• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حج کے فرائض،واجبات،شرائط، اقسام اور حج کا مکمل طریقہ۔۔۔مولانا رضوان اللہ پشاوری/دوسری،آخری قسط

حج کے فرائض،واجبات،شرائط، اقسام اور حج کا مکمل طریقہ۔۔۔مولانا رضوان اللہ پشاوری/دوسری،آخری قسط

حج کے لفظی معنی ”ارادہ یا قصد“ ہے۔ حج کا اسم الحجہ معنی ”سال“ ہے اسی لیے ”ذوالحجہ“ حج کے مہینہ کا نام ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں عبادات کی نیت سے بیت اللہ کی زیارت مناسک حج ادا کرنا مراد ہے۔ لغوی معانی ”زیارت“ ہے۔

حج کی تین قسمیں:
قرآن: ایک ہی احرام باندھ کر عمرہ اور حج دونوں کا ادا کرنا۔
افراد: صرف حج کی نیت سے احرام باندھ کر حج ادا کرنا۔
تمتع: عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرکے کھول دینا پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کی نیت سے احرام باندھ کر حج ادا کرنا۔ یہ پاکستانیوں کا حج ہے۔
احرام:
لغت میں حرام کرنے کو کہتے ہیں۔ مردوں کیلئے دو بغیر سلی چادریں (ایک تہبند ایک بدن کو ڈھانپنے کے لیے)سِلے ہوئے کپڑے اتار دے سر ننگا رہے۔ عورتوں کیلئے سلا ہوا لباس سر کو ایک سفید رومال سے بالوں کو اچھی طرح ڈھانپ لیں۔ خواتین حیض سے پاک ہو کر غسل کرکے خانہ کعبہ میں حاضر ہو کر عمرہ یا حج کا طواف کریں۔ یہ سنت ابراہیمؑ واسماعیل ؑہے جو تعمیر میں ادا کی۔

احرام کی پابندیاں:
خاوندکا بیوی یا بیوی کا خاوند سے ہمبستری کرنا، جاندار کا مارنا یا شکار کرنا، مردوں کا سراور چہرہ عورتوں کا چہرہ کسی کپڑے سے ملنا یا ڈھانپنا، خوشبو لگانا بال کاٹنا یا توڑنا، حرام ہیں۔

نیت اور تلبیہ:
احرام باندھ کر عمرہ یا حج کی نیت کریں اور دو نفل پڑھ کر دعا کر کے یہ تلبیہ پڑھیں لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ (تین مرتبہ) درود شریف پڑھیں۔

میقات:
اس جگہ یاحد کو کہتے ہیں جہاں سے حجاج کرام کا احرام باندھنا ضروری ہے۔ اس حد سے پہلے احرام باندھا جاسکتا ہے لیکن حد پار کرنے کے بعد نہیں باندھ سکتے۔ میقات مندرجہ ذیل ہیں۔
ذوالحلفیہ: مدینہ سے مکہ کی طرف ۶ میل مکہ سے مدینہ کی طرف اڑھائی سو میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہ میقات کی جگہ مکہ معظمہ سے سب سے زیادہ فاصلہ پر ہے۔
حجفہ: شام اور مغربی علاقوں کیلئے بستی رابغ جو کہ مکہ معظمہ سے سو میل کے فاصلہ پر ہے۔
قرن المنازل: نجد کی طرف مکہ سے ۳۵ میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی کا نام ہے۔
ذات عرق: مکہ معظمہ سے شمال مشرق عراق کی طرف تقریباً پچاس میل کے فاصلہ پر ہے۔
یلملم: مکہ معظمہ سے تقریباً چالیس پچاس میل کے فاصلہ پر تہمامہ کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی کا نام ہے۔ یمن اور پاکستان سے آنے والے حجاج یہاں پر یا اس سے پہلے احرام باندھتے ہیں۔ یہ مکہ معظمہ سے جنوب مشرق کی طرف واقع ہے۔

شرائط حج:
حج ادا کرنے کے لیے مندرجہ شرائط ہیں۔
٭حج ادا کرنے والا مسلمان ہو۔ عقلمند ہو۔ بالغ ہو۔٭حج ادا کرنے والا صاحب استطاعت ہو۔تندرست ہو۔آزاد ہو، غلام نہ ہو۔راستہ پُر امن ہو۔ جان کو خطرہ نہ ہو۔ عورت کیلئے محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ عورت حالت عدت میں نہ ہو۔

فرائض حج:
مندرجہ ذیل حج کے فرائض ہیں۔
٭ احرام باندھنا۔ ۹ ذوالحجہ کو میدان عرفات میں قیام (ٹھہرنا) ہو۔طواف زیارت خانہ کعبہ کے سات چکر لگانا۔ صحیح وقت صحیح مقام پر ارکان حج ادا کرنا۔

واجبات حج:
٭ مزدلفہ میں ۹ اور ۰۱ ذوالحجہ کی درمیانی رات کو قیام کرنا۔ جمرات کو ۰۱،۱۱،۲۱ یا ۳۱ ذوالحجہ کو کنکریاں مارنا۔ قربانی کرنا۔ بالوں کا منڈوانا یا حلق کروانا یعنی کتروانا۔سعی صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگانا۔ طواف و داع۔

حج کا طریقہ:
۸ ذی الحج:
مفرد نے حج کا احرام اور قرآن نے عمرہ اور حج کا احرام پہلے سے بندھے ہوئے ہیں تمتع والے جنہوں نے عمرہ کرکے احرام کھول دیا تھا۔ آج دوبارہ پہلے کی طرح احرام کی چادریں باندھیں۔ سب سے پہلے حج کی نیت سے دو رکعتیں ادا کریں۔ تلبیہ پڑھیں صبح کو ہی میدان منیٰ کی طرف روانہ ہو جائیں۔ منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پانچ نمازیں پڑھنا اور ۸،۹ ذوالحجہ کی شب کو منیٰ میں قیام کرنا سنت ہے۔

۹ ذی الحج:
دوسرے دن۹ ذوالحجہ کی فجر کی نماز پڑھ کر میدان عرفات کی طرف روانہ ہو جائیں۔ یہ حج کا سب سے بڑا رکن ہے یعنی وقوف عرفہ ادا کرنا۔ اس کے بغیر حج نہیں ہوتا۔ زوال سے غروب آفتاب تک عرفات میں قیام واجب ہے اگر کوئی آنے والی رات میں کسی وقت بھی پہنچ گیا تو حج ہو جائے گا۔ پورے میدان میں جہاں بھی جگہ ملے وقوف عرفہ ادا ہو جاتا ہے لیکن افضل جبل الرحمۃ کے قریب ہے۔ افضل و اعلیٰ یہ ہے کہ قبلہ رخ کھڑے ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگیں۔ بیٹھ بھی سکتے ہیں۔ اللہ کا ذکر کریں اور درود شریف پڑھیں۔ اپنے لیے اور ساری امت محمدیہﷺ کیلئے دعائیں مانگیں۔ جس زبان میں چاہے دعائیں مانگیں۔ عرفات میں ایک اذان سے دو علیحدہ علیحدہ تکبیروں سے دو دو رکعت نماز ظہر اور عصر (قصر) ادا کریں۔ غروب آفتاب کے بعد اس میدان سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں۔ مغرب یا عشاء کی نماز عرفات میں نہیں پڑھنی۔ راستہ میں تلبیہ پڑھیں۔ مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب اور عشاء ایک اذان سے دو علیحدہ علیحدہ تکبیروں سے مغرب کے تین اور عشاء کے دو فرض (قصر)ادا کریں۔ سنتیں اور وتر بعد میں پڑھیں۔ جماعت کے ساتھ فرض پڑھیں تو بہتر ہے ورنہ تنہا بھی دو نمازیں اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔مزدلفہ کا قیام بہت فضیلت والا ہے۔ یہ رات ستائیس لیلۃ القدر سے زیادہ درجہ رکھتی ہے اس رات سونا بھی سنت ہے ذکر و اذکار کا بہت درجہ ہے۔

10 ذ ی الحج:
تیسرے دن 10، ذوالحجہ کو فجر کی نماز مزدلفہ میں پڑھ کر سورج طلوع ہونے کا انتظار کریں سورج طلوع ہونے کے بعد مزدلفہ سے منی کی طرف روانہ ہو جائیں۔ مزدلفہ سے منیٰ کے راستہ میں وادی محسر (فیل والوں کی وادی) آتی ہے اس وادی سے تیزی سے گزرنے کا حکم ہے۔
تلبیہ، تکبیر، تہلیل، استغفار و توبہ، درود شریف اور دعا کثرت سے کریں۔ مزدلفہ سے ۲۷ کنکریاں اپنے ساتھ لے لیں تو بہتر ہے ورنہ کہیں سے بھی کنکریاں چن سکتے ہیں۔ منیٰ پہنچ کر سب سے پہلا کام جمرہ عقبہ کی رمی کرنی ہے سب سے بڑے جمرہ کو سات کنکریاں ماریں۔ پہلی کنکری مارنے کے بعد تلبیہ موقوف (بند) کریں۔ مفرد، قرآن، متمتع سب کیلئے حکم ہے۔ ہر کنکری مارتے وقت تکبیر پڑھیں دعا مانگیں۔ اس رمی کا وقت طلوع آفتاب سے لیکر آنے والی رات کی صبح صادق تک ہے۔ البتہ کچھ اوقات مسنون کچھ جائز اور کچھ مکروہ ہیں۔ضیعفوں بیماروں اور عورتوں کیلئے مکروہ وقت بھی جائز ہے۔رمی سے فارغ ہو کر بطور شکرانہ حج کی قربانی کر۔ قربانی مفرد کیلئے مستحب قران اور متمتع کیلئے واجب ہے۔قربانی کرنے کے بعد حلق (سرمنڈوانا)یا قصر(بال کٹوانا) کریں۔ حلق یا قصر کے بعد احرام کھول دیں۔ احرام کی پابندی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن میاں بیوی کے خاص تعلقات حلال نہیں ہوتے۔

طواف زیارت:
منیٰ میں رمی، قربانی، حلق یا قصر کے بعد مکہ معظمہ جاکر بیت اللہ کاطواف فرض ہے۔ اس کا افضل وقت 10، ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد شروع ہو جاتا ہے اس سے پہلے جائز نہیں۔ البتہ یہ طواف 10,11,12 ذوالحجہ تینوں دنوں میں ہوسکتا ہے۔ رات یا دن کو کر سکتے ہیں طواف کے بعد واپس منیٰ میں آنا ہوتا ہے۔ البتہ 12 ذوالحجہ کو رمی کرنے کے بعد طواف کرکے واپس منیٰ آنے کی ضرورت نہیں۔ طواف زیارت کے بعدمیاں بیوی کے خاص تعلقات حلال ہو جاتے ہیں۔

۱۱ ذی الحج:
اگر آپ۰۱ ذوالحجہ کو قربانی اور طواف زیارت نہیں کرسکے تو آج کرلیں، زوال کے بعد غروب آفتاب تک رمی کا وقت مستحب ہے، البتہ 12 ذوالحجہ کو سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے رمی ہو جائے ورنہ دم دینا پڑتا ہے اس دن رمی کی ترتیب اس طرح ہے، سب سے پہلے جمرہ اولیٰ اس کے بعد جمرہ وسطیٰ اور آخر میں جمرہ عقبہ کو سات سات کنکریاں پہلے دن کے کنکریاں مارنے کے طریقہ سے ماریں ایک جمرہ سے دوسرے جمرہ تک پہنچنے کے وقفہ کے دوران تکبیر تہلیل استغفار اور درود شریف کثرت سے پڑھیں۔

12 ذی الحج:
آج تینوں جمرات کی رمی ۱۱، ذوالحجہ کی طرح زوال کے بعد غروب آفتاب تک کریں البتہ عورتیں اور ضعیف صبح صادق تک کرسکتے ہیں۔ اگر کسی نے اب تک قربانی نہ کی ہو یا طواف زیارت نہ کیا ہو تو وہ آج کی رمی کے ساتھ ساتھ سورج غروب ہونے سے پہلے کرلیں۔
13 ذی الحج:
12 ذوالحجہ کو رمی کرنے کے بعد آپ کو اختیار ہے کہ 13، ذوالحجہ کی رمی کیلئے قیام کریں ورنہ غروب آفتاب سے پہلے پہلے منیٰ سے روانہ ہو جائیں۔ اگر آفتاب غروب ہو چکا تو آپ کو 13 ذوالحجہ کی رمی بھی ادا کرنا ضروری ہے۔ افضل یہی ہے کہ 12 ذوالحجہ کو منیٰ سے مکہ معظمہ روانہ ہو جائیں۔ 13 ذوالحجہ کی رمی (تینوں جمرات کی) کا طریقہ پہلے جیسا ہے۔ اس طرح حج ادا ہوگیا آخری کام طواف وداع ہے۔

طواف وداع:
اس طواف کو طواف صدر بھی کہتے ہیں میقات سے باہر رہنے والوں کے لیے یہ طواف رخصتی واجب ہے یہ حج کا آخری واجب رکن ہے اس کیلئے حج کی تینوں اقسام برابر ہیں۔نوٹ: حیض والی خواتین طواف حیض سے پاک ہو کر ادا کریں۔(حج مبار ک ہو)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ سعادت بار بار نصیب فرمائیں (آمین بجاہ سید المرسلین)

Avatar
مولانا رضوان اللہ پشاوری
مدرس جامعہ علوم القرآن پشاور ناظم سہ ماہی ’’المنار‘‘جامعہ علوم القرآن پشاور انچارج شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ علوم القرآن پشاور

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *