میں خدا کو نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔علی اختر/ قسط 6

میں یہ نوٹ کرتا تھا کے عرب اسٹوڈنٹس کا رویہ ایرانیوں کے ساتھ تو سرد تھا ہی میرے ساتھ بھی اب وہ گرمجوشی نہ تھی ۔ پھر ایک دن ایک بریک کے دوران میرے ایک شامی کلاس فیلو “خالد” نے مجھ سے اکیلے میں دریافت کیا کے “کیا پاکستان میں شیعہ مسلمان اکثریت میں ہیں ” میں نے کہا” نہیں اکثریت سنی ہیں” ۔ پھر پوچھا ” تم شیعہ ہو ؟ ” ۔ میرا جواب پھر انکار میں تھا ۔ پھر اور کچھ سوالات تھے جیسے تمہارے ملک میں حکومت کن کے پاس ہے؟ ۔ آئین میں کوئ ایسی بات موجود ہے کے شیعہ ہی وزیراعظم بنے ؟ ۔ ایک سوال کشمیر سے بھی متعلق تھا کے وہاں اکثریتی فرقہ کونسا ہے ؟ سارے سوالات کا تسلی بخش جواب ملنے کے بربعد وہ مدعہ پر آگیا ۔۔ “اچھا اگر تم شیعہ نہیں ہو تو پھر ان ایرانیوں سے اتنی دوستی کیوں ہے تمہاری ؟ ۔

اسکے اس سوال سے مجھے احساس ہوا کے یہ فرقہ واریت صرف ہمارا ہی نہیں پوری امت مسلمہ کا معاملہ ہے اور کلاس میں مسلمانوں کے دو گروپس موجود ہیں ۔ اتفاق سے مجھے بغیر بتائے ہی دوسرے گروپ میں شامل کر لیا گیا تھا ۔ خیر اس وقت میں نے خالد کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سب اچھا نہیں ۔ ہمیں ایک امت کی طرح مل کر رہنا چاہئے وغیرہ وغیرہ ۔ جسکے جواب میں اسنے کہا کے “انہوں نے میرے بھائ کو شہید کر دیا ۔ ہمیں اپنا گھر چھوڑ کر پناہ گزین بنے پر مجبور کر دیا اور تم انکے ساتھ مل کر رہنے کی بات کر رہے ہو ۔ یہ کبھی نہیں ہو سکے گا ۔ ”

مجھے ایسے وقت اپنا دہریہ دوست صمد بہت شدت سے یاد آیا ۔ اسکا قول “مذہب کی بنیاد پر لوگ تقسیم ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک دورے کا گلا بھی کاٹنے سے نہیں چوکتے ” میرے زہن میں گھوم رہا تھا ۔ بلکہ اس قول کی عملی تصویر میرے سامنے تھی ۔ میں نے فرقوں کی بنیاد پر پاکستان میں لوگوں کو ایک دوسرے کا خون بہاتے ، اجتماعات پر خودکش حملے کرتے دیکھا تھا ۔ اب باہر کسی ملک میں یہ سب اختلافی باتیں دیکھنا میرے لیئے ایک بلکل نیا تجربہ تھا ۔

پھر ایک دن کلاس میں ٹیچر نے اپنے اپنے ممالک میں ہونے والے تہواروں کے بارے میں بتانے کو کہا ۔ عید ، وغیرہ تو سب ہی مسلمانوں کی ایک تھی ۔ میں نے 12 ربیع الاول کا بھی ذکر کر دیا ۔ ایرانیوں نے عید کے ساتھ “نوروز ” اور پھر “عاشور” کا بھی بتایا ۔ جسپر ایک یمنی اسٹوڈنٹ “نائف” کی جانب سے ” عاشور کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئ تعلق نہیں” کا جملہ اچھالا گیا ۔ یہ بات انگریزی میں کی گئ تھی تو استاد کو پتا ہی نہیں چلا کے کیس بات ہوئ ہے لیکن ایرانی اسپر سیخ پا ہو گئے۔
کلاس میں ہلکی پھلکی بحث اور پھر کلاس کے بعد باہر نکل کر تو بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئ ۔ خیر بڑی مشکل سے سمجھا بجھا کر دونوں گروپس کو گھر بھیجا گیا ۔

یہ سب معاملہ بضاہر ماڈرن ، پھٹی جینز پہنے ، جسم پر ٹیٹو بنانے والے لبرل لوگوں کی طرف سے ہوا ۔ اگر انکی جگہ ان دونو گروپس کے انتہا پسند ہوتے تو شاید خام میں ہانگ والی خانہ جنگی وہاں بھی شروع ہو جاتی ۔ میں ان لوگوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا ایک جانب وہ لوگ جو اپنے ملک کے انتہا پسندوں سے بیزار ہو کر آزادی کی تلاش میں یہاں موجود ہیں لیکن اندر سے کہیں نہ کہیں انتہا پسندی خود میں بھی رکھتے ہیں ۔ دوسری جانب وہ یمنی اور شامی جنکے اپنے ممالک اس گروہ وارانہ خانہ جنگی کی بھینٹ بڑی گئے ۔ وہ پناہ لینے پر مجبور ہیں لیکن سبق نہیں لے رہے ۔ اور تیسری جانب ہم “کافر ہندی ” جو نہ عرب ہیں اور نہ ہی فارسی لیکن بیگانہ کی شادی میں عبدللہ دیوانہ بن کر کبھی کسی کے اقدامات کی وکالت کرتے ہیں تو کبھی کسی کے حق میں نعرے لگاتے ہیں البتہ خود محض جنگ کے ایندھن سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے ۔


راقم کا “تومر” کے کلاس فیلوز اور ٹیچر کے ساتھ گروپ فوٹو

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *