• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بے آواز گلی کوچوں سے۔ تاریکی کے محافظ۔۔۔۔۔محمد منیب خان

بے آواز گلی کوچوں سے۔ تاریکی کے محافظ۔۔۔۔۔محمد منیب خان

شام ہو چکی ہے۔ دور افق کے اس پار سورج غروب ہو رہا ہے۔ آسمان پہ ابھی تھوڑی روشنی باقی ہے۔ مدھم سی روشنی۔ اتنی مدھم جتنی بستر مرگ پہ زندگی سے لڑتے کسی وجود میں زندگی کی رمق ہوتی ہے۔ زندہ ہوتے ہوئے بھی موت کے خیال میں ڈوبی زندگی شام کے آخری پہر اتری روشنی جیسی ہوتی ہے۔ سب کو یقین ہوتا ہے کہ جلد ہی یہ وقت گزرے گا اور تاریکی مکمل چھائے گی لیکن امید، اک موہوم سی امید قائم رہتی ہے۔ ۔کہ شاید روشنی کچھ لمحے مزید ٹھہری رہے، شاید زندگی یونہی چلتی رہے۔ معجزوں کا وجود اپنی جگہ لیکن سورج ڈوب کر ہی رہتا ہے۔ سو آج بھی ڈوب رہا ہے۔ افق کے اس پار۔۔۔۔ کبھی ساحل سمندر پہ غروب آفتاب کا منظر دیکھیں تو گماں ہوتا ہے گویا سورج سمندر میں دھنس رہا ہو۔ سورج چونکہ گول ہے لہذا سمندر کو اس کے دھنسنے سے کوئی درد کوئی ٹھیس، کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔ بس شام کے وقت لہروں کے ارتعاش کی رفتار تھوڑی تیز ہو جاتی ہے۔ لیکن ساحل پہ سر پٹخنے کا فائدہ؟

یہ میں کن سوچوں کو لے کر بیٹھ گیا۔ نہ میں ڈوبتا سورج ہوں،نہ بستر مرگ پہ لیٹا کوئی مریض اور نہ بے جان ساحل پہ سر پٹختی لہر۔ ۔میں زندگی کی رمق سے بھر پور انسان ہوں۔ اپنے پورے صحیح و سالم وجود کے ساتھ۔ بس کچھ اگر ہے تو فقط میری سوچوں میں اضطراب ہے۔ میں بات کر رہا ہوں اور بات سنی نہیں جا رہی۔ اضطراب تو ہونا ہی ہے۔ خیر سب میری بات سنیں گے بھی کیوں؟ میں مضطرب سوچوں کے ساتھ کرسی پہ بیٹھا ہوں۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو مدھم روشنی تاریکی میں جذب ہو رہی تھی۔ یہ تاریکی کیا ہے؟ کیا یہی تاریکی ہے جو روشنی کو کھا جاتی ہے؟ یا روشنی جب لوگوں کو نا امید دیکھتی ہے تو خود ہی سارا منظر نامہ تاریکی کے حوالے کر کے چلی جاتی ہے؟ خیر جو بھی ہے۔ تاریکی کا راج ہو رہا ہے۔

میں دو چار قدم ٹی وی لاونچ میں چل کر پھر اسی جگہ بیٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں۔ منظر نامہ ویسے ہی ہے بس تاریکی گہری ہو گئی ہے۔ بھلا تاریکی کے بھی درجے ہوتے ہیں؟ ہاں شاید جوں جوں روشنی کا وجود ختم ہوتا ہے تاریکی درجہ بدرجہ چھاتی ہے۔ ۔اور ایک مقام پہ پہنچ کر روشنی کا وجود بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ رات کی سیاہی بھی کبھی کم کبھی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ لیکن شاید مشاہدے میں نہیں آتی،لیکن تاریکی کے درجے ضرور ہوتے ہیں۔ خیر آج صبح سے اخبار بھی نہیں پڑھا۔ یہ اخبار کہاں چلا گیا؟ بھلا اخبار بھی کہیں جا سکتا ہے کسی نے خود ہی کہیں رکھا ہوگا۔ خیر صوفے کے نیچے سے اخبار ملا۔۔ وہی خبریں، وہی واقعات، ویسے ہی حادثات۔ مجھے لگا میں کوئی پرانا اخبار پڑھ رہا ہوں۔ فوراً آج کی تاریخ ڈھونڈی۔۔ نہیں، اخبار تو آج کا ہی ہے۔ لیکن میں جو برس ہا برس سے اخبار پڑھ رہا ہوں اس کی اور آج کی خبروں میں کوئی فرق نہیں۔ کیا میرا زمانہ منجمد ہو گیا ہے؟ کیا میں کسی “آئس ایج” میں اٹک کر رہ گیا ہوں؟ خیر چھوڑو اخبار والوں کا کیا ہے۔ وہی صحافی، وہی صحافت، وہی  انداز، لیکن خبریں بھی ویسی کیوں؟

اخبار کو ایک طرف رکھتا ہوں۔ شاید مجھے ٹی وی دیکھنا چاہیے اسی سے کچھ نیا دیکھنے سننے کو ملے۔ شاید اس طرح میری فکری لہروں کو سر پٹخنے کے لیے کوئی ساحل دستیاب ہو۔ اب تو وہ لوگ بھی ناپید ہوتے جا رہے ہیں جو اس وقت کی باتیں سناتے تھے جب ٹی وی نیا نیا آیا تھا۔ یہی کوئی پینتالیس سال پہلے۔ لیکن پینتالیس سال پہلے والی نسل ناپید کیسے ہو گئی؟ شاید میں نے ہی ان لوگوں سے بات کرنا چھوڑ دیا ہے۔ شاید اب اس دور کے واقعات کو جاننے میں میری دلچسپی نہیں رہی۔ میری دلچسپیاں بدل گئی ہیں۔ خیر ٹی وی پہ سینکڑوں چینل ہیں۔ ۔ایک کے بعد ایک چینل گھوماتے ہوئے میں صوفے سے اٹھ کر آرام کرسی پہ بیٹھ جاتا ہوں۔ چند لمحوں کے لیے میں بھول جاتا ہوں کہ میں نے ٹی وی کیوں چلایا؟ ۔۔۔ ایک چینل پہ قومی ترانہ چل رہا ہے۔ ایک چینل کی آواز بند ہے۔ ہائے اللہ یہ رموٹ کیوں نہیں چل رہا۔ کیا اس کی بیٹری ختم ہو گئی یا میرے کان خراب ہوگئے؟ اللہ اس عمر میں میرے کان کیسے جواب دے گئے؟ بھلا بیماری کا عمر سے کیا تعلق؟ سوچنے کی بات ہے جوان بھی تو کسی موذی مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن آخری بار جب شام کو میرے خیالوں نے سرگوشی کی تھی تو مجھے سب ٹھیک ٹھیک سنائی دے رہا تھا اب کیوں کان بند ہیں۔ کوئی ہے جو مجھے آواز دے؟ سب سو رہے ہیں۔ سب کو سونا ہی چاہیے۔ لیکن یہ آواز کیوں بند ہے۔ اسی شش و پنج میں مزید چینل گھمائے تو باقی جگہ آواز ٹھیک تھی۔ اور پردہ سکرین پہ غل غپاڑہ، طعن تشنیع، تو تو میں میں دیکھتا جاتا۔ اب شاید ٹی وی پہ یہی کچھ بچا ہے۔ لیکن اس مخصوص چینل کی آواز کیوں بند ہے؟ یا کسی مخصوص جگہ پہنچ کر میری قوت سماعت کھو جاتی ہے؟

باہر۔۔۔ مکمل رات چھا چکی ہے۔ ذرا بھی روشنی اب موجود نہیں رہی۔ اخبار کی خبریں وہی پرانی تھیں، سوچ پہ تازیانے چلانے والی۔ ٹی وی کے مخصوص چینل کی آواز بند ہے۔ یا شاید میرے  کان بند ہیں۔ میں نے گھبرا کر خود کلامی کی۔۔ مجھے اپنی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی  اور اوپر سے اتنی رات کو لائٹ چلی گئی۔ لائٹ تو دن میں بھی گئی تھی لیکن اس وقت اگر کھڑکی اور روشن دان کھول دیں تو کچھ گزارا ہو جاتا ہے۔ میں نے ٹارچ کو ٹٹولنا شروع کی، تگ و دو کے بعد مل گئی۔ ٹارچ جلائی کھڑکی سے باہر اس کی روشنی ڈالی۔ روشنی تاریکی میں گم ہو گئی۔ مصنوعی روشنی اصل تاریکی پہ بے اثر ٹھہرتی ہے۔۔۔ آخر کب تک؟ تاریکی یا روشنی جو بھی مصنوعی ہو بے اثر ہوتی ہے۔ اسی اثنا میں دروازے پہ دستک ہوئی۔ یہ رات کو کون چلا آیا بن بتائے؟۔ “کون ہے”؟ میں نے اندر سے ہی آواز دے کر پوچھا۔ “دروازہ کھولیے”۔ “بھائی صاحب آپ کون ہیں”؟ میرے جسم میں ایک جھرجھری سی دوڑی۔ “یہ ابھی ٹارچ جلا کر آپ نے تاریکی میں روشنی بکھیرنے کی کوشش کی تھی”۔ جی تو؟ تو آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ لیکن کیوں؟ آپ کون ہیں؟ میں آپ کے ساتھ کیوں جاؤں؟ زیادہ بولیے مت۔ آپ پر “تاریکی” کو کم کرنے کا الزام ہے۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *