وزیراعظم عمران خان جا رہے ہیں امریکہ۔۔۔عبداللہ قمر

عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ امریکیوں کو بھی سنا دیا جس کا عملی نمونہ باقاعدہ ان کے دورے کے دوران نظر آئے گا. سب سے پہلی بات، گزشتہ وزرائے اعظم کی طرح عمران خان کے ساتھ ان کے گھر کے افراد نہیں بلکہ وزارتِ  خارجہ و دیگر امور مثلاً سکیورٹی اور معیشت سے متعلقہ افراد ہی ساتھ جائیں گے. جس سے واضح طور پر یہ تاثر قائم ہو گا کہ ہم کسی طور پر ملکی و قومی مفاد سے ہٹ کر ذاتی نوعیت کے معاملے پر بات کرنے کو ترجیح نہیں دیں گے. امریکہ جا کر پاکستان کا وزیراعظم کسی فائیو یا سیون سٹار ہوٹل میں قیام نہیں کرے گا بلکہ وہ امریکہ میں موجود پاکستان کے سفارتخانے میں ہی قیام کرے گا. یہ ایک غور طلب بات ہے کہ آخر کیوں عمران خان کہیں اور نہیں بلکہ پاکستان سفارت خانے میں قیام کریں گے. اس بات پر امریکی نے غصے اور تشویش کا اظہار بھی کیا ہے. اس کے بعد امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال پر عمران خان کے دورہ امریکہ سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا تھا. چلیں اس بات کو ہم ان کی نا اہلی یا غفلت مان لیتے ہیں لیکن ویسے امریکیوں نے پاکستان کے وزیراعظم کو دورہ امریکہ کی دعوت دینے کے لیے تیاری خوب کی ہے. ویسے تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان کے سفارتی تعلقات 9/11 کے بعد سے کافی پیچیدہ ہیں مگر گزشتہ چند برسوں سے انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں. پاکستان اور امریکہ دونوں ممالک کے ایک دوسرے سے کچھ نا کچھ مفادات ہیں. لیکن افغانستان میں امن قائم کرنے کا سلسلہ جب سے شروع ہوا ہے پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے. لیکن سب سے اہم اور امریکہ کے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستان کا مکمل طور پر جو امریکہ کا انحصار تھا وہ ختم ہو گیا ہے. جس سے امریکہ کا اثر و رسوخ پاکستان کے اندرونی معاملات میں  کسی حد تک ختم ہو گیا ہے. اس وقت امریکہ کی دو بڑی خواہشات ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان امریکہ کو افغان امن مذاکرات میں مدد کرے اور دوسرا پاکستان امریکہ کو سی پیک میں پارٹنر بنا لے. پاکستان کو وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا ہو گا جس طرح پاکستان اس وقت کھیل رہا ہے. پاکستان کے روس اور چائنہ کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں اور امریکہ کے ساتھ بھی کچھ برے نہیں مگر مستقبل قریب میں اس طرح کھیلنا پاکستان کے لیے مشکل ہو جائے گا. امریکہ کی پاکستان مخالف پالیسیاں کھل کر سامنے آتی جا رہی ہیں مگر پاکستان قدرے safe side پہ ہے. امریکہ اس خطے سے اپنا اثر و رسوخ اور موجودگی ختم نہیں کرنا چاہتا. دوسری جانب 50 فیصد تقریباً 9 ہزار امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا ہو چکا ہے اور افغان امن مذاکرات بھی کچھ نا کچھ پٹری پر چڑھ رہے ہیں. جونہی افغان امن مذاکرات کسی نہج پر پہنچیں گے تو امریکہ اس خطے سے آؤٹ ہو جائے گا. پاکستان کو امریکہ کے پریشر سے بچنے کے لیے اپنی معیشت کو جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے وگرنہ پھر سے امریکہ ہمارے سر پر  لٹکتی تلوار بن سکتا ہے. اب ہم وزیر اعظم کے دورۂ امریکہ کی طرف آتے ہیں. ہمارے ہاں وزیراعظم بن کر پہلے دورے پر امریکہ جانے کی روایت تھی مگر عمران خان نے  پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا پھر UAE گئے پھر سعودیہ عرب گئے پھر چائنہ کا کامیاب دورہ کیا. اور کسی لمحے بھی دورہ امریکہ کی خواہش کا اظہار نہیں کیا. اور امریکہ عمران خان کی پالیسیوں اور اس حکومت سے کسی طور خوش نہیں ہے. کیونکہ عمران خان وہ ایک گوٹی ثابت ہوئے ہیں جس نے عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ساری چالیں ناکام کر دی ہیں. عمران خان کے امریکہ جانے سے قبل دو بڑی Developments ہوئی ہیں ایک تو بھارت کو امریکہ نے کان سے پکڑ کر افغانستان سے نکال دیا ہے جو کہ مودی سرکار کے لیے بہت ہریشان کُن بات ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں جو تخریب کاری انڈیا پاکستان کے اندر کرنا چاہتا تھا اس کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے. اور دوسری بڑی development یہ ہوئی ہے کہ پاکستان مخالف بھارت کی ایما پر چلنے والی دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو امریکہ نے دہشتگرد قرار دے دیا ہے. اسے ہم امریکہ  کی جانب سے Good will gesture سمجھ سکتے ہیں. اس دورے کے بعد FATF سے متعلق بڑی خبریں ضرور آئیں گی. کیونکہ پاکستان ہر صورت میں گرے لسٹ سے نکلنا چاہتا ہے.گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان بہت سے کڑوے گھونٹ بھی پی چکا ہے. لیکن اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کو کیا قیمت ادا کرنی ہے.

Abdullah Qamar
Abdullah Qamar
Political Writer-Speaker-SM activist-Blogger-Traveler-Student of Islamic Studies(Eng) at IOU-Interested in International Political and strategic issues.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *