شکریہ راحیل شریف ۔۔۔۔ احسن سرفراز

  •  ملک کے معروف اخبار ڈان نیوز میں سرل المیڈا کی سٹوری کے بعد ایک مرتبہ پھر سول ملٹری تعلقات میں دراڑ کی خبریں گرم ہیں . موجودہ حکومت کے حامی عناصر جمہوریت کو مبینہ طور پر درپیش خطرات کے حوالے سے فوج کے کردار پر نوحہ خواں ہیں اور ارض پاک کے ماضی و حال کے تمام تر مسائل کا الزام ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر دھر رہےہیں۔ اگر ہم ماضی وحال کے ملکی مسائل کا سلسلہ وار مطالعہ کریں تو میرے خیال میں ہمارے ملک کی حکمران اشرافیہ جس میں ججز، بیوروکریٹس، فوج، سیاستدان اور اب میڈیا سب شامل ہیں تواندازہ ہوگا کہ یہاں کوئی بھی دودھ کا دھلا ہوا نہیں۔ ہر جگہ آپ کو اچھی اور بری بےشمار مثالیں مل جائیں گی۔ مختلف اوقات میں انھوں نے مل کر ملک کو نقصان پہنچایا ہے، اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کس نے کم یا زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

    یہاں شخصیات کے ساتھ پالیسیاں بھی بدلتی رہی ہیں. یہ منفی و مثبت اثرات ایک الگ مضمون میں بحث کے متقاضی ہیں. اس فوج کو اگر ہم جنرل راحیل کے دور کے تناظر میں دیکھیں تودرج ذیل اہم نکات اور انکے اثرات کچھ یوں ہیں.

    1)ملٹری اسٹیبلشمنٹ کےناقد اشارے کنایوں میں نواز شریف اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے پیچھےملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ بتاتےہیں ۔ اگر ہم واقعات کے وقوع پذیر ہونےکا ترتیب وار جائزہ لیں تو اس الزام میں خاصی صداقت نظر آتی ہے۔ لندن کی ملاقاتوں سے لے کرایک ہی تاریخ کو دونوں دھرنا اتحادیوں کا نکلنا، ایمپائر کی انگلی کی بات، ریڈ زون کو کراس کرنا، پی ٹی وی پر حملہ، وزیر اعظم ہاؤس کی طرف مارچ اور اس جیسے دوسرے واقعات و مطالبات ان دھرنا قوتوں کے پیچھے واضح ہاتھ ہونے کا پتہ دیتےرہے. لیکن اگر ہم دھرنے کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں، خود کو نہ کسی پارلیمنٹ، نہ کابینہ، نہ عدلیہ، نہ اپنی جماعت، نہ میڈیا اور نہ عوام کو جوابدہ سمجھتے ہیں. بادشاہت انکی نس نس میں بھری ہے۔ جس طرح انتخابات میں کامیابی کے بعد ایک سال انھوں نے گزارا تاریخ کا حصہ ہے. مختصراً انھوں نےمشرف کی آڑ لی کر جس طرح عسکری اداروں کی بدنامی شروع کی، اس سلسلے میں خواجہ آصف اورخواجہ سعد رفیق کے بیانات،  حامد میرپر قاتلانہ حملے کے بعد ایک میڈیا ہاؤس کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی پر یکطرفہ الزامات کی بوچھاڑ اور پھر پرویز رشید کا دلیل اور غلیل والا بیان، وہ واقعات ہیں جنہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا. ان واقعات کے بعد ملٹری اسٹیبلشمنٹ نےآپریشن دھرنا کے ذریعےشریف برادران اور ملک سے تاریخی ‘نیکی’ کی.

    آپ حیران ہو رہے ہونگے کہ میں نے نیکی کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اب ذرا دھرنے کے اثرات کا جائزہ لیں تو آپکو اندازہ ہوگا کہ میں صحیح کہہ رہا ہوں یا غلط. دھرنے کے نتیجے میں نواز شریف صاحب پورے ایک سال بعد پارلیمنٹ، اپنی جماعت، کابینہ، میڈیا وعوام کو تفصیل سے وقت دے پائے۔ گردن کا سریہ نرم ہوا، فوج سے محاذ آرائی ختم ہوئی، میڈیا ہاؤسز کی بدمعاشی کو لگام دینا پڑی، بطور نا بالغ اپوزیشن لیڈر عمران خان اور طاہر القادری کی سیاست کا جنازہ نکل گیا۔ میاں صاحب کے مشکوک مینڈیٹ کو بعد میں اداروں کی طرف سے مہر تصدیق مل گئی۔ استعفےٰکے مطالبے کو رد کر دیا گیا. اب بتائیں دھرنوں کے بعد مُلک اور میاں صاحب مضبوط ہوئے یا کمزور؟

    2)دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے سیاستدان بشمول دینی جماعتیں اور میاں صاحب عسکری طاقت کےجنوبی وزیرستان وغیرہ میں استعمال کے حوالےسےجتنے یکسو تھے سب کو پتہ ہے. اگر راحیل شریف آگے بڑھ کر آپریشن ضرب عضب شروع نہ کرتےتو یہ ملک آج بھی آگ اور خون کے طوفان میں پوری قوت سے گھرا ہوتا۔ اب اس آپریشن کے ذریعے اس طوفان کا زور خاصی حد تک توڑ دیا گیا ہے۔

    3)کراچی آپریشن کے ذریعے بلا تفریق سیاسی و فرقہ وارانہ گروہوں کے عسکری ونگز کا خاتمہ جاری ہے۔ وہ کراچی جو ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے حوالے سے ضرب المثل بن چکا تھا، جہاں آئے روز ہڑتال معمول کی بات تھی، وہی کراچی دوبارہ روشنیوں کا شہر بننے کے اپنے سفر کا آغاز کر چکا ہے۔

    4)بلوچستان کے حالات میں بیرونی عناصر کی طرف سے مداخلت اور دہشتگردوں کی پشت پناہی عام تھی۔ اب سرحد پار کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو خاصی حد تک غیر مؤثر بنایا جاچکا ہے گو کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات پر ابھی پوری طرح کنٹرول نہیں پایا جا سکا لیکن حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔

    5)پہلی بار فوج کے اندر جرنیلوں کی سطح کی کرپشن پر نہ صرف ہاتھ ڈالا گیا بلکہ اسے میڈیا کے ذریعے مشتہر بھی کیا گیا۔

    6)ملک میں دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد عدالتوں کے ذریعے انھیں سزا نہ ملنا ایک اہم مسلہ تھا۔ ان دہشت گردوں کا خوف بہت سے مقدمات کے التوا کا بھی باعث بنتا تھا۔ اب فوجی عدالتوں کے ذریعے بہت سے دہشت گرد تختہ دار پر لٹکائے جا چکے ہیں۔

     7)انڈیا کا کشمیر کے حالات کو چھپانے کیلئے پاکستان کی طرف جارحانہ رویے کا عسکری قیادت کی طرف سے انتہائی تدبر کے ساتھ جارحانہ جواب دیا گیا۔ موٹر وے پر طیاروں کی اڑانیں، لائن آف کنٹرول پر دشمن کے دانت کھٹے کرنے کیلیے جوانوں کی مستعدی، انڈیا کے نام نہاد سرجیکل سٹرائک کے پراپیگنڈہ کاجواب دینے کیلیے ISPRکی طرف سے ملکی وغیر ملکی صحافیوں کا لائن آف کنٹرول کا دورہ، روسی افواج ک یساتھ مشترکہ مشقیں وہ اقدامات ہیں جس نے انڈیا کا دماغ کافی حد تک ٹھکانے لگا دیا ہے۔
    8)سی پیک منصوبے کی کامیابی کیلیے اسکے روٹ اور ترقیاتی سائٹس کی حفاظت خاصے مؤثر انداز سے جاری ہے۔
    مندرجہ بالا چیدہ چیدہ نکات ہیں جسے ہم جنرل راحیل شریف کے دور کے اہم واقعات کہہ سکتے ہیں. اب جبکہ جنرل راحیل کی مدت ملازمت کا اختتام ہوا چاہتا ہے اور وہ پہلے ہی اپنی مدت ملازمت میں کسی قسم کی توسیع کے بارے عدم دلچسپی کا اظہار کرچکے ہیں، ان کی اپنے وقت پر ریٹائرمنٹ اور مدت ملازمت میں کسی قسم کی توسیع نہ لینے کا فیصلہ ایک اعلیٰ روایت ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے جانشین ان کی شاندار خدمات کو آگے بڑھاتےہوئے ملک اور ادارے کی نیک نامی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
    آج جب قومی سلامتی کی میٹنگ کی باتوں کا لیک ہونا سول ملٹری تعلقات میں ایک دفعہ پھر زلزلہ پیدا کر چکا ہے، دریں حالات سول ملٹری تعلقات کی درستگی انتہائی ضروری ہے۔ فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی خطرات کا ادراک کرنا چاہیے اور ملکی ترقی وخوشحالی کیلیے ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے. کسی بھی صورت جمہوری عمل تعطل کا شکار نہیں ہونا چاہیے لیکن جمہوری عمل کی کامیابی اعلیٰ جمہوری اقدار میں پنہاں ہے اور جمہوری اقدار میں فوری اور بے لاگ احتساب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے. پانامہ لیکس کی مکمل تحقیقات لازماً ہونا چاہیے اور کسی بھی بے ضابطگی کو معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔ انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں کا متفق ہونا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے. ضروری نہیں کہ ہر بار کسی دھرنے کے نتیجہ میں ہی یہ حکومت ہوش کے ناخن لے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *