہد کی کامیابی سفارت  کی کُنجی پر منحصر ہوتی ہے جب تک سفارتی سطح پر خطے کی نمائندگی کیلئے ایک ٹیم موجود ہو ،آج کل کے جدید ترین دور میں مسلح جدوجہد کا مطلب ماؤں کے بیٹے قربان کرنا ہی ہے اور طالبان امن معاہدہ بھی مسلح جدوجہد کے بعد بات چیت کے ذریعے کیا گیا ہے۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کوئی ان پڑھ نہیں بلکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز ہیں، مگر بدقسمتی سے سفارتی سطح پر آواز اٹھانے کی قوت کشمیریوں کے پاس نہیں جو مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی اور اہم رکاوٹ ہے جبکہ آزادی پسند تنظیمیں اپنے مفاد کی خاطر تقسیم ہو کر نہتے  نوجوانوں کو اشتعال دلا کر مرواتی ہیں اور احتجاج کیش کرواتی ہیں اور اگر یہ تنظیمیں ریاست کے ساتھ مخلص ہیں تو ایک پلٹ فارم پر آ جائیں اور شکوک و شبہات کو مات  دے دیں۔ تمام تنظیموں کے کارکنان سو فیصد ریاست کے وفادار ہیں مگر انکی جذباتیت کا فائدہ اٹھا کر بغیر کسی تربیت کے اشتعال دلایا جاتا ہے، کم از کم انکی تربیت کی جائے اور ایک جاندار پالیسی بنا لی جائے جس کے تحت وہ تحریک  کامیاب بنائیں ۔(دونوں ممالک کی افواج کو گالیاں نکالنے سے کبھی تحریک کامیاب نہیں ہو گی۔ جوشیلے نعروں کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا جائے تاکہ دنیا آپکی بات کو سنجیدگی سے سنے)۔جہاں تک بات سفارتکاری یا نمائندگی کی ہے تو کشمیر کا بیس کیمپ آج تک ایک ٹکے کا کام نہیں کر سکا۔آج تک پاکستان اور انڈیا نے کشمیریوں کو اپنے ہی مسئلے پر بولنے کا حق ہی نہیں دیا اور اربوں ڈالر لگا کر پروپیگنڈے کیے جا رہے ہیں ۔

گزشتہ برس بھارت کی جانب سے کشمیر کو اپنے نقشے میں دکھانا اور خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان کی طرف سے بھی نیا نقشہ جاری کرنا کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ہی لیگل کرتا ہے اور اگر اب صرف بیس کیمپ یعنی آزادکشمیر کو نمائندگی کا حق دیا جائے اقوام متحدہ میں قرارداد جمع کروا دی جائے تو یقیناً مسئلہ کسی حل کی طرف جائے گا اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو یہی پڑھا ،سمجھا اور لکھا جائے کہ  لاکھوں کشمیریوں کو دو ایٹمی طاقتوں نے آپسی لڑائی میں ایک ایسی چکی سے پیسا ہے جس نے کشمیریوں کی وفاداریوں اور جدوجہد کو منافقت اور ظلم سے توڑ کر اپنے مفادات کیلئے خطہ کو چار حصوں میں تقسیم کے فارمولے پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔

Avatar
وقار احمد
صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *