پاکستانی ۔۔۔۔ تنویر عارف

قوموں کی بھی ایک شخصیت اور مزاج ہوتا ہے جو اس کی اکثریت کے اجتماعی رویے کا اوسط آئینہ دار ہوتا ہے، مثلا روسی ناراض، شکّی اور اکھّڑ۔۔۔ اسکینڈی نیوین شریف اور بردبار۔۔۔ امریکی بے تکلف۔۔۔ عربی شدید طور پر سنجیدہ۔۔۔ جاپانی عجز وانکساری کے پیکر۔۔۔ فرانسیسی قانونی ٹائپ۔۔۔ کینیڈین انتہائی شریف۔۔۔ جرمن منظم، دو جمع دو چار ٹائپ۔۔۔ برازیلی بے فکرے اور پارٹی باز۔۔۔ اور اٹالین غنڈہ مزاج سمجھے جاتے ہیں۔ قوموں کا یہ مزاج اور سائکی یعنی نفسیات صدیوں کے معروضی حالات کی وجہ سے ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ اگر پاکستان میں پھر کر پاکستانیوں کے مزاج کا تجزیہ کیا جائے پہلا مضبوط ترین تاثر جو فوری ابھر کر سامنے آئے گا وہ ہے بے صبری، اور وہ بھی انتہائی درجے والی بے صبری۔

پاکستانیوں کا شدید غیر منظم، جگاڑو ٹائپ رویہ اور نیم وحشی برتاؤ اپنی نظیر آپ ہے۔ غالبا صرف مصر اور نائیجیریا کے عوام ایسے ہیں جو برتاؤ میں ہم سے قریب تر ہیں۔ میں ایسی قوم سے ہوں جو روزانہ لاکھوں گھنٹے اور کروڑوں کا ایندھن سڑکوں پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جدوجہد میں ضائع کرتی ہے، کیونکہ سب ہی ڈرائور بیک وقت آگے نکلنے کے چکر میں کسی کو نہیں نکلتے دیتے۔ پیدل چلنے والا اگر سڑک پار کرنا چاھے تو گاڑی والے باقاعدہ غضب ناک ارنا بھینسوں کی طرح اسے کچلنے بھاگتے ہوئے آتے۔ آپ نے وہ قصہ تو سنا ہی ہوگا کہ ایک شخص جہنم کے دورے پر گیا تو دیکھا کہ جہنم میں سب ممالک کے گناہ گار اپنے اپنے قومی کنوؤں میں جل رھے تھے، کنؤوں پر پہرے دار فرشتے مامور تھے تاکہ کوئی بھی جہنمی باہر نکلنے کی کوشش کرے تو ڈنڈا مار کر واپس گرادیا جائے، مگر حیرت انگیز طور پر پاکستانی قومی جہنمی کنؤیں پر کوئی نگراں فرشتہ نہ تھا، استسفار پر بتایا گیا کہ یہاں کسی نگراں کی ضرورت اس لئے نہیں کیونکہ جب بھی کوئی پاکستانی باہر نکنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسرے ہم وطن اسے کھینچ کر خود ہی اندر گرالیتے ہیں۔

لاھور اور کراچی میں اگر آپ پیدل چلتے ہیں اور ابھی تک ذندہ ہیں تو یہ ایک معجزے سے کم نہیں، کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ یک رویہ (ون وے) سڑک پر آپ دائیں یا بائیں دیکھتے ہوئے، اپنی امّی کے بچپن میں سکھائے ہوئے احکامات پر عمل کرتے، سرپٹ بھاگ کر انتہائی احتیاط سے سڑک پار کرنے ہی والے ہوتے ہیں کہ رانگ سائیڈ سے آنے والا انتہائی برق رفتار، بائیک والا شہزادہ آپ کی ٹانگوں میں گھس جاتا ہے، اس سے پہلے کہ آپ کے خطا اوسان بحال ہوں، مائکل شوماکر، فارمولا ون چمپئن کی رفتار کو بھی مات دینے والی خوفناک رفتار سے اڑتے ہوئے ڈرائیور آپ کو دوسری دنیا میں پہنچانے کو لپکتے دکھائی دیتے اور آپ لنگڑاتے ہوئے جان بچا کر بھاگتے ہیں۔

پاکستانیوں کا دوسرا پرسانلٹی ٹریٹ ہے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر دوسروں کی غیبت، اس سے تھک کر بڑھتی ہوئی پراپرٹی کی قیمتیں بتاکر ایک دوسرے کا بلڈ پریشر ہائی و لو کرنا اور اس کے بعد عجب کرپشن کی غضب کہانیاں سننا اور سنانا جیسے کہ “ابے یار تونے سنا قیوم بھائی نے پچھلے ماہ جو پلاٹ لیا تھا کوڑیوں کے بھاؤ، وہ اب ایک کروڑ کا ہوگیا ہے، اور وہ کسی کو نہیں دے رہا“۔ تاہم پاکستانیوں کا سب سے محبوب مشغلہ سازشی تھیوریاں بنانا اور فرغ دینا ہے، اس پر تو بلا شبہ ہم سب نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ ان تھیوریوں کو سننے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہم بیک وقت دو دنیاؤں میں موجود ہیں، ایک وہ جو بظاہر نظر آتی ہے، دوسری وہ جو نظر تو آتی ہے مگر ویسی ہوتی نہیں جیسا ہم سمجھ رھے ہوتے ہیں۔ پاکستانیوں کے نزدیک ہماری زندگی کے ہر مظہر میں قومی ایجنسیاں، امریکی سی آئی اے، را، موساد، کے جی بی اور ایم آئی سکس دخیل ہیں۔ ویسے ہی مثال کے طور پر اگر آپ پوچھیں گے کہ انکل، عمران خان تیسری شادی کیوں کررہا ہے؟ تو پان کے کیبن والا چاچا بشیر بھی آپ کو بتادے گا کہ بھیا اس کے پیچھے امریکہ ہے۔ آپ حیران اور ششدر رہ جاتے ہیں کہ جو کلاسیفائیڈ یعنی انتہائی خفیہ راز بیس کروڑ ہم وطنو کو پہلے سے پتہ ہے آپ اس سے کیوں ناواقف تھے؟

وقت کی ارزانی و فراوانی کی وجہ سے تماشا دیکھنا بھی پاکستانیوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ آپ ایک تجربہ کرکے دیکھیں، جو ہم اکثر کالج کے زمانے میں کیا کرتے تھے، کسی مصروف پل پر بے چینی سے نیچے دیکھنے لگ جائیں اور ہاتھوں سے نیچے کی جانب اشارے کریں، آن کی آن میں سینکڑوں موٹرسائکل سوار اور گاڑی والے چھلانگیں مار کر اتریں گے اور کسی تماشے کی آس میں نیچے دیکھنا شروع کردیں گے، بقول شخصے کوئی روڈ پر پان کی تازہ پیک تھوک دے تو ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے۔

کھانے پینے کے معاملے میں جو عظیم قومی اتحاد اور اتفاق پاکستانیوں میں نظر آتا ہے، عالمی طور پر اسکی نظیر ملنا مشکل ہے، ہماری رائے میں ترکی اور پاکستانی، دو قومیں ایسی ہیں جو ایک ہی جیسے بور کھانے روزانہ کھاکر بھی خوش رہتے ہیں، ترکوں کو کباب، جسے وہ کیباپ پکارتے ہیں، اور آئران (لسی) کے علاہ کچھ اور نہیں بھاتا، اور پاکستانیوں نے اجتماعی طور پر قراداد چکن کڑاہی اور چکن بریانی منظور کررکھی ہے کہ ان کے سوا سب ہیچ ہے۔ کسی بھی ریسٹورینٹ کے مینو کارڈ پر اگر چکن کڑاہی اور چکن بریانی نہ ہو تو اس کے مالک کو پکڑلو، پکا را یا موساد کا ایجنٹ نکلے گا۔ بیس کروڑ لوگ روزانہ باجماعت چکن کڑاہی و چکن بریانی ہڑپ رہے ہوتے ہیں، خدا کی پناہ۔

ایسا نہیں کہ ہمیں اپنے ہم وطنوں میں کوئی اچھی بات نہیں دکھتی، پاکستانی اگر ایک دوسرے کی مدد کرنے پر آجائیں تو کوئی قوم اس کی پرچھائیں کو نہیں پہنچ سکتی، آپ بائیک کا اسٹینڈ اٹھائے بغیر بائیک چلائیں تو ایک کلومیٹر کے فاصلے کے دوران چھ لاکھ بہتر ہزار آٹھ سو چون لوگ آپ کو ٹوکیں گے کہ انکل اسٹینڈ اوپر کرو۔ یا آپ بیگم کو لمبا دوپٹہ پہنا کر بائیک پر بٹھا کر چلا کر دیکھ لیں، شہر کا ہر کار، بائیک، ٹرک اور بس والا آپ کو بیگم کے ہوا میں اڑتے دوپٹے کو سنبھال کر بیٹھنے کا پرزور و پرشور کاشن دے گا مبادا دوپٹہ بائیک کے پہیے میں آجائے اور آپ بیگم سمیت خاک چاٹ رہے ہوں۔ اسی طرح دن میں بائیک کی جلتی ہیڈ لائٹ کو دیکھ کر چھوٹے چھوٹے لونڈے “انکل بتی جل ری ہے” کہہ کہہ کر آپ کو بیزار کردیں گے۔ ہمارے لوگ کھلے گٹروں پر لمبے ڈنڈے لگادیں گے تاکہ بائیک والے بھائی محفوظ رہیں، سڑک پر آئل گرا ہو تو فوری طور پر اس پر ریت ڈال دیں گے، سلام ہے سلام۔

کرکٹ  واحد ایسی چیز ہے جو پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پشتونوں، مہاجروں، سرائکیوں، گلگتیوں، ہزارہ وال، بروہیوں، کوہستانیوں، ہنزائیوں اور بلتیوں کو صمد بونڈ کی طرح جوڑے رکھتی ہے۔ ہر جیتنے والے میچ کے ساتھ شاہد آفریدی کی مدح سرائی اور مصباح کی ٹک ٹک پر سوشل میڈیا پر جگتوں کا سیلاب آیا ہوتا ہے، جبکہ دوسرے ہی دن ہارنے والے میچ پر شاہد آفریدی کی ٹامی والی اور مصباح کی واہ واہ ہورہی ہوتی ہے۔ اور تو اور نانی دادی امائیں بھی بیٹا بس انڈیا کو ہرادو، باقی کسی سے جیتو یا ہارو، ہمیں تم سے پیار ہے کہتی نہیں تھکتیں۔ اب آپ یہ نہ کہیں کہ ہم بہت ذیادہ جنرالائز کر رہے ہیں یا سب کو ایک لاٹھی سے ہانک رہے ہیں۔ لوگ انفرادی طور پر الگ الگ طبعیتوں کے مالک ہوتے ہیں، اور ساری انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، وغیرہ وغیرہ، تو چلئے ایک چھوٹا سا تجربہ کریں، کسی پاکستانی شادی کی تقریب چلتے ہیں، بھانت بھانت کے لوگ شیروانیوں، کاٹن، ولائتی سوٹ بوٹ ٹائی میں نظر آئیں گے۔ خوش شکل جوان، بوڑھے، بچے، مہذب دانشور، پر رعب مولانا، امیر کاروباری،، مگر روٹی کھلتے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ گئے نا آپ ،،، ہاہاہاہاہاہا،، تیری محفل میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے کا سماں نظر آتا ہے۔ اگر آپ پاکستانی قوم کے بارے میں انٹرنیٹ پر مزید ریسرچ کا ارادہ رکھتے ہیں تو مندرجہ ذیل الفاظ سے تلاش کریں؛ افراتفری۔ نفسا نفسی۔ کھینچا تانی۔ ہڑا ہڑی۔ چکن کڑاھی۔ چکن بریانی۔ مارا ماری۔ آپا دھاپی۔ زورا زوری۔ گہما گہمی ۔ پکڑ دھکڑ۔ لپا ڈگی۔ ہبڑتبڑ۔ گتھم گتھا۔ پکڑا دھکڑی۔ کھچا کھچ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *