پیج ندی کا مچھیرا۔۔۔صادقہ نواب سحر/تبصرہ :عمران عراقی

پیج ندی کا مچھیرا‘‘ صادقہ نواب سحر کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۳ میں ’’خلش بے نام سی‘‘ کے عنوان سے ایک افسانوی مجموعہ  منظرعام پر آ چکا ہے۔ دو ناول ’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘ اور ’جس دن سے‘‘ کے علاوہ صادقہ نے ایک ڈرامے کا مجموعہ ’’مکھوٹوں کے درمیان‘‘ بھی شائع  کیا ہے۔ جو بالترتیب ۲۰۰۸، ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۶ میں منظرعام پر آیا۔ گویا صادقہ نے فکشن کے میدان میں خوداعتمادی کے ساتھ اپنے قدم جما لیے ہیں۔ البتہ ادب کے عام طالب علم کی طرح صادقہ بھی اردو ادب میں شاعری کے دروازے سے ہی داخل ہوتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی شعری کائنات تا حال دو مجموعوں ’’انگاروں کے پھول‘ اور ’پھول سے پیارے جگنو‘‘ پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ دونوں مجموعے صادقہ کے فکشن کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل کے ہیں۔ پہلے ناول کی اشاعت کے بعد صادقہ فکشن کی طرف اب زیادہ مائل نظر آتی ہیں۔ مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرنے کے ساتھ صادقہ کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک زبان کی حد بندیوں سے آزاد مختلف زبانوں کو بھی اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ گو کہ یہ معاملہ طبع زاد سے زیادہ ترجمے کی شکل کا ہے۔ صادقہ نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز اردو زبان سے کیا اور اردو زبان کو ہی ذریعے معاش بھی بنایا۔ زندگی نے کروٹ بدلی تو شعبۂ ہندی ادب سے وابستہ ہو گئیں۔ اور ہندی ادب میں بھی اپنی ایک خاص پہچان بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ صادقہ نواب اردو اور ہندی کے ساتھ انگریزی، مراٹھی اور تلگو زبان کے ذریعے بھی اپنی تحریروں کو قارئین کے درمیان پہنچاتی رہتی ہیں۔

افسانوی مجموعہ ’’پیج ندی کا مچھیرا‘‘ ۲۰۱۸ میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں صادقہ نے ۱۲ افسانوں کے ساتھ ’’سنیے  تو سہی‘‘ کے عنوان سے اپنے گھر کے ادبی ماحول کی روداد بھی پیش کی ہے۔ اسی ماحول میں صادقہ کے ادبی ذوق نے سانسیں لیں اور انہیں پروان چڑھنے کے لیے سازگار ہوا ملی۔ لکھتی ہیں ’’گھر میں نیم ادبی اخبار و رسائل آتے تھے۔ تب بڑے شوق سے اس کی کہانیاں، فلمی ستاروں کی زندگی اور سوال جواب کے کالم گھر میں پڑھے جاتے تھے۔ سب کو دلچسپی تھی۔ والدہ بہت ہنستی اور خوش ہوتی تھیں کہ میں شاعری بڑی دلچسپی سے پڑھتی تھی۔ والد نے میرے شوق و ذوق کو تحریک دینے کے لیے کبھی کوئی کہانی سنائی اور اس کو اپنے طریقے سے لکھنے کو کہا او رکبھی موضوع دیے۔‘‘ (ص۔۹)

مجموعے کے ان بارہ افسانوں میں ’’سہمے کیوں ہو انکُش، وہیل چیئر پر بیٹھا شخص، راکھ سے بنی انگلیاں، ٹمٹماتے ہوئے دیے، شیشے کا دروازہ، پہاڑوں کے بادل، دیوار گیر پینٹنگ، اکنامکس، پیج ندی کا مچھیرا، اُلّو کا پٹھا، ہوٹل کے کاؤنٹر پر اور ٹوٹی شاخ کا پتّہ‘‘ شامل ہیں۔ ان تمام افسانوں کے موضوعات میں مختلف رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یوں بھی صادقہ موضوعات کے انتخاب میں عام زندگی کے ایسے واقعات کی طرف رخ کرتی ہیں جو بظاہر دیکھنے میں معمولی سے لگتے ہیں لیکن ان کی پیچیدگیاں نفسیاتی قسم کی ہوتی ہیں۔ ان میں کہیں اسکول کے طالب علموں کے درمیان ہونے والی نوک جھوک ہے تو کہیں ورائٹی اسٹور میں کام کرنے والی ایک چھوٹے شہر کی لڑکی کی نفسیاتی الجھنے ہیں۔ اس مجموعے میں بھی کئی ایک افسانے نفسیاتی نوعیت کے ہیں۔ صادقہ نے ان افسانوں کے بیانیہ میں بھی اسے ملحوظ رکھا ہے اور اس کا ٹریٹمیٹ بھی اسی نوع کا کیا گیا ہے۔

اس قبیل کے افسانوں میں ’’سہمے کیوں ہو انکُش، راکھ سے بنی انگلیاں، شیشے کا دروازہ، پیج ندی کا مچھیرا اور ٹوٹی شاخ کا پتّہ اہم ہے۔ ’’سہمے کیوں ہو انکُش‘‘ بچوں کی نفسیات پر مبنی ایک بے حد عمدہ افسانہ ہے۔ افسانے میں جس خوبصورتی سے انکُش کی شرارتی حرکتوں پر انکش لگانے کا کام کیا گیا ہے وہیں ایک ٹیچر کی ہوش مندی سے دو بچوں کے درمیان کے جھگڑے کو بڑی آسانی سے چند منٹوں میں سلجھانے کا بھی کام لیا گیا ہے۔ حالانکہ child abusing کی رو سے دیکھا جایے تو کہانی میں انکُش کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔ کیونکہ ٹیچر کا معاملے کو سلجھانے میں جس طریقے سے نفسیاتی رویہ اپنایا گیا ہے، وہ بچے کے ذہن پر تا عمر چوٹ کرنے والا عمل ثابت ہو سکتا ہے۔ بچوں کے ساتھ اس طرح کا نفسیاتی عمل، انہیں chronic depression کا شکار بھی بنا سکتا ہے۔ بچوں کے لیے کام کرنے والے خاص ادارے، کمیونیٹی اور اسکول اس طرح کے معاملات میں بچوں کی خاص مدد کرتے ہیں۔ جب کہ کہانی میں انکُش کے ساتھ جو زیادتی ہوتی ہے وہ اسکول کی ایک ٹیچر ہی انجام دیتی ہے۔ اسے کسی بھی طریقے سے مثبت رویہ کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہیں اسے افسانوی انداز سے دیکھا جایے تو یہی غیر مثبت رویہ کہانی کو قاری کے ذہن پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری طرف ’’ٹمٹماتے ہوئے دیے، پہاڑوں کے بادل، دیوار گیر پینٹنگ بھی کافی دلچسپ افسانے ہیں۔ یہ افسانے موضوع کے لحاظ سے آپ کو متاثر ضرور کرتے ہیں لیکن ان افسانوں کی دلچسپی موضوعات کی سطح پر جس طرح سے ہے، بیانیہ اور ٹریٹمینٹ کے انداز نے اسے تھوڑا کمزور بنا دیا ہے۔ افسانے میں تجسس کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے لیکن بعض دفعہ بیانیہ کی بنت سے ہی افسانے کے اختتامیہ کا احساس ہو جاتا ہے۔ جو قابل گرفت ہے۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح موضوعات کی سطح پر ان افسانوں میں رنگا رنگی دیکھنے کو ملتی ہے وہیں نیم تجسس سے بھرا سادہ بیانیہ ان افسانوں کو یک رنگی عطا کرتا ہے۔ گویا ایک کے بعد ایک پڑھتے ہوئے یہ افسانے ایک ہی جیسے معلوم ہوتے ہیں۔
مذکورہ باتیں مجموعے کا مجموعی تاثر ضرور ہیں لیکن علحدہ طور پر دیکھا جائے تو سہمے کیوں ہو انکُش، پہاڑوں کے بادل، دیوارگیر پینٹنگ، پیج ندی کا مچھیرا اور ٹوٹی شاخ کا پتّہ، بے حد اچھے افسانے ہیں۔ ان افسانوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی کافی گنجائش ہے۔ موضوع اور مواد کے ساتھ ٹریٹمینٹ کا انداز ان افسانوں کو متاثر کن بناتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ان افسانوں کو ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوگی۔
(صفحات: 152 ، قیمت: 150/- ، سنہ اشاعت: 2018
ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی)

مبصر: عمران عراقی (ریسرچ اسکالر) شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *