• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔اعظم پیلس میں ڈاکٹر ہدا سے ملنا/سلمیٰ اعوان/قسط8

سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔اعظم پیلس میں ڈاکٹر ہدا سے ملنا/سلمیٰ اعوان/قسط8

شام ثقافتی طور پر کتنا مالدار ہے اس کا اندازہ اس کی سیاحت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔ ہاں پر اب جب میں لکھ رہی ہوں تو ایک طرف اگر اُن یادوں اور منظروں کی یلغار ہے۔ تو دوسری جانب ساتھ ساتھ آنکھیں بھی بھیگ رہی ہیں کہ جانے اِس جنگ نے کیا حشر کیا۔اس کا وہ حُسن اور قدامت کی فسوں خیزی کتنی متاثر ہوئی۔
دیکھو تو ذرا میں بھی کِس بھولپن کی اداکاری کررہی ہوں۔جانتی نہیں کہ یہ کیا،کتنا اور کتنی جیسے مبہم سے علامتی سوالات اٹھائے گو یا خود کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش میں ہوں۔کہیں شک و شبہ کا سہارا لینے کے درپے ہوں۔ ڈاکٹر ہدا، عبد اللہ ال جازر، مونا عمیدی اور احمد فاضل کی ای میلوں نے کوئی بات تو ڈھکی چھپی رہنے نہیں دی۔چلو ٹی وی اور اخباروں کو گولی مارو کہ وہ تو ہر بات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔
تو اُس دوپہرکو جو اگرچہ تپتی تو تھی پر ایسی نہ تھی جس میں پشت پر غریبوں کی موتیوں کی لڑیاں بہتی ہوں۔ بلندو بالا گھروں کی دیواروں نے تنگ گلیوں گلیاروں کو فرحت بخش بنا دیا تھا۔ ہواؤں کے سڑاتے مارتے بلّے یہاں پل بھر کے لئے روکتے اور تازہ دم کرتے۔ دریچوں اور بالکونیوں میں گھراسر پر تنا نیلا روشن آسمان سب خوبصورت نظر آتاتھا۔

پرانے دمشق کی اشرافیہ کے گھر تھے کہ تعمیری شاہکار تھے۔بیسویں صدی میں فرانسیسی تسلط سے آزاد ہونے کے بعد لوگوں کے سامنے نئے انداز اور رحجانات تھے۔ توکچھ میوزیم بن گئے۔کچھ ریسٹورنٹوں میں ڈھل گئے۔ اوراعظم پیلس بھی پرانے دمشق کا ایک ایسا ہی موتی تھاکہ جس کے بغیر ذکر دمشق مکمل نہیں ہوتا۔
آج کا سارا دن میں نے اِن محلوں، گھروں اور سراؤں میں گزارنا تھا۔ پہلی بسم اللہ اعظم پیلس سے ہی کرنی تھی۔
اُمیہ مسجد سے جنوب کی سمت چلتی جارہی ہوں۔ اور سوق بززوریہ Al-Bzouriyeh کے کونے پر یہ سیپی میں بند موتی اپنی ظاہری صورت سے ذرا نہیں لگتا کہ جب یہ بند سیپی منہ کھولے گی تو جو شاہکار دیکھنے میں آئے گا اس کی چمک دمک کس درجہ مسحور کرے گی۔
داخلی دروازے سے اندر قدم دھرتے ہی قدامت کا رنگ اور حُسن شرو ع ہوتا اور آنکھوں میں کھُبتا چلا جاتا ہے۔ٹکٹ گھر سے ٹکٹ لینے کے بعد جونہی بلند وبالا چھت والی خوشنما ڈیوڑھی سے آنگن میں داخل ہوئی تو ایک پرمُسرت سی دنیا اپنے خوبصورت تعمیری رنگوں، کشادہ آنگنوں، موتی اُچھالتے فوارے، درختوں اور سبزے کے رنگ کے خوبصورت امتزاج سے آپ پر حیرت و مسرت کی دنیا کا دروازہ کھولتی ہے۔ آپ جو جولائی کی گرم دوپہرمیں، تیز چمکتے سورج کی کرنوں میں نہاتے، اندر آتے اور اس سے بغل گیر ہوتے ہیں تو طمانیت اور سرشاری کی لہر یں سی اندر تک دوڑتی چلی جاتی ہیں۔

Damascus in Syria

دمشق کے حیرت انگیز گھروں میں سے ایک دلکش نمونے کے ساتھ میرے سامنے تھا۔
تعمیر1749ء میں دمشق کے ہر دل عزیز گورنر اسد پاشاAsadالاعظم کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ مجھے اپنے ملک کا جنر ل اعظم یاد آیا تھا۔ مشرقی پاکستانیوں کے دلوں میں بسنے والاایسی ہی خوبیوں کا حامل یہ اسد پاشا الاعظم تھا۔اس کا زمانہ دمشق کی خوشحالی کا بہترین زمانہ تھا۔
گورنر کا خاندان اِس میں 1920ء تک رہا۔ جب فرانسیسیوں کو شام مال غنیمت کے طور پر ملا تو انہوں نے اِسے اورینٹئل سٹڈیز کا ادارہ بنا دیا۔ ملک کی آزادی کے بعد پہلے یہ آرکیا لوجی سکول اور بعد ازاں فوک لور میوزیم بن گیا۔
وقت یہی کوئی ساڑھے گیارہ بارہ کا ہو گا۔ کمروں کے اندر جانے سے قبل میں صحن میں تالاب کے قریب دھرے بینچ پر بیٹھ گئی۔ مقصد ذرا سا سستانا تھا۔
اسی بینچ پر ایک گندمی رنگت اور موٹی آنکھوں والی خاتون بیٹھی تھی۔تعارف ہوا تو جانی۔یہ ڈاکٹر ہدا تھیں۔ تعلق حلب سے تھا۔میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ حلب کی ہیومن رائٹس کی ڈائریکٹر بھی تھیں۔ کسی طبّی میٹنگ میں شرکت کے لئے وی آنا جا رہی تھی۔ درمیان میں وقت تھاتو پیلس دیکھنے آگئیں۔
میں بھی اُن کے قریب بیٹھ گئی۔سچی بات ہے بیرونی حسن کاری جس سرعت سے آنکھوں کو متاثر کرتی ہے ضرورت تھی کہ پہلے سکون سے بیٹھ کر اُس سے محظوظ ہوا جائے۔
دفعتاً اعظم پیلس کی خاموش سی فضائیں درود کی آوازوں سے گونجنے لگیں۔ گھبرا کر ڈاکٹر ہداء کی طرف دیکھا تو پتہ چلا کہ مسجدوں میں گھنٹہ پہلے ہی یہ سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ بالکل ہماری مسجدوں والا سین تھا۔
ڈاکٹر ہدا سے حکومت بارے کچھ جاننا چاہا تو انہو ں نے بڑے دھیمے سے لہجے میں کہا۔
”شام تو اِس اسد فیملی کی گویا ذاتی جاگیر بنا ہوا ہے۔ تیس سال تو باپ اقتدار کے ساتھ چمٹا رہا۔ اپنی زندگی میں ہی بڑے بیٹے باسل الاسد کو تیار کرنے لگاتھا۔ وہی بادشاہت والے انداز۔ وہ تو تیس (30) سال کی عمر میں کار ایکسیڈنٹ میں مرگیا تو اس چھوٹے بشار الاسد کو بلا لیا۔ بھائی رفعت کمانڈر جنرل ہے۔ سارے رشتہ دار ملک پر قابض ہیں۔
یہی کچھ مصر میں حسنی مبار ک کر رہا ہے۔“
”اور کچھ ایسے ہی منظر نامے میرے ملک کی پیشانی پر لکھے ہوئے ہیں۔ باپ کے بعد بیٹا یا بیٹی، بھائی، بہن۔ ملک نہیں جاگیر یں ہیں۔“
میں نے دکھ میں لپٹی ہنسی ہنستے ہوئے پاکستان نامہ انہیں سُنا دیا۔
دراصل شامی لوگ چیزوں کو بہت مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ حافظ تو بڑا رعب دعب والا تھا۔ اِس بشار کے گُن آہستہ آہستہ کھل رہے ہیں۔ ہاں بیوی اسماء ال عکراس Akhrasبہت تیز اور ڈرامیٹک قسم کی اپروچ کی حامل ہے۔
2000 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اس نے دمشق بہار کا نعرہ لگاتے ہوئے درجنوں سٹڈی سرکلز اور بحث مباحثوں کے مراکز قائم کئے۔ سچی بات ہے 2001 میں دانشوروں اور وکلاء کے گروپوں نے آئین میں اصلاحات کے لئے زور دار مہمیں چلائیں۔ جن میں سر فہرست ایمرجنسی قوانین کا ہٹانا اور مکمل شخصی آزادیوں کا حصول تھا۔
مگر یہ آوازیں یہ کوششیں سب صد بہ صحرا ثابت ہوئیں۔ پکڑ دھکڑ، مار پیٹ، مقدمے،بندی خانوں میں ٹھونسا ٹھنسائی شروع ہوگئیں۔
خاصی دیر تک ہمارے درمیان سیاست، عرب اور تیسری دنیا کے مسائل پر باتیں ہوتی رہیں۔ ڈاکٹر ہدا بہت سلجھی ہوئی صاحب نظر خاتون تھیں۔ حالات او ر مسائل کا گہرا ادراک رکھتی تھیں۔
اُن کی رہنمائی بہت مفید ثابت ہوئی۔ ڈاکٹر ہدا سے ہی پتہ چلا تھا کہ اعظم پیلس دراصل رنگین پتھروں سے بنائے جانے والے Ablaq سٹائل کا نمونہ ہے۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ سلامیک The Salamiek (مردانہ حصہ)۔ حرملیکHaramiek(زنانہ) اور خادمیک The Khadamiek یعنی شاگرد پیشہ۔وہی ترکوں کے مخصوص سٹائل کا ایک انداز۔
تو سب سے پہلے مردانہ حصہ دیکھا۔ سلامیک کا کچھ حصہ تو انتظامی کمروں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے مستطیل برآمدے اور اس کے دیوان اپنی کہانیاں سناتے ہیں۔ ہر کمرہ دو حصوں میں منقسم ہوتاہے۔ آدھا حصہ چبوترہ نما جن پر بچھے قیمتی خوش نما رنگوں والے قالینوں پر کہیں صوفے اور کہیں فرشی نشست کا اہتمام تھا۔محرابی صورتوں والے چوبی کندہ کاری ڈیزائن سے گندھے اور رنگ آمیزی سے لُتھڑے دروازے اُن کے اوپر ذرا فاصلے پر بنے دروازوں کے سے رنگ ڈھنگ لیے روشن دان۔الماریوں میں سجے نوادرات اور قالینوں پر بیٹھے اور اِدھر اُدھر کھڑے نسوانی اور مردانہ مجسمے بلاد شام کے مختلف حصّوں کے نمائندہ تھے۔

برآمدوں کے عقب میں چھوٹی محرابی کھڑکیوں والے کمرے، کسی میں آلات موسیقی سجے ہوئے، کسی میں شیشہ پینے کا اہتمام تھا۔ اعظم پیلس کا ہر کمرہ مجسموں کے ساتھ شام کے امراء کی زندگی کا عکاس تھا۔ یہیں میں نے پرنس فیصل اور اس کے بیٹے غازی کی تصویریں دیکھیں۔ شریف مکہ کا بیٹا جس کے باپ نے فلسطین بیچ دیا تھا۔
حرم والے حصے کا اپنا حُسن تھا۔ مرکزی جگہ سے پہلے بائیں ہاتھ اور پھر دائیں طرف مڑنے سے سامنے سے کشادہ آنگن اپنے درختوں، بیلوں، پھول بوٹوں اور اپنے فواروں سے سامنے آتا ہے۔ دمشق کی گرمی سے پیدا تھوڑی سی گھبراہٹ اس کے بلند وبالا درختوں کی خوبصورت چھاؤں، اس کی پھولوں کی کیاریوں اور چھوٹے چھوٹے پودوں،اسکی وسعتوں اور دو منزلہ عمارت کی قدامت اور حسن سے تسکین سی پاتی ہے۔
چونکہ استنبول کے محل میناروں سے بہت اچھی شناسائی تھی۔ اس لئے کچھ بھی زیادہ حیران کن نہ تھا۔ تاہم یہاں میں اُس فضا میں سانس لے سکتی تھی۔ اُس ماحول کو دیکھ سکتی تھی اورمحسوس کر سکتی تھی جو اٹھارویں صدی کے دمشق کے گھروں کی زینت تھا۔ اُس خوشبو کو سونگھ سکتی تھی جو کبھی اِن ہواؤں اور فضاؤں میں بکھری رہتی تھی۔

زندگی کے کتنے رنگ اِن کمروں میں گھُلے ہوئے تھے۔ نئی نویلی دلہن کا کمر ہ اس میں سجا فرنیچر۔ بہت سے کمرے روایتی فنکاروں کی ہنرمندی سے سجے اُن کے فن کو خود ہی خراج تحسین پیش کرتے تھے۔ یہاں وہ ہال بھی تھا جو محمل الحج کے نام سے ہے۔ یہ حج کے لئے جانے والے زائرین کے لئے تھا کہ گورنر خود انہیں رخصت کرنے آتا تھا۔
خاصی تھکاوٹ محسوس ہونے لگی تھی یا کہہ لیجئیے کہ گڈی (ٹرین) دیکھ کر پاؤں بھاری ہونے لگے تھے کہ سامنے کافی کا سٹال تھا۔ ہم نے سکون سے بیٹھ کر کافی پی اور باتیں کیں۔
یہ ڈاکٹر ہدا کی ہی تجویز تھی کہ کسی قریبی خان یار یسٹورنٹ میں چل کر کھانا کھائیں۔ میں نے آمناً وصدقناً کہا۔ میر ے لئے اِس سے بڑی کشش کیا ہو سکتی تھی۔
اعظم پیلس سے لے کر مدحت پاشا سٹریٹ اور سوق حمیدیہ کے درمیان کا حصہ بازاروں اور سراؤں کی خوبصورت دنیا ہے۔
میں تو کسی مسمریزم کئے شخص کی طرح کنگ سی تھی۔اِن گلیوں میں کیا حُسن بکھرا ہوا تھا۔ بیلوں کا ستم ہی مان نہ تھا۔آمنے سامنے سے جیسے جوانی کے کسی مخمور خواب کی مانند اوپر اٹھتی اور پھیلتی چلی گئی تھیں یوں کہ آسمان جیسے مہان کا راستہ روک بیٹھی تھیں۔ایسا گھیردار پھیلاؤ کہ آفتابی کرنوں کو بھی اندر جھانکتے ہوئے ڈر سا لگتا تھا۔
کبھی یہ امیر شامیوں کے گھرتھے۔تب اِن کے دروازے بند تھے آج یہ کھل گئے ہیں مگر بھاری جیبوں والوں کے لئے۔ہر گلی کچھ منفرد اور کچھ مشترکہ ورثے کو سنبھالے تمکنت سے کھڑی تھی۔ چوڑی محرابی دیواروں کے آگے محرابی صورت دروازے کندہ کاری سے گندھے، کشادہ آنگن میزوں کرسیوں سے سجے، درمیانی حصے میں فوارے کی آبشاروں میں مسکراتے، درختوں کی بیلوں میں گھرے پڑے کِس درجہ رومانوی نظر آتے تھے۔
اُمیہ مسجد کے عقب میں ہم اُمیہ پیلس کے سامنے کھڑے تھے۔اندر جانے سے قبل میں نے شریں مسعود کو یاد کیا تھا۔ شام دیکھو۔کتنا صائب مشورہ تھا۔کشادہ صحن کے عین بیچ فوار ے کے دونوں پہلوؤں کی منڈیروں پر پھولو ں سے لدے پھندے چوکور گملے دھر ے تھے۔ تین اطراف بیلیں دوسری منزل کے برآمدوں تک پہنچی ہوئی تھیں۔ آئرن بار سے ڈھنپی چھت سے کہیں کہیں گرتی سورج کی کرنیں فرش پر تباشے سے بناتی تھیں۔ میزیں کرسیاں اور ان پر بیٹھے لوگ، چہل پہل، باتوں کا شور، کھانوں کی خوشبوئیں، موسیقی کی اُڑتی مدھم تانیں۔ اطراف کے کمروں میں شیشے کی دیواروں میں سے جھانکتے مناظر صحن کے سے جیسے نظاروں کے ہی عکاس تھے۔
میں ایک بار پھر انہی خوبصورت یادوں کے آنگن میں اُترتی ہوں۔ ان شہ نشینوں والے برآمدوں اور فواروں والے آنگنوں میں لوٹتی ہوں۔ ہم دونوں چار کرسیوں والی چھوٹی میز پر بیٹھ گئیں۔ماحول کے حُسن کا رعُب،موسیقی کا سحر سب کا فسوں میری آنکھوں سے چھلکتا تھا۔ میرے چہرے سے برستا تھا۔ ڈاکٹر ہدا نے میری کیفیات کو محسوس کیا اور بولیں۔
ہمارے شاعر نے دمشق کے اِن گھروں بابت کیا خوبصورت لکھاہے۔
میں نے پوچھا۔
”یہ شاعر نزار قبانی تو نہیں؟“
”ہاں نا۔ وہی تو ہے ہمارے دلی جذبات کو چھونے والا۔ آپ نے پڑھا ہے اُسے؟“
”پہلے مجھے شاعری سنائیے پھر بتاؤں گی۔“
”اندازہ تو مجھے ہو گیا تھا۔ تاہم یقین کرنا چاہتی تھی۔“
”چلیئے سنیئے۔“
دمشق کے گھرتعمیر کے کسی آسمانی صحیفے سے کم نہیں
ہمارے گھروں کے ڈیزائن
ہماری جذباتی وابستگیوں کی بنیادوں پر ہیں
ہر گھر دوسرے سے جڑا ہوا
ہر بالکونی دوسری کی طرف بڑھتی ہوئی
دمشق کے گھر پیار ومحبت کے مظہر ہیں
وہ ہر صبح ایک دوسرے کو خوش آمدید کہتے ہیں
اور راتوں کو راز داری سے ملاقاتیں کرتے ہیں
میں نے اُن کا انگریزی میں ترجمہ شدہ مجموعہ جو میرے بیگ میں ہی تھا نکال کر دکھایا۔بڑا خوش ہوئیں۔
”ارے اتنی محبت ہے آپ کو اُس سے؟“
وہ خوشی سے چہکیں۔
”ہاں نا۔“
سچی بات ہے۔ پہلے میں خدا کی شکر گزار تھی اور پھر ڈاکٹر ہداء کی کہ میرے لئے اکیلے یہاں آکر بیٹھنا بڑا ہی بونگے پن کا سا کام تھا۔ خدا نے بھرم رکھ لیا تھا۔ہم دونوں اب اپنے دائیں بائیں دیکھ رہی تھیں۔کہیں لمبی نالوں (پائپوں)والے حُقّے جنہیں مقامی طور شیشہ کہتے ہیں پیتے لوگ ہونٹوں سے دھواں خارج کرتے موسیقی پر سر دھنتے تھے۔ میری پیاسی متجسس نگاہیں اِدھر اُدھر کے لشکارے مارتے منظروں کو دیکھتی اور سراہتی تھیں۔


ڈاکٹر ہداء نے بڑی دلچسپ باتیں بتائیں۔ ایک تو اِن ریسٹورنٹوں میں وقت بہت ضائع ہوتا ہے۔ چار پانچ گھنٹے کا ضیاع تو کوئی بات ہی نہیں۔ پہلے تو مزہ (maza) یعنی Appetizers کی دس قسمیں آئیں گی۔ شوقین تو ساتھ میں وائین یا بیئر سے بھی شغل فرماتے ہیں۔ ڈیڑھ دو گھنٹے گپ شپ ہوتی ہے۔ کھانا آتا ہے تو ڈیڑھ دو گھنٹے اس سے شغل ہوتا ہے۔ بعد میں قہوہ یا چائے کا دور اور اس کے بعد حقہ۔
بیرے کا دیا ہوا مینو کار ڈ انہوں نے میر ی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
”لو بتاؤ کیا کھانا ناپسند کرو گی؟“
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔”آج تو آپ کی پسند چلے گی کہ میں تو شہر اور اس کے کھانوں سے اجنبی ہوں۔ تاہم کھانا سنگل ڈش ہو تو بہت اچھا ہوگا۔“
بیرے کو پتہ نہیں کیا کیا سمجھانے لگ گئیں۔ بولتی چلی جا رہی تھیں۔ گفتگو ساری عربی میں تھی۔ جب وہ منظر سے ہٹا میں نے پوچھا۔
”اتنی لمبی چوڑی ہدایات؟“
”دراصل میں نے گرلڈ کبابوں کا آرڈر کیا تھا۔ یہ لوگ بعض اوقات امپورٹ گوشت کے قیمے سے بنے کباب لے آتے ہیں جو اتنے مزیدا رنہیں ہوتے۔ میں نے تازہ مٹن کا کہا تھا۔جو مقامی دکانوں سے دستیاب ہوتا ہے۔دوسرے میں نے فطوش سلا د کا کہا ہے۔ مجھے بہت پسند ہے۔ یقیناً آپ کو بھی اچھا لگے گا۔“
کبابوں کی پلیٹ کیسی سجی ہوئی تھی۔ آٹھ کباب قدرے گول قدرے لمبوتری صورت لئے سلاد کے پتوں اور عین درمیان میں ٹماٹر کے پھول سے سجے سامنے آئے۔ سلاد کی پلیٹ کالے اور سفید زیتون کے پھل، ٹماٹر، پیاز، کا ہو، پودینہ کے پتوں اور لیموں کے ٹکڑوں سے سجی تھی۔ ساتھ لسی تھی۔کھانے نے بڑا مزا دیا۔ قہوے نے لطف دوبالا کر دیا۔ بل تقریباً ساڑھے چار سو سیرئن پاؤنڈ تھا۔ میرے اصرار پر بھی ڈاکٹر ہداء نے بل خود ادا کیا۔اُٹھتے ہوئے وہ پڑھ رہی تھیں۔
لندن بکنگھم اعظم پیلس سے زیادہ شاندار نہیں
اور وینس میں سان مارکو San Marco کے کبوتر
بنوامیہ کی مسجد کی فاختاؤں سے زیادہ مقدس نہیں
اور لیس انویلڈز Les invalids میں نپولین کا مقبرہ
صلاح الدین ایوبی کے مقبرے سے زیادہ پر شکوہ نہیں
جاری ہے۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *