• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عالمی دہشت گردی کے اسباب۔۔۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

عالمی دہشت گردی کے اسباب۔۔۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

دہشت گردی کے اسباب کو مجرمانہ سرگرمیوں کی اقسام کے تناظر میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔۔عام طور پر، وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ سماجی نا انصافی، قومی اور مذہبی پیچیدگیوں کا جمود ۔ لیکن یہاں ہر ناانصافی یا پیچیدگی الجھن کا باعث نہیں بنتی، صرف وہی جو کسی سماجی، قومی یا مذہبی گروہ کے لئے وجودی اہمیت رکھتی ہیں،جو مذکورہ گروہ کی روحانیت ، بنیادی اقدار، روایات، رواج ،خود اعتمادی اور خود قبولیت کے ساتھ منسلک ہوں، بعض اوقات اس طرح کے گروہ نرگسیت کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں، یعنی کہ اپنی فکری ، قومی یا تہذیبی برتری کا کامل یقین، اور تمام دوسرے گروہوں کو کمتر تصور کرتے ہوئے ان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی خواہش پالنا، یہ رویہ عملی طور پر انتہائی ناپسندیدہ ہے کیونکہ اس سے دوسرے گروہوں کے حقوق کے استحصال کا اندیشہ رہتا ہے اور ان کے مالی و جانی نقصانات کے خطرات سر اٹھاتے ہیں۔یہاں ہم معاشرے کے تنوع پر تنقید نہیں کر رہے، تنوع تو کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی و استحکام کا نام ہے، ہم غیر حل شدہ مسائل کے بارے میں بات کررہے ہیں، فکری و تہذیبی غیر حل شدہ مسائل کا جمود ایک سماجی کھچاؤ کا باعث بنتا ہے، جہاں سے ایک باہمی منفی تناؤ اور نفرت کا آغاز ہوتا ہے۔
مگر اس تناؤ اور کھچاؤ کی بنیادی وجہ متضاد فکری یا تہذیبی تشخص نہیں، بلکہ سماجی اور معاشی نا انصافیاں ہیں، جو بعد میں سیاسی، مذہبی، نظریاتی، قومی یا نفسیاتی رنگ میں کچھ ایسے رنگی جاتی ہیں کہ اس رنگارنگی میں حقیقی رنگ کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے، یہی رنگینی مختلف گروہ کی منفی سرگرمیوں کیلئے نفع و اعتماد بخش واقع ہوئی ہے۔لہذا آج دہشت گردی بین الاقوامی پیمانے پر نہ صرف مذاہب، قوموں اور تہذیبوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے ہے، بلکہ بعض اوقات بالقوہ امیر ممالک میں غربت سے پستے افراد میں جذبۂ بغاوت کی وجہ سے بھی ہے، غور طلب نکتہ یہ ہے کہ حقیقی وجہ، غربت یا زندگی کی آسائیشوں اور سہولتوں کا فقدان نہیں، بلکہ سماجی ناانصافی کا احساس ہے، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ احساس ہمیشہ حق ہو، باطل بھی ہو سکتا ہے۔

2۔ دوسری بڑی وجہ جنگ اور فوجی تنازعہ جات ہیں، عموماً مختلف ریاستوں کے باہمی تنازعہ میں کمزور ریاست کی طرف سے کچھ گروہ، جو اپنے ملک کی حکومتی و عسکری طاقت کے ناکافی ہونے کا خدشہ پالتے ہیں، خود کو بطور دستۂ اول پیش کرتے ہوئے اس جنگ کا حصہ بنتے ہیں، کہ ان لوگوں میں طاقتور ملک کے کمزور قوم پر قبضہ جمانے کا ایک نفسیاتی خوف رہتا ہے اور یہ خوف بالکل بجا ہے، مگر ریاست کی کمزوری کی وجہ سے، جنگ کے اختتام پر ایسے گروہوں پر قابو پانا ممکن نہیں رہتا، بلکہ کسی بھونڈی کوشش کے نتیجے میں ایسے گروہ اپنی ہی ریاستی قوت کے خلاف کھڑے نظر آئیں گے۔

3۔ مادی طور پر مضبوط و ترقی یافتہ ممالک و معاشروں کے اردگرد واقع کمزور اور غریب ریاستیں ہمیشہ رشک اور حسد کی نگاہ سے ان ممالک کی ترقی و مادّی برتری کو دیکھتے آئے ہیں، ان ترقی یافتہ ممالک کی مضبوط عسکری و سیاسی قوت کے آگے چونکہ غریب ممالک مقابلہ کی حیثیت نہیں رکھتے، اس لیے چوری چھپے عوام الناس پر وار کرنا ایک عام سی بات ہے، جو کہ اکثر کسی تقریب، کھیلوں کے مقابلوں وغیرہ میں دیکھنے میں آتے ہیں، مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے، دوسرا رخ یہ کہ ترقی یافتہ ممالک، جو اپنی خوشحالی و ثقافت میں بلاشبہ کہیں بلند ہوتے ہیں، مگر اپنی طاقت کے نشے اور اقتدار کی طوالت کیلئے غریب ممالک کو دھونس دھمکی اور ان کے وسائل پر قابض ہونے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتے ہیں، جواباً ان غریب ممالک کی طرف سے ریاستی و غیر ریاستی سطح پر کچھ کاروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔

4۔ سماج میں بعض اوقات کچھ خفیہ یا نیم خفیہ تنظیمیں پنپ پاتی ہیں، خاص طور پر مذہبی اور فرقہ وارانہ، جو خالصتاً غیر مادّی اور مافوق الفطرت تعلیمات کا پرچار کرتی دکھائی دیتی ہیں، ان کی تعلیمات کا بنیادی نکتہ انسان کہ دنیاوی زندگی کو سراسر غیر اہم قرار دیتے ہوئے انفرادی و اجتماعی نظامِ زندگی کی نفی کرنا ہے، ایسی تنظیمیں ہمہ قسمی سماجی ناانصافی و معاشی غیر منصفانہ تقسیم، ظلم و ستم، قتل و غارت وغیرہ جیسے معاملات کو انسان کی دنیاوی زندگی کو غیر معمولی اہمیت دینے سے جوڑتی ہیں، چونکہ ریاستی طاقتیں، سول سوسائٹی اور سماجی سمت کا تعین کرنے والے اذہان ایسی تنظیموں کی تعلیمات کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں تو ان تنظیموں کے پاس اسلحہ اٹھانے اور زبردستی اپنی فکر مسلّط کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔ (قومیت کی بنیاد پر بھی ایسی تنظیمیں پائی جاتی ہیں، جہاں عموماً نرگسیت کا عنصر غالب رہتا ہے)۔

پیش نظر وجوہات کے ساتھ ساتھ، دہشت گردی کو پنپنے میں کچھ خاص ماحول و شرائط درکار ہیں، جن کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جن میں سے چیدہ چیدہ درج ذیل ہیں:

1۔ حکومت اور اداروں کی کمزوری۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر فوری طور پر دہشتگردوں کی شناخت ، ان کے خلاف ضروری کاروائی کرنے، اور انہیں سزا دلوانے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ ناکامی دہشت گردوں کو نہ صرف مزید کاروائیوں کا موقع دیتی ہے، بلکہ مجرمانہ ذہن رکھنے والے افراد کو ایسی تنظیموں میں شامل ہونے ، اور انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے امکانات کو بڑھاتی ہے ۔اگرچہ اداروں کی مضبوطی دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے یقینا ضروری ہے، لیکن یہ واحد عنصر نہیں، ایسا ہوتا تو امریکہ یا یورپ کے ممالک میں جہاں قانون و عدالتیں اپنا کام پوری تن دہی سے انجام دے رہی ہیں، دہشت گردی کے واقعات رونما نہ ہو پاتے، مگر ہم جانتے ہیں کہ اس لعنت سے یہ ممالک بھی محفوظ نہیں۔

2۔ دہشت گرد یا انتہا پسند تنظیموں کو عوام الناس کی طرف سے حمایت اگر حاصل ہے تو ایسی دہشت گردی سے جان چھڑانا مشکل تر ہے، جب معاشرے میں دہشتگرد تنظیموں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے افراد موجود ہوں تو اس سے مذکورہ تنظیموں کو ایک سماجی اور نفسیاتی مدد حاصل رہتی ہے، اس سے پیغام رسانی، تنظیم کے پھیلاؤ، اپنی فکری تبلیغ، اسلحہ، خوراک ، ادویات و دیگر امداد بروقت موصول ہوتی رہتی ہے، یہی نہیں، دہشت گرد انہی حمایتیوں کو بوقتِ ضرورت بطور ڈھال استعمال کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں، مذہبی و قومی دہشت گردی کا بڑا انحصار اسی سماجی حمایت پر ہے، بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں عوام الناس کہ بجائے سیدھا سیدھا ریاست سے منظوری و لین دین کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

3۔ عوام کے ایسے گروہ جو جنگی صلاحیت رکھتے ہوں، جیسے فوجی، پولیس والے، جسمانی کھیل کود کے شوقین افراد، یا قبائلی جو بندوق چلانے کے فن سے واقف ہوں، ایسے افراد پینشن و جسمانی معذوری کی صورت میں یا قبائلانہ طرزِ زندگی چھِن جانے پر اپنی شخصی اہمیت کو کھو دیتے ہیں، اور خود کو معاشرتی طور پر بے سود محسوس کرتے ہیں، ان میں ایک احساسِ کمتری جنم لے سکتا ہے کہ ہمیں استعمال کرنے کے بعد پھینک دیا گیا، ایسے افراد احتجاجاً ہر اس تنظیم کا حصہ بننے کی طرف مائل ہوتے ہیں جو انسانیت کو “بچانے “کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر محسوس کرتے ہیں، ایسے پیشہ ور افراد بڑی تعداد میں دہشتگرد تنظیموں کیلئے اثاثہ ثابت ہوتے آئے ہیں، پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کو ایک بڑی تعداد میں ایسے افراد کا سامنا تھا، جنہیں بعد میں نازی فکر نے پوری طرح اپنے حق میں استعمال کیا۔

دہشتگردی کے اسباب اور اس کی پرورش کیلئے سازگار حالات پر مختصر رائے پیش کرنے کے بعد درج ذیل اجزاء پر غور کرنے کی درخواست ہے۔
دہشت گردی سے متآثرہ علاقے معاشی ،اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی نقصان کا سامنا کرتے آئے ہیں، ان تلخ تجربات کی مرکزی زد میں وہ سماجی ڈھانچہ ہے جو کسی بھی معاشرے کی بقاء کیلئے ناگزیر ہے، بعض علاقوں میں، کئی دہائیوں سے اپنی مذہبی اساس کی بقاء کیلئے ایک جہدوجہد جاری ہے (شمالی آئرلینڈ، فلسطین، چیچنیا وغیرہ) جبکہ دوسرے علاقوں میں، ” معاشی انصاف” کے لئے غریب اور امیر کے درمیان جدوجہد، بطور وجۂ حقیقی سامنے آتی ہے، یہ جدوجہد اکثر مجرمانہ نوعیت اختیار کر جاتی ہے، جہاں زیادہ تر اشرافیہ کے نمائندے انتقاماً دہشت گردی کا ہدف بن جاتے ہیں۔

ان تمام حالات میں، متاثرہ علاقوں میں دہشت گردی کی وجوہات کے تعاقب میں اس معاشرے کی تاریخی جڑوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے ، اس کیلئے مخصوص سماجی ڈھانچے کا مطالعہ کرتے ہوئے ان واقعات و حالات کا جائزہ ضروری ہے جو دہشت گردی کے پیدا ہونے سے پہلے وقوع پزیر ہوئے۔ افراد اپنے نسلی، قومی و مذہبی تشخص میں انتہائی حساس واقع ہوئے ہیں، انسان اپنی اس شناخت کو اپنے لئے اہم تر محسوس کرتا ہے، اگر معاشی طور پر فرد کو پچھلے قدموں پر دھکیلا گیا، یا فرد اپنی کاہلی کی بدولت معاشی دوڑ میں شامل نہ ہو سکا تو شناخت کا عنصر اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے، کیونکہ یہی شناخت کا عنصر ہے جو انسان کی خود اعتمادی، خود قبولیت اور شخصی آزادی کا جزوِ اکبر ہے۔

سیاسی قوتوں کی اکثریت فرد کی شناخت بارے بے حس واقع ہوئی ہیں، جدید سیاسی نظام، جمہوریت، نے تہذیب کی شکل میں انسان کیلئے آسائیشوں و سہولتوں پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے، اور ایسا کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے، جس کی بدولت چھوٹی یا مفتوح اقوام نے قومی، نسلی یا مذہبی احساسات و شناخت پر شدید زد محسوس کی، نتیجتاً ایک مسلح جدوجہد سامنے آئی، آگے تاریخ ہے۔
یورپ، مشرق وسطی، لاطینی امریکہ ، روس، افغانستان،شمالی آئر لینڈ، اور دیگر مشرقی روایتی معاشروں میں پیش آ ئے واقعات نے واضح طور بتا دیا ہے کہ انہیں ان کی خواہش کے خلاف، زبردستی ،جدید مغربی تہذیب میں شامل کیا جا رہا ہے، اس بات ،کہ ترقی کیلئے اس تہذیب کا اپنانا ناگزیر ہے، کو خود بعض مغربی ممالک کی مخالفت نے شک میں ڈال دیا ہے، کوئی بھی معاشرہ حق رکھتا ہے کہ اپنی تہذیبی انفرادیت کو برقرار رکھے، اپنے اقدار کا تحفظ کرے، اگرچہ اس مقصد کیلئے دہشت گردی کا راستہ ایک بدترین انتخاب ہے اور غیر مشروط مذمت کے لائق ہے، لیکن اگر کوئی قوم اپنی تہذیب کی حفاظت کی خواہشمند ہے تو بڑی طاقتوں و تہذیبوں کی طرف سے اس کوشش کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کی جاتی؟ یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یک جہتی و یک رنگی کو دعوت دینا اجتماعی خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بڑھتی دہشت گردی میں کچھ عوامل اور بھی ہیں، جو کم اہم نہیں، اس وقت دنیا میں کام کرنے والے افراد کی تعداد بیس فیصد سے زیادہ نہیں، دوسرے الفاظ میں اسّی فیصد افراد غیر مصروف ہیں، اور منفی سرگرمیوں میں ملوّث افراد کی اکثریت اسی غیر مصروف گروہ سے تعلق رکھتی ہے، ان افراد کیلئے روزگار کے مواقع نہ صرف مثبت سرگرمی میں اہم کردار ادا کریں گے، بلکہ معاشی استحکام کا ذریعہ بھی ثابت ہوں گے۔

ترقی پذیر ممالک کی حاکمیت میں روز بروز کمی آتی دکھائی دیتی ہے، گلوبلائزیشن کے عمل نے طاقتور ممالک کو اپنے سیاسی و عسکری اثر و رسوخ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے ترقی پزیر و غیر ترقی یافتہ ممالک اپنے اوپر سیاسی ، عسکری و تہذیبی یلغار کو ایک بوجھ سے تعبیر کرتے ہیں، اور اس کے خلاف کوئی تدبیر نہ پاتے ہوئے خود کو شدّت پسندی کی طرف راغب پاتے ہیں۔
– عالمی خرید و فروخت میں مخصوص کرنسی کی اجارہ داری نے غریب ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچایا، اور یہ سلسلہ جاری ہے، بے شمار ممالک کی بگڑتی معیشت ، بلکہ معاشی بحران نے اس ملک کے شہریوں کے صحت مند رویوں کو متا ثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جدید اور وسیع پیمانے پر پھیلتی دہشت گردی کے پیچھے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ دنیا میں موجود بڑی قوتیں قومی سطح پر اپنی عوام کی نفسیات میں “آپ ہی خاص ہو” کی پیوند کاری کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس کا واحد مقصد دوسرے ًعام یا غیر خاص ً اقوام پر چڑھ دوڑنے کی تائید وجواز حاصل کیا جانا ہے، دورِ حاضر میں یہ دہشت گردی کی خطرناک ترین قسم ہے، اور امریکہ اس کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ جبکہ دوسری طرف “ہم ہی حق ہیں اور باقی سب باطل” کی نفسیات مذہبی شدت پسندوں میں دیکھنے میں آتی ہے۔ اگرچہ یہ نکتہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ انتہاپسندی کا عملی نکتۂ آغاز سیاسی قوتوں کی مخالفت سے وجود میں آتا ہے۔

ضروری ہے کہ انتہاپسندی میں ملوّث افراد کی نفسیات پر غور کیا جائے، ایسے افراد کی بھاری اکثریت ایک خاص نفسیاتی جھکاؤ رکھتی ہے، یہ لوگ عموماً اپنی زندگی میں ناکامی کا بیرونی سبب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، نتیجتاً ذمہ داران سے انتقام لینے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے، ایسے افراد شکی مزاج، کرخت، صبر و برداشت سے عاری، عدمِ استحکام، جلادگی،کسی خیر و شر پر یقین نہ رکھنے والے، اور زیادہ تر نرگسیت کی اس حد پہ واقع ہوتے ہیں کہ اپنی شخصیت، اپنی فکر، اپنی گروہ ، اپنی قوم یا تہذیب کو برتر تصور کرتے ہوئے باقی تمام اقوام یا لوگوں کے گروہ کو نیچ گردانتے ہوئے انہیں ماردینے پر تُلے رہتے ہیں۔

دہشت گردی پر قابو پانے کے ابتدائی اقدامات میں یقینا تعلیم و شعور کا کردار اہم ترین ہے، اور اس کی بنیادی ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے،
اس سے اگلا قدم قومی سطح پر معاشی تقسیم کا ہے، ہر شخص کیلئے اس کی بنیادی ضروریات کی ذمہ داری ریاست کو اپنے اوپر لینی ہے، ورنہ اس کے بغیر فرد کے حقوق کا استحصال ہوتا رہے گا اور شدت پسندی و انتقامی جذبہ جنم لیتا رہے گا، ضروری ہے کہ معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم کو لازم بنایا جائے، اور ساتھ میں یکساں نظامِ تعلیم اور قانون کی بالادستی ہر حال میں لازم بنائی جائے۔
بین الاقوامی سطح پر اگرچہ امید کی کرن قدرے مدھم ہے کہ خود رکھوالے ہی لٹیرے کا کام سر انجام دیتے دکھائی دیتے ہیں، جن طاقتوں نے مختلف تہذیبوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا، وہ ایک ہی تہذیب کے نفاذ کا نہ صرف نعرہ بلند کئے ہوئے ہیں بلکہ بزورِ بازو اس میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، اسی طرح جو طاقتیں عالمی سطح پر معاشی انصاف کی فراہمی پر قدرت رکھتی ہیں، وہ طاقتیں دنیا میں جدید بینکنگ کی مد میں دولت کی غیر ممصفانہ تقسیم کو آئے روز بڑھوتری دینے ہوئے سماج میں موجود شعلوں کو ہوا دیتی دکھائی دیتی ہیں، مگر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس سب ظلم و شر کے باوجود ، خیر کی قوتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، اور وہ کسی بھی قوم یا مذہب سے ہو سکتی ہیں، نیوزی لینڈ والے واقعے میں ہم یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *