تھانیدار صاحب!کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے۔۔۔فہیم چغتائی

پنجاب پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی تقریباً 110 ملین سے زائد ہے۔ اور اس سب سے بڑے آبادی والے صوبے کے لیے بنائی گئی پنجاب پولیس تقریباً 2 لاکھ پر مشتمل ہے اس طرح ایک محتاط اندازے کے مطابق 500 افراد کی حفاظت کے لیے پولیس کے پاس صرف ایک اہلکار ہے اسی طرح پنجاب بھر میں تقریباً 713 تھانے ہیں ۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ آبادی اور نفری کے حساب سے پنجاب پولیس کے وسائل انتہائی محدود ہیں جبکہ پولیس کو ملنے والے بجٹ کا ایک بڑا حصہ تو محض تنخواہوں کی ادائیگی اور پٹرول کی مد میں ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ پولیس فورس کو ضرورت کے مطابق بجٹ کی فراہمی کے لیے اہم کردار ادا کرے۔ ماضی میں بہت سے واقعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس پولیس فورس کو اگر مطلو بہ وسائل دستیاب ہو جائیں تو ان کی کارکردگی کئی گنا بڑھ جائے گی ۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ محدود وسائل کے باوجود مو جودہ آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی ایسے اقدامات کررہے ہیں جس سے پنجاب پولیس کی کارکردگی کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف آرہا ہے ۔ ان کا ایک قابل تحسین قدم عوام اور پولیس کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا ہے تھانہ پولیس فورس کا بنیا دی یو نٹ ہے اور SHO اس بنیادی یونٹ کا کمانڈر ہو تا ہے۔یہی بنیادی یونٹ ہی امن و امان کا ذمہ دار ہوتا ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں بھی یہی ماتحت فورس دیتی ہے اور لوگوں کو سب سے زیادہ شکایات بھی تھا نہ اور SHO سے ہوتی ہیں۔آئی جی پنجاب نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد پہلے پولیس دربار میں اعادہ کیا تھا کہ پولیس کا مورال بلند کیا جائے گا اور پولیس صحیح معنوں میں عوام دوست اور لوگوں کی محافظ فورس بنائی جائے گی۔ اس مقصدکے لیے جس طرح انہوں نے پنجاب بھر کے 700سے زائد تھانوں میں CCTV کیمروں کی تنصیب کا عمل مکمل کروا یا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ پولیس تھانوں میں CC TV کیمروں کے لگانے کی قابل ذکر وجوہات یہ ہیں کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے دوروں پر بہت زیادہ اخراجات ہوتے ہیں یہاں اہم مسئلہ یہ تھا کہ اگر آفیسران تھانوں کا وزٹ نہ کریں تو دور دراز کے تھانوں میں کیا ہو رہا ہے ؟اس کا سنٹرل پولیس آفس میں موجود پولیس آفیسروں  کو کیسے پتہ چلے گا اور اگر وہ وزٹ کریں تو ہمارے محدود وسائل ہمیں اس قدر اخراجات کی اجازت نہیں دیتے

tripako tours pakistan

اگر دیکھا جائے تو موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے ، ترقی یافتہ ممالک جرائم کے خاتمے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں دوسری جانب آئی جی پنجاب نے بھی اپنی فورس کو جدید آئی ٹی سے لیس کرنا شروع کر دیا ہے جس کا ایک قدم CCTV کیمرے لگانا ہے۔ ان کیمروں کی تنصیب کا مقصد پنجاب کے تمام SHOs کو روزانہ کی بنیا دوں پر اس بات کا پابند کرنا ہے کہ وہ 2 گھنٹے عوام کے لیے مختص کریں اور تھا نہ میں عوام کے لئے اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ اس سے پہلے شہریوں کو شکایت ہوتی تھی کہ SHOsفیلڈورک کی وجہ سے تھانے میں دستیاب نہیں ہوتے اوان کے آنے تک سائل انتظار کر کرکے چلے جاتے ہیں۔ امجد جاوید سلیمی صاحب نے اس شکایت کا ازالہ کرتے ہوئے ہر تھا نہ میں 3,3 کیمروں کو تنصیب کروانے کے احکامات جاری کیے جن میں سے ایک کیمرہ تھانہ کے گیٹ پر ایک حوالات میں اور ایک SHO کے دفتر میں ہو گا۔ان کیمروں کا فائدہ یہ ہو گا کہ پورے پنجاب میں اٹک سے لیکر رحیم یار خان اور راجن پور کے کچہ کے علاقوں تک موجود تھانوں کو نہ صرف متعلقہ ڈی پی اوز اور آر پی اوز 24/7 مانیٹر کر سکیں گے بلکہ آئی جی پنجاب خود بھی سنٹرل
پولیس آفس سے براہِ راست مانیٹر کر سکیں گے اور شہریوں کو فوری انصاف بھی فراہم کیا جا سکے گا۔

شہریوں کو پولیس سے ایک شکایت حوالات میں تشدد کی ہوتی ہے ان کیمروں کی تنصیب سے حوالات کی لمحہ بہ لمحہ صورت حال کاجائزہ لیا جا سکے گا اورشہریوں کی حوالات میں تشدد کی شکایات کا بھی ازالہ ہو سکے گا ۔اور دوسرا یہ کہ تھانوں کے وزٹ کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان کیمروں کی تنصیب سے کے اخراجات 1200 سے 1800 فی کیمرہ ہیں۔یاد رہے کہ ان سے پہلے فرنٹ ڈیسک بنائے گئے تھے اور ان میں بھی CCTV کیمرے نصب کیے گئے تھے جو کہ ایک اچھا تجربہ رہا۔ اگر دیکھا جائے فرنٹ ڈیسک بنانے سے پہلے عوام تھانے میں جانے سے اجتناب کرتی تھی اور بہت سے مقدمات درج ہی نہیں ہوتے تھے کیوں کہ لوگوں کے ذہنوں میں پولیس کا خوف بدمعاش ازم فلموں کی وجہ سے روائتی طور پر بیٹھا ہوا تھا جو کہ فرنٹ ڈیسک کے بننے کے بعد بہت حد تک کم ہو ا اور لوگوں نے اپنی شکایات درج کروانا شروع کیں۔ آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی صاحب نے کیمروں کی تنصیب کا عمل اس لیے کروایا ہے کہ لوگوں کو یہ اعتماد ہو کہ اعلیٰ افسران تھانے کو خود مانیٹر کر رہے ہیں اور عوام کے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہو سکے گی۔ سچ کہوں تو یہ صرف آئی جی پنجاب کا ہی نہیں بلکہ ہر قانون پسند شہری کا بھی خواب ہے جسے منزلِ تعبیر تک پہنچانے کی اہلیت صرف آئی جی پنجاب میں ہے۔
ہماری دعا ہے کہ آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی اپنے اہداف احسن طریقے سے مکمل کریں اور پولیس کو اپنے مشن کے مطابق عوام دوست بنانے میں کامیاب ہو ں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *