کچھ رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔علی اختر

کافی عرصہ ہوا دومختصر سی تحریریں نظر سے گزری تھیں ۔ ہمارے قومی رویہ کو سمجھنےمیں ان کو پڑھ کر بہت حد تک مدد ملے گی ۔

پہلی تحریرکچھ یوں تھی ۔

“اگر ہم سڑک پر کھڑے کسی موٹر سائیکل سوار کو موٹر سائیکل پر کک مارتا دیکھتے ہیں تو رک کر کہتے ہیں “بھائی  پلگ صاف کرلو ۔ کچرا آگیا ہوگا ”

دوسری کچھ  یوں تھی۔۔۔ ۔

“پڑوسی کی بیٹی کی شادی کی خبر سنتے ہی اکثر پاکستانی ری ایکشن کچھ یوں ہوتا ہے “لڑکی رکے گی نہیں ، دیکھ لینا دو مہینے میں طلاق ہو جائے گی ”

سچ تو یہی  ہے کہ  ہمارا زیادہ تر وقت لوگوں کی فکر میں گزرتا ہے  ۔آج ہی کی بات ہے ۔ افطار کا وقت قریب تھا اور میں فروٹ ، دہی وغیرہ لینے باہر نکلا تو ایک پرانا شناسا مل گیا ۔ کم و بیش دو سال بعد ملاقات ہوئی  ہوگی ۔ موصوف کے چہرے پر داڑھی، سر پر عمامہ تھا ۔ اچانک ملاقات ہوئی۔۔ ۔ پہلے تو میں پہچانا نہیں پھر پہچان کر گرمجوشی سے ملا حال احوال معلوم کرنے پر پتا چلا کہ صاحب مدنی چینل میں جاب کر رہے ہیں ۔ اچانک کہنے لگے “علی بھائی  ! ویسے یہ  آ پنے اچھا نہیں کیا ” ۔ میں  نے حیران  ہو کے  پوچھا۔۔۔بھئی میں نے ایسا کیا کر دیا ۔  ۔ تو میری داڑھی کی جانب اشارہ کیا کہ  “داڑھی چھوٹی کرا لی ہے ۔ یہ گناہ کا سبب ہے ” ۔ اب خود سوچیں ۔ پورے دن کا روزہ ہو ۔ گرمی کا موسم ہو ۔ بندہ عصر کی نماز پڑھ کے نکلا ہو ۔ باوضو بھی ہو ۔ خوشی خوشی افطار کی تیاری کر رہا ہو اور اچانک خوشخبری ملے کہ  “آپ یہ سب کرنے کے باوجود بھی گناہ گار ہی رہیں گے “۔۔۔۔ اندازہ کریں کہ  انکی یہ بے وقت ترغیب سننے والے کے اوپر کیا اثر ڈالے گی ۔ خیر میں نے ان پر کچھ ظاہر نہیں کیا اور دعا کی درخواست کی لیکن انہیں خود ہی میرے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ  انکی ترغیب میرے دماغ کا میٹر شارٹ کر چکی ہے ۔ سو خود ہی گویا ہوئے ۔ ” برا نہیں مانیے گا ۔ یہ ہمارا فرض ہے کے برائی  کی نشاندھی کریں ” اور روانہ ہو گئے ۔

اب   کے دوسرے افسوسناک واقعے کی جانب آتے ہیں ۔ داتا دربار کے قریب ایک بم حملہ ہوا ایلیٹ فورس کے چار اہلکار شہید ہو گئے ۔ ہر جانب سے مذمتی بیانات آئے ۔ اور آنے بھی چاہئیں ۔ کسی بھی معاشرہ میں ایسا افسوسناک واقعہ قابل مذمت ہی ہوگا ۔ ایسے میں ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ  “او مزارات پر جانے والو ! اگر یہ صاحب مزار کچھ کر سکتے تو آج یہ بم حملہ نہ ہوتا “۔ اب یہ پوسٹ بنانے والا اور اسکو شیئر اور لائک کرنے والے تھوڑا غور کریں کہ اگر آپ مزارات پر جانے اور منتیں مانگنے وغیرہ کے خلاف ہیں اور اپنے نظریہ کی ترویج بھی چاہتے ہیں تو کیا یہ وقت اور طریقہ کار مناسب تھا ۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ  مزارات پر حاضری دینے والے اور نہ دینے والے دونوں ہی کی نظر میں آپکا طریقہ کار نہایت غیر مناسب اور ناعاقبت اندیشی کا نمونہ ہی سمجھا جائے گا بلکہ کوئی  اگر آپکے نظریات و تبلیغ سے متاثر ہو بھی رہا ہوگا تو قوی امکان یہ ہے کہ  اس پوسٹ کو دیکھنے کے بعد زندگی بھر آپکی صفوں میں تو شامل ہونا پسند نہیں کرے گا ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ  ہم دوسروں کو جنت میں بھیجنے ، انکی دنیا و آخرت کی فکر کرنے سے پہلے اپنے عمومی رویوں کی درستگی اور سب سے پہلے اپنی قبر کی فکر کر لیں ۔ علما کرام ، سیاسی لیڈران وغیرہ بھی اپنے ماننے والوں کو خصوصی طور پر یہ تعلیم دیں کہ  کس وقت کس سے کیا کہنا ہے اور کس انداز سے کہنا ہے ۔ اللہ نے بھی اپنی کتاب میں لوگوں کو اللہ کے راستے کی جانب حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلانے کی تعلیم دی ہے ۔ سو ہمیں بھی کچھ سمجھنا چاہیے  اور اپنے آپ کو بدلنا چاہیے۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *